آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 20؍ربیع الاوّل 1441ھ 18؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آخری دھیلا لٹانے کے لئے آئے ہیں

اگر 22کروڑ میں سے 20کروڑ غریب عوام ہوں جن میں سفید پوش، سیاہ پوش بے خور و نوش ہوں اور صرف دو کروڑ پوش و پوش ہوں تو یوں جو قوم تیار ہو گی وہ اپنی حالت بدلنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ووٹ کے ذریعے ہی کوشش کرے گی اس طرح کی کوشش تو وہ بار بار کر چکی ہے مگر دو کروڑ مسلسل اوپر اور باقی تمام نیچے جا رہے ہیں، حالت تو نہیں بدلتی البتہ معاشی تنگی کی بدلی اس زور سے برستی ہے کہ دل کے حجرے کی چھت بھی ٹپکنے لگتی ہے۔ حق حکمرانی بھی دو کروڑ کے حصے میں آتا ہے کہ وہی تو کروڑوں لگا کر اربوں کھربوں کماتے ہیں، مٹھی بھر امیروں اور ڈھیروں غریبوں کے اس جھمیلے میں 72برس سے غریب کو خالی اور امیر کو بھرا ہوا خزانہ ملتا ہے، یہ ہیں وہ رموز حکمرانی جو رموز خسروی تک پہنچا دیتے ہیں، ساغر صدیقی نے ادھ جلے کمبل کی اوٹ سے ایک گورستان میں ووٹ کے ذریعے اپنی حالت بدلنے والوں اور دولت کے بل بوتے پر اپنی حالت بدلنے والوں بارے کہا تھا

لوگ جس بزم میں آتے ہیں ستارے لے کر

ہم اسی بزم میں بادیدۂِ نم آتے ہیں

بہرحال میلہ لگا ہے، بیچنے والے بھی ہیں خریدنے والے بھی اور فقط دیکھنے والے بھی اور مزے کی بات ہے کہ اسی ہجوم یاس و امید میں دھیلے والے بھی ہیں دیکھتے ہیں وہ بھی کب تک دھیلا دھیلا کی صدا لگاتے ہیں، ہم آخر برُا کسے کہیں کہ برائی کے معیار سے بھی گزر گئے ہیں، اصلاح بھی اگر یکدم مسلط کی جائے تو خرابی پیدا ہوتی ہے مگر یہاں تو

زندگی ہے یا اصلاحات کا طوفان ہے

ہم تو اصلاحات کے ہاتھوں مر چلے

٭٭٭٭

حق کی آڑ میں بگاڑ

شاید یہ برصغیر کے خمیر میں ہے کہ اچھائی کے نام پر برائی کرو، ہم خرما و ہم ثواب ملے گا، اگر 72برس گزر گئے ہم اپنی شہ رگ نہیں چھڑا سکے تو ہماری رگوں میں خون نہیں پانی دوڑے گا، بادی النظر میں اسے خون کا سفید ہو جانا کہتے ہیں، ایک عجیب سی بات ذہن میں آئی ہے کہ شاید ہم امیری کے بجائے غریبی ہی میں نام پیدا کر سکتے ہیں، علامہ صاحبؒ نے بھی جاوید اقبال کو یہی کچھ لکھ بھیجا تھا، بہرصورت یہ جو حق کے نام پر ناحق کا دور دورہ ہے، اس نے ہی پورے معاشرے کا مائنڈ سیٹ استحصالی بنا دیا ہے، اور اب تو نیکی کا نام ہم پر اس قدر غالب آ گیا ہے کہ گویا ہر طرح کی برائی کا پرمٹ مل گیا ہے، منظر اس قدر واضح ہے کہ نام لینے کی ضرورت ہی نہیں، سرفہرست اپنا ہی نام لکھ دیں باقی سارے نام بھی شامل ہو جائیں گے۔ منافقت دراصل بہانے کی سہیلی ہے، فطرت حیلہ جُو ہے نہ بہانہ ساز، دیکھتے نہیں ہاڑ کے بعد اساڑھ اور پھر ٹھنڈی میٹھی برسات، ہم نے برسات کے نام پر آگ برسائی، مہنگائی اتنی چڑھائی کہ ہر ذی روح نے دی دہائی ان صاحب کی بھی بلاشبہ نیت نیک تھی، وہ ایسی تبدیلی لائے کہ پہلی تبدیلیاں اچھی لگنے لگیں، منیر نیازی کا شعر کھینچ تان کر حالات پر فٹ بٹھایا جا سکتا ہے

غم کی بارش نے بھی ’’تیرے‘‘ نقش پا کو دھویا نہیں

’’تو‘‘ نے مجھ کو کھو دیا، میں نے تجھے کھویا نہیں

وضو کتنا ہی مکمل کیوں نہ ہو نماز ناقص ہو تو قبول نہیں ہوتی، شاید من حیث القوم ہماری نیت باوضو نہیں۔ برکت، قبولیت، خوشحالی کیوں ہمارے در پر دستک دے اب تو حافظ شیرازی کی زبان میں اتنا کہہ سکتے ہیں

یا رب! دعائے خستہ دلاں مستحاب من

(اے خدایا!شکستہ دلوں کی دعا قبول فرما)

٭٭٭٭

پرنٹ میڈیا

پرنٹ میڈیا کا اپنا ہی مزا ہے، 20روپے دو اور پورا میڈیا خرید لو، یہ دستاویزی ثبوت بھی ہے، کوئی خبر پڑھ کر بار بار سمجھنے کی سہولت اس کے علاوہ، جو بات لفظ میں ہے تصویروں میں کہاں، لکھنے، پڑھنے والا دونوں یکساں لطف اٹھاتے ہیں، اس کے اشتہارات سے مستفید ہونے کا حق بھی محفوظ رہتا ہے۔

تصویری اشتہار تو بس ایک رقص شرر ہوتا ہے، حُسن یاد رہ جاتا ہے، اشتہار بھول جاتا ہے، اگر مفید وقت گزاری کی ضرورت پڑے تو ایک اخبار ’صبح کرنا شام کا‘ کے لئے کافی ہے، اور صبح تا شام بھی 12صفحات 12گھنٹے لے جاتے ہیں، بھانت بھانت کی معلومات کا تو رَٹا بھی لگایا جا سکتا ہے، مگر بھلا ہو حکومت کا کہ پرنٹ میڈیا کو اس قدر مضمحل کر دیا کہ

گو ہاتھ میں اشتہار نہیں جنوں میں تو دم ہے

رہنے دو ابھی قلم و قرطاس مرے آگے

زبوں حالی ٔ اخبارات کے اس دور میں پرنٹ میڈیا کو مفت میڈیا کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا۔ اس وقت تین قسم کے میڈیاز گردش میں ہیں، پرنٹ میڈیا درمیان میں واقع ہے اور بلھے شاہ کا یہ قول صادق آتا ہے کہ

نہ اگلی توں نہ پچھلی توں

میں صدقے جاواں وچلی توں

سوشل میڈیا بہت اچھا مگر اس کی لگام نہیں۔

٭٭٭٭

قائد کا پاکستان کہاں ہے؟

....Oآزادی مارچ، مذاکرات کا آپشن کھلا۔

ڈر کی ایک ایسی قسم بھی ہوتی ہے کہ خوفزدہ پر نڈر ہونے کا گمان گزرتا ہے۔

....Oشاہد خاقان عباسی:نیب ابھی تک میرے خلاف کیس ہی نہیں بنا پائی۔

یہ تو پھر بھیڑیئے اور میمنے کا کھیل ہوا کیس سازی تو نہ ہوئی، نیب کو چاہئے کہ اپنی اس ادا پر بھی ذرا غور کرے۔

....Oآزادی مارچ کی تیاریاں زوروں پر۔

کیا ایک اور نیا پاکستان بننے چلا ہے؟ قائداعظم کا پاکستان کدھر ہے؟

٭٭٭٭

ادارتی صفحہ سے مزید