آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل30؍ جمادی الثانی 1441ھ 25؍فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نیا تالا پرانی کنجی سے نہیں کھلتا

یہ واقعہ لاہور کا ہے۔

میرے ساتھ میرا دوست الطاف تھا ہم ایک تیسرے دوست طارق کے گھر مقررہ وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے چونکہ اس کے گھر کی کنجی الطاف کے پاس تھی اس لئے ہمیں کسی قسم کی فکر لاحق نہ تھی۔

وہ تالا کھولنے کی کوشش کرنے لگا۔ کافی دیر سے تالے کے ساتھ زور آزمائی کرنے کے بعد کہنے لگا ’’یقیناً یہ تالے کی خرابی ہے جس کی وجہ سے یہ نہیں کھل رہا، طارق کو بھی اس کے سوا کوئی تالا نہیں ملتا تھا۔ ساری کفایت اس کو بس تالے ہی میں کرنا تھی‘‘۔ اس کے بعد اس نے ملکی صنعت کو کوسنا شروع کردیا۔ ’’ہمارے صنعت کار صرف چیزوں کی شکلیں بناتے ہیں اور ان کو دکھا کر گاہک سے پیسے وصول کرتے ہیں‘‘۔ جھنجھلاہٹ میں طرح طرح کے الفاظ اس کی زبان پر آرہے تھے۔ اس کا غصہ اب اس مقام پر پہنچ چکا تھا کہ اگلا مرحلہ یہ تھا کہ تالا کھولنے کے لئے وہ کنجی کے بجائے اینٹ پتھر کا استعمال شروع کردے۔ اتنے میں ہمارا دوست طارق آگیا۔ ’’کیا تالا کھل نہیں رہا‘‘؟ اس نے کنجی اپنے ہاتھ میں لیتے ہوئے کہا۔ اچھا آپ غلط کنجی لگا رہے تھے، اصل میں آج ہی میں نے تالا بدل دیا ہے مگر کنجی چھلے میں ڈالنا بھول گیا۔ اس کی کنجی دوسری ہے‘‘۔ اس کے بعد اس نے جیب سے دوسری کنجی نکالی اور دم بھر میں تالا کھل گیا۔

میں نے سوچا ایسا ہی کچھ حال موجودہ زمانے میں مسلمانوں کا ہورہا ہے۔ موجودہ زمانے نے زندگی کے دروازوں کے تالے بدل دیئے ہیں مگر ان کا حال یہ ہے کہ پرانی کنجیوں کا گچھا لئے ہوئے تالوں کے ساتھ زور آزمائی کررہے ہیں اور جب پرانی کنجیوں سے نئے تالے نہیں کھلتے تو کبھی تالا بنانے والے اور کبھی سارے ماحول پر خفا ہوتے ہیں۔ ہمارے بیشتر قائدین کا یہ حال ہے کہ ہر ایک نے اپنے ذوق کے مطابق کچھ ’’مذہب دشمن‘‘ اور کچھ ’’وطن دشمن‘‘ تلاش کررکھے ہیں اور ان مفروضہ دشمنوں کی سازش کو مسلمانوں کی تمام مصیبتوں کا سبب سمجھتے ہیں مگر خدا کی دنیا میں اس سے زیادہ بے معنی بات اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ یہاں ہر قوم اور ہر شخص کو صرف اپنی کوتاہیوں کی سزا ملتی ہے۔ موجودہ زمانے میں ہماری اکثر مصیبتیں زمانے سے عدم مطابقت کی قیمت ہیں۔ اگر ہم اس عدم مطابقت کو ختم کردیں تو خودبخود موجودہ حالات ختم ہوجائیں گے۔ واقعت پسندی اور حقیقت نگاری کے دور میں جذباتی تقریریں اور تحریریں، اہلیت کی بنا پر حقوق حاصل کرنے کے دور میں رعایت اور رزرویشن کی باتیں۔ تعمیری استحکام کے ذریعے اوپر اٹھنے کے دور میں جلسوں اور جلوسوں کے ذریعے قوم کا مستقبل برآمد کرنے کی کوشش۔ سماجی بنیادوں کی اہمیت کے زمانے میں سیاسی سودے بازی کے ذریعہ ترقی کے منصوبے یہ سب باتیں اسی کی مثالیں ہیں۔ آج کا ’’نیا تالا‘‘ ان ’’پرانی کنجیوں‘‘ سے نہیں کھلتا۔ اس لئے دوسرا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہم جھنجھلاہٹ، غصہ اور مایوسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا اپنے ظلم اور تعجب کی وجہ سے ہمیں کچھ دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور اس المیے کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے زمانے کے تقاضے پورے نہیں کئے اس لئے زمانے نے بھی ہمیں اپنے اندر جگہ نہیں دی۔ بدلے ہوئے زمانہ میں ہم ایک پسماندہ قوم بن کر رہ گئے ہیں۔ اگر ہم چاہیں تو قومی زندگی کی تعمیر تھوڑے سے وقت میں بھی ہوسکتی ہے اور اس کے لئے زیادہ مدت بھی درکار ہوتی ہے، اس کا انحصار اس پر ہے کہ آپ کس قسم کی قوم تعمیر کرنا چاہتے ہیں۔ اگر قوم کے اندر فوری جوش پیدا کرنا مقصود ہے اگر محض منفی نوعیت کے کسی وقتی ابال کو آپ مقصد سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں اگر عوامی نفسیات کو اپیل کرنے والے نعرے لگا کر تھوڑی دیر کیلئے ایک بھیڑ جمع کر لینے کو آپ کام سمجھتے ہیں اگر جلوسوں کی دھوم دھام کا نام آپ کے نزدیک قوم کی تعمیر ہے تو اس قسم کی قومی تعمیر، اگر اتفاق سے اس کے حالات فراہم ہو گئے ہوں آناً فاناً ہوسکتی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ قوم کی تعمیر سے زیادہ قیادت کی تعمیر ہے کہ اس طرح کے شور و شر سے وقتی طور پر قائدین کو تو ضرور فائدہ ہو جاتا ہے مگر انسانیت کے اس مجموعی تسلسل کو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا جس کو قوم یا ملت کہتے ہیں۔ اگر ہم واقعی قوم یا ملت کی تعمیر کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ ہم شاہ بلوط کا درخت اُگانے اٹھے ہیں نہ کہ خربوزے کی بیل جمانے۔ اگر کوئی رہنما ایسے نعرے لگاتا ہے وہ یا تو اس کی سادہ لوحی کی دلیل ہے یا اس کی استحصالی ذہنیت کی۔ اور اگر کوئی قوم ایسی ہے جو لمبے انتظار کے بغیر اپنی تعمیر و ترقی کا قلعہ بنائے رکھنا چاہتی ہے تو اس کو جان لینا چاہئے کہ ایسے قلعے صرف ذہنوں میں بنتے ہیں، عالم واقع میں نہیں۔ اکثر لوگوں کے اندر صلاحیت موجود ہوتی ہے مگر اس کا فائدہ وہ صرف اس لئے نہیں اٹھا پاتے کہ وہ استقلال کے ساتھ دیر تک جدوجہد نہیں کر سکتے اور کسی کامیابی کیلئے لمبی جدوجہد فیصلہ کن طور پر ضروری ہے۔ زندگی کا راز ایک لفظ میں یہ ہے ..... جتنا زیادہ انتظار اتنی ہی زیادہ ترقی۔

ادارتی صفحہ سے مزید