آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍ صفر المظفّر 1442ھ24؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اقوامِ متحدہ کہیں لیگ آف نیشنز نہ بن جائے!

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں 27ستمبر کو ہونے والا وزیراعظم عمران خان کا خطاب پاکستان اور کشمیری عوام کے نقطہ نظر سے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

جنرل اسمبلی ایک اہم عالمی فورم ہے۔ اس خطاب سے نہ صرف کشمیری عوام کا کیس بہتر انداز میں پیش کرنے کا موقع ملے گا بلکہ سفارتی محاذ پر پاکستان کے لئے حالات سازگار ہو سکتے ہیں۔

اس لئے یہ خطاب الفاظ، دلائل اور تدبر، دانش، ادائیگی اور قائدانہ جوہر کے اظہار کے حوالے سے انتہائی مضبوط ہونا چاہئے۔

موجودہ حالات میں اس خطاب کے انتہائی اہم ہونے کے درج ذیل اسباب ہیں۔ اقوامِ متحدہ کا اجلاس بہت ہی خراب حالات میں ہو رہا ہے۔ فلسطین کا مسئلہ، کشمیر کا مسئلہ، اور حال ہی میں امریکہ کا پیدا شدہ ایران سعودی عرب کا معاملہ جس میں امریکہ عرب امارات وغیرہ کو شامل کرنا چاہتا ہے اور جس سے کوئی بھی واقعہ بڑی جنگ کا مسئلہ بن سکتا ہے۔

امریکہ ہمیشہ اپنے براعظم سے دور جنگ تلاش کرتا ہے جس میں اس کا تجارتی پہلو بھی ہوتا ہے۔

پہلا سبب یہ ہے کہ یہ خطاب بھارت کے 5اگست کے اقدام کے بعد کیا جا رہا ہے، جس کے تحت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کو ختم کیا گیا اور اس دن سے مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اور لاک ڈائون جاری ہے۔

بھارت اپنی مسلح افواج کے ذریعے کشمیریوں کی تحریک کچلنے کی کوشش کر رہا ہے اور ایسے مظالم کا ارتکاب کر رہا ہے جن سے انسانیت شرما جائے۔

آرٹیکل 370کو ختم کرکے بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنا دیا ہے، جو اقوام متحدہ کی اس قرارداد کے منافی ہے جو جواہر لال نہرو خود اقوامِ متحدہ لے گئے تھے جس کے تحت کشمیریوں کو استصواب رائے کا حق دینے کا وعدہ کیا گیا۔

وزیراعظم عمران خان کا خطاب اس لئے بھی زیادہ اہم ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی برادری نے تشویش کا اظہار ضرور کیا ہے لیکن اس نے بھارت کے 5اگست کے اقدام کو غلط قرار نہیں دیا۔

تیسرا سبب اس خطاب کے اہم ہونے کا یہ ہے کہ بھارت کے 5اگست کے اقدام کے بعد پاکستان کو سفارتی محاذ پر جو کچھ کرنا چاہئے تھا، وہ بوجوہ نہیں ہو سکا۔

ہمارے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو 5اگست کے بعد مسلسل بیرونی ممالک کے دوروں پر رہنا چاہئے تھا لیکن وہ زیادہ تر پاکستان میں ہی رہے، ان سے زیادہ بیرونی دورے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اس دوران کئے ہیں۔

جینوا میں اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل کے اجلاس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر ضرور تشویش کا اظہار کیا گیا لیکن بھارتی اقدامات کی سخت الفاظ میں مخالفت یا مذمت نہیں کی گئی۔

وزیراعظم عمران خان کو جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں اپنے ملک کی سفارتی کمزوریوں کا بھی ازالہ کرنا ہوگا۔ اس حوالے سے بھی وزیراعظم عمران خان کا خطاب بہت اہمیت کا حامل ہے کہ یہ خطاب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے بعد ہو گا۔

جنرل اسمبلی سے دیگر عالمی رہنما بھی خطاب کریں گے۔ پاکستانی وزیراعظم کے خطاب کی اہمیت کا پانچواں سبب یہ ہے کہ اس خطاب سے پہلے یا بعد میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھارتی اور پاکستان وزرائے اعظم سے ملاقات کریں گے اور دونوں وزرائے اعظم کی اپنی موجودگی میں ملاقات کرانے کی بھی کوشش کریں گے۔

امریکی صدر مسلسل پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کرانے کی بات کر رہے ہیں۔

یہ اور بات ہے کہ اس ثالثی سے کوئی نتیجہ نہیں نکلے گا کیونکہ اگر بھارتی وزیراعظم مودی اس ثالثی کو قبول کرکے مذاکرات میں بیٹھتے ہیں تو وہ اپنے اس موقف سے پسپائی اختیار کریں گے کہ کشمیر بھارت کا اندرونی یا پاک بھارت باہمی معاملہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان اگر مذاکرات میں بیٹھتے ہیں تو بھارت یہ پروپیگنڈا کرے گا کہ پاکستان نے آرٹیکل 370ختم کرنے کے بھارتی اقدام کو تسلیم کرتے ہوئے مذاکرات کئے ہیں۔ بہر حال پاکستان کے لئے بہت سے چیلنجز ہیں۔

مذکورہ بالا اسباب سے واضح ہوتا ہے کہ جن حالات میں وزیراعظم عمران خان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں، ایسے حالات پاکستان کے کسی سربراہِ مملکت یا حکومت کو درپیش نہیں تھے، جنہوں نے جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔

وزیراعظم عمران خان کو خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کو یہ باور کرانا ہو گا کہ بھارت نے عالمی کمٹمنٹ سے انحراف کیا ہے اور کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق بھارتی یونین کا حصہ نہیں بلکہ متنازع علاقہ ہے۔

وزیراعظم عمران خان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر جاگنے والے عالمی ضمیر کو ایسی سمت دینا ہو گی کہ عالمی برادری اس حوالے سے فعال سفارتی اقدامات کرے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام کا کیس مدلل انداز میں پیش کرنا ہوگا۔

وزیراعظم عمران خان کو اپنی تقریر میں امریکی صدر، بھارتی وزیراعظم اور دیگر عالمی رہنماؤں کی تقریروں سے پیدا ہونے والے سوالات کا جواب دینا ہوگا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ لکھی ہوئی اور کچھ حصہ فی البدیہہ تقریر ہو جو دوسرے لیڈران کی تقاریر کے جواب میں ہو۔ اس کے لئے وزیراعظم کو اپنی تقریر کے لئے بہت زیادہ تیاری کرنا پڑے گی۔ خطاب کے نکات کی تیاری کے لئے وزارت خارجہ کے لوگوں کے ساتھ ان لوگوں سے بھی مدد لی جا سکتی ہے، جو حکومت یا ملازمت میں نہیں۔

اپوزیشن لیڈر سے مشاورت کی جاتی تو زیادہ بہتر ہوتا۔ ان حالات میں وزیراعظم کا خطاب کسی بھی طرح کمزور نہیں ہونا چاہئے۔

اگر اقوامِ متحدہ نے سنجیدہ فیصلے نہ کئے تو اس کا حشر بھی لگتا ہے کہ لیگ آف نیشنز جیسا نہ ہو۔ اِس نے ابھی تک جنگ کے کوئی معاملات حل نہیں کئے۔