شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے 2026ء کے پارلیمانی انتخابات میں بھاری کامیابی حاصل کر لی، جہاں سرکاری میڈیا کے مطابق حکمراں جماعت نے تقریباً تمام نشستیں جیت لیں۔
سرکاری الیکشن کمیشن کے مطابق ورکرز پارٹی آف کوریا اور اس کے اتحادیوں نے 99.93 فیصد ووٹ حاصل کیے، جس کے نتیجے میں 15 ویں سپریم پیپلز اسمبلی کے تمام 687 ارکان منتخب ہو گئے۔
15 مارچ کو ہونے والے ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ 99.99 فیصد بتایا گیا ہے، جو کہ غیر معمولی حد تک زیادہ ہے۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف 0.0037 فیصد ووٹرز ووٹ نہیں ڈال سکے، جس کی وجہ ان کا بیرونِ ملک یا سمندر میں ہونا بتائی گئی، جبکہ صرف 0.00003 فیصد افراد نے ووٹ دینے سے انکار کیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ سرکاری میڈیا نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ 0.07 فیصد ووٹرز نے امیدواروں کے خلاف ووٹ دیا، جسے ماہرین ایک پروپیگنڈا حکمتِ عملی قرار دیتے ہیں تاکہ انتخابی عمل کو بظاہر جمہوری دکھایا جا سکے۔
نو منتخب اسمبلی کا اجلاس 22 مارچ کو طلب کیا گیا ہے، جس میں سوشلسٹ آئین میں ترمیم پر غور کیا جائے گا، توقع ہے کہ اس اجلاس میں جنوبی کوریا کے خلاف سخت مؤقف کو آئینی شکل دی جائے گی اور کم جونگ ان کو دوبارہ اسٹیٹ افیئرز کمیشن کا سربراہ منتخب کیا جائے گا، جس سے ان کی طاقت مزید مضبوط ہو جائے گی۔
ماہرین کے مطابق شمالی کوریا کے انتخابات روایتی جمہوری نظام سے مختلف ہوتے ہیں، جہاں نتائج پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں اور حکمراں قیادت کی گرفت مزید مضبوط ہو جاتی ہے۔