آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات23؍ ربیع الاوّل 1441ھ 21؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

نواز شریف کی ذاتی معالج سے ملاقاتوں کی تفصیل سامنے آگئی

نواز شریف کی ذاتی معالج سے ملاقاتوں کی تفصیل سامنے آگئی
فائل فوٹو

سابق وزیراعظم نواز شریف کی قومی احتساب بیورو( نیب) کی تحویل کے دوران اپنے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے ملاقاتوں کی تفصیل سامنے آگئی۔

نیب ذرائع کے مطابق گیارہ روزہ حراست کے دوران نوازشریف نے 3 مرتبہ ڈاکٹر عدنان اور 2 مرتبہ شہباز شریف سے ملاقات کی جبکہ وہ اپنے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر ، نواسوں اور گھریلو ملازم سے بھی ملے۔

نواز شریف زیر علاج، پلیٹ لیٹس 2 ہزار رہ گئے

سابق وزیراعظم نواز شریف سروسز اسپتال لاہور میں...

نیب ذرائع کے مطابق نواز شریف کی گرفتاری کے روز (11 اکتوبر کو) ہی ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان سے ملاقات کروائی گئی۔

نیب ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عدنان 11 اکتوبر کو نواز شریف کے معائنے کیلئے فوراً پہنچے اور تقریباً ایک گھنٹے تک ان کا معائنہ کیا۔

یہ بھی پڑھیے:حکام نے میڈیکل رپورٹس ردی کی ٹوکری میں پھینک دی

ڈاکٹر عدنان کی نواز شریف سے نیب لاہور میں دوسری ملاقات 19 اکتوبر کو کروائی گئی جو 30 سے 40 منٹ تک جاری رہی۔

نیب ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں ڈاکٹر عدنان نے نواز شریف کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں دی جانے والی ادویات کا بھی مفصل جائزہ لیا۔

نیب ذرائع نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر عدنان نے گذشتہ روز بھی دوپہر سے شام تک میاں نواز شریف سے ملاقات کی اور ان کا معائنہ کیا، ڈاکٹر صاحب اپنے ساتھ ایکسرے اور ای سی جی مشینیں لانا چاہتے تھے جس کی اجازت دی گئی۔

نواز شریف نیب لاہور میں حراست کے دوران مکمل طور پر گھر کا فرمائشی کھانا کھاتے رہے ہیں۔

میاں نواز شریف اپنے ذاتی معالج کی تجویز کردہ دوائیں ہی استعمال کرتے رہے ہیں، اس دوران انہوں نے سرکاری ڈاکٹروں کو معائنہ کروانے سے یکسر انکار بھی کیا۔

نیب ذرائع کے مطابق نواز شریف، شریف میڈیکل کی نرسز اور ڈاکٹر عدنان سے ہر قسم کے علاج اور دواؤں پر اصرار کرتے رہے ہیں۔

لیب و دیگر ٹیسٹ کے بعد ڈاکٹرعدنان کی درخواست پر نواز شریف کو اسپتال منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

شہباز شریف کی میاں نواز شریف سے ملاقات کی درخواست کو بھی فوری منظور کر لیا گیا، جنہوں نے اپنے بڑے بھائی کو اسپتال منتقل ہونے کے لیے آمادہ کیا۔

نیب کی ٹیم گذشتہ رات گیارہ بجے کے قریب شہباز شریف کی موجودگی میں نوازشریف کو لے کراسپتال روانہ ہوئی۔

میاں نواز شریف علاج معالجے کے معاملے میں نیب حکام کے سامنے متعدد شرائط رکھتے رہے، وہ ڈاکٹر عدنان اور شریف اسپتال کی نرسز کے سوا کسی دوسرے سے علاج کروانے سے انکار کرتے رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید