آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی کی قدیم جڑواں بستیاں کھارادر و میٹھادر

عبدالغفور کھتری

زندگی کی رعنائیوں سے بھر پور حال کی کچھ بستیاں اپنے پیچھے حیران کن ماضی رکھتی ہیں ۔ یہ حیرانگی اس وقت مزید بڑھ جاتی ہے جب کوڑیوں کے مول بکنے والی دلدلی زمین رفتہ رفتہ اپنےمول میں ہندسوں کے آگے صفروں کا اضافہ کرتی چلی جائے۔یہ ہیں کراچی کی قدیم جڑواں بستیاں ’’کھارا در و میٹھادر‘‘ میری ویدر ٹاور سے کیماڑی جانے کی بجائے اگر سیدھے ہاتھ پر مڑ جائیں تو ’’کھارا در اور میٹھا در‘‘ کے نام سےکراچی کے وہ تاریخی علاقے شروع ہو جاتے ہیں، جنہیں 1729 میں کیماڑی کے ساحل کے قریب مچھیروں ، تاجروں اور دوسرے ہنر مندوں کی پہلی رہائشی بستی بننے کا اعزاز ہے۔

اس بستی کے بسنے کے عوامل کچھ اس طرح ترتیب پائےکہ ’’بلوچستان میں بہنے والی حب ندی کے آخری سرے پر ’’کھارک بندر‘‘ نامی سمندری بندر گاہ جب ریت سے اٹ گئی، تو وہاں کے تاجر ’’بھوجومل‘‘ نے 1729ء میں اپنا در آمدی و برآمدی کاروبار کھارک بندر سے کراچی منتقل کر دیا۔ اس وقت اس کا نام ’’دربو‘‘ تھا۔

ان کی تقلید میں ٹھٹھہ کے قریب ’’شاہ بندر‘‘ کے تاجر اور مکیں بھی یہاں آگئے۔ اس دوران گزری بندر اور دوسرے چھوٹے بندر سمندر کے پیچھے ہٹنے کے سبب اپنی اہمیت کھوننے لگے۔ تو بندر گاہ سے وابستہ کاروبار کیماڑی کے قریب اس بستی میں سمٹ آیا۔ ان دنوں کراچی پرخان آف قلات کی حکومت تھی۔

ان بستیوں کے نام کھارے اور میٹھے دروازوں کے نام پر کیوں اور کس طرح رکھے گئےتو اس کی وجہ یہ ہے کہ قدیم زمانوں میں حفاظت کی خاطر آبادی کے چاروں طرف مٹی کی اونچی اونچی فصیلیں قائم کی جاتی تھیں۔دستور کے مطابق اس بستی کے بھی چاروں اطراف میں مٹی کی اونچی فصیلیں قائم کی گئیں، اورفصیل بھی اتنی جوڑی کہ اس پر دو بیل گاڑیاں آسانی سے آجا سکتیں۔حفاظتی فصیل میں آمدو رفت کی خاطر دو دروازے رکھے گئے۔ سمندری پانی کی طرف کھلنے والے دروازے کو ’’کھارا در‘‘ (یعنی کھارا دروازہ) اور لیاری ندی سے بہہ کر آنے والے پانی کےرخ پر پڑنے والے دروازے کو میٹھا در (یعنی میٹھا دروازہ ) کا نام دیا گیا۔

کراچی کے مغرب میں اٹھارویں صدی میں قائم ہوئی یہ فصیل بند آبادی اپنے آپ میں مگن زندگی گزار رہی تھی۔ اس آبادی کے کئی لوگوں کو یہ علم ہی نہ ہو گا کہ ان کے تین سمتوں میں قریب ہی صدیوں قدیم آبادیاں موجود ہیں۔وقت کا پہیہ گھومتا رہا۔ اور 1839ء میں انگریزوں نے کیماڑی کے راستے کراچی پر قبضہ کر لیا۔

تاجرانہ ذہن کے مالک انگریز کراچی کی عالمی جغرافیائی حیثیت سے واقف تھے اور انہوں نے آتے ہی کراچی کی بندرگاہ پر ترقیاتی کاموں کا آغاز کر دیا۔

یوں دیکھتے ہی دیکھتے نہ صرف اندرون سندھ بلکہ دور دروازے سے لوگ روز گار کی غرض سے اس طرف آنے لگے۔

قلعہ بند فصیل کے اندر رہائش کےلئےکوئی زمین نہ بچی تو سوا سو سال قبل تعمیر کی گئی فصیل کی اونچی دیواروں کو 1860 میں انگریزوں نے توڑ کر اردگرد رہائش اختیار کرنے کی اجازت دے دی، مگر ان دروازوں کے قریب آبادی کے علاقہ ’’کھارا در اور میٹھا در‘‘ کے اسی نام سے پہچانا جانے لگا۔

ریمیاٹ روڈ اسی فصیل کی یاد گار ہے، چونکہ یہ دیوار دائرہ نما تھی۔ لہٰذا یہ سڑک بھی خم کھائی ہوئی ہے۔ دیوار کےباہر جو سڑکیں بنائی گئیں، ان میں نیونہم ،، چھاگلہ اسٹریٹ اورمولہجی اسٹریٹ کے علاوہ کئی گلیاں، کوچے اور سڑکیں نکالی گئیں۔

وسیع رقبے پرپھیلے ہوئے تنگ ، ٹیڑھی میڑھی اور سیڑھیوں کےزینے رکھنے والی اونچی نیچی گلیوں کے حامل اس علاقے کو یہ فخر حاصل ہے کہ وہ جدید کراچی کی اولین آبادی میں شمار ہوتاہے۔چٹخاروں اور رت جگے کی تفریح کے دلدادہ لوگوں کے اس علاقےمیں رات بڑی دیر سے اترتی ہے۔ جابجا رات گئے بزرگوں اور نوجوانوں کی الگ الگ محفلیں سجی ہوتی ہیں۔ چہل پہل کےباعث رات کے گزرتے پہروں کا یہاں پتہ نہیں چلتا۔

میٹھا در اور کھارا در سمیت کراچی کے قدیم علاقوں کیماڑی، لی مارکیٹ، بھیم پورہ، حاجی کیمپ اور صدر میں رہائش پذیر کچھی میمنی اور دیگر گجراتی زبانیں بولنے والی قومتیں تین سو سے پانچ سو سال قبل سندھ کے مختلف علاقوں میں آباد تھیں، پھر سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی کے دوران سندھ میں اقتدار کےحصول کی خاطرخون ریز جنگوں نے اس کی معیشت کو بڑی حد تک کمزور کر دیا تو روزگار کی تلاش میں ان قبیلوں کی اکثریت کا ٹھیاواڑ ، کچھ کے دیگر علاقوں کی طرف ہجرت کر گئی۔مگر یہ ہجرت ان کو کچھ راس نہ آسکی، کیوں کہ وہاں قدرتی آفات نے بھی ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔1818ء میں گجرات اور کچھ میں زلزلے کی صورت میں آنے والی افتاد نے انہیں بے سہارا کر دیا۔

اور1848ء،1869 ء ، 1899ء میں شدید خشک سالی کی وجہ سے قحط پڑ گیا۔یوں ان کی اکثریت نے کراچی کا رخ کیا۔اتفاق سے ان دنوں کراچی پر انگریزوں کےقبضے کے بعد ترقیاتی کاموں کا آغاز پر انہیں یہاں روز گار کی سہولتیں میسر آگئیں۔ 

ہم کہہ سکتےہیں سولہویں اور سترھویں صدی عیسوی میں سندھ سے ہجرت کر نےوالوں کو ڈھائی تین سو سالوں بعد گردش ایام نے انہیں واپس ان کے آبائی علاقوں میں بھیج دیا۔ اس کے علاوہ 1947ء میں قیام پاکستان کے بعد بھی ان علاقوں کی کئی قومیتوں نے کراچی ہجرت کی۔

کولاچی کراچی سے مزید