آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ26؍ جمادی الاوّل 1441ھ 22؍ جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خبر یہی ہے کہ مولانا فضل الرحمٰن کو ’’ضرورت مند‘‘ استعمال کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ لطف کی بات ہے کہ مولانا کو اس بات کا کوئی دکھ بھی نہیں۔

شاید اتنے نذرانے انہیں زندگی بھر نہیں ملے،جتنے پچھلے ایک ماہ میں اُن کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ سب سے زیادہ نذرانہ ’’اہلِ شرف‘‘ کی طرف سے ملا۔ پچھلی بار جب شریف فیملی کے ساتھ قطر میں مذاکرات کی اطلاع عمران خان تک پہنچی تو انہوں نے کہا کہ ’’میں مستعفی ہو رہا ہوں‘‘۔ آدھی رات کے وقت جہانگیر ترین کو سویا ہوا جگایا گیا۔

وہ بھاگم بھاگ عمران خان کے پاس پہنچے۔ کہتے ہیں روشنی ہونے تک گفت و شنید جاری رہی۔ آخر کار طے پایا کہ نواز شریف اور مریم نواز پلی بارگینگ کی فلائٹ پر ملک سے باہر چلے جائیں تو انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

اگلے دن عمران خان نے تقریر کرتے ہوئے کہہ دیا کہ نواز شریف اور آصف علی زرداری پیسے دے دیں اور ملک سے باہر چلے جائیں مگر وہ دونوں اس فلائٹ پر سفر کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔

  انہیں معلوم تھا کہ اس جہاز کو سیاسی سطح پر موت کے جرائر میں خوش آمدید کہا جائے گا۔ اب توقع ہے کہ نواز شریف واپس جیل نہیں جائیں گے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ کسی وقت بھی کسی خصوصی طیارے پر لندن کے لئے پرواز کر جائیں گے اور وہ طیارہ بھی وزیراعلیٰ پنجاب کا ہو سکتا ہے۔ وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کہہ چکی ہیں کہ ’’اگر نواز شریف بیرونِ ملک علاج کا کہیں گے تو انکار نہیں ہوگا‘‘۔ توقع ہے کہ عدالت بھی بیماری کے سبب نواز شریف کو ضمانت پر رہا کر دے گی۔

مگر عجیب بات یہ ہوئی کہ دوسری طرف رات کو 3بجے ہی جیل حکام سروسز اسپتال مریم نواز کو لینے کیلئے پہنچ گئے۔ جیل حکام کا کہنا تھا کہ مریم نواز کے بنیادی ٹیسٹ ہو چکے ہیں جن کی رپورٹس نارمل آئی ہیں، حکومت کا حکم ہے کہ انہیں فوری طور پر جیل منتقل کیا جائے۔ جیل حکام کی جانب سے مریم نواز کی گرفتاری کے مطالبے کی سروسز اسپتال انتظامیہ نے مخالفت کی، ڈاکٹرز نے کہا کہ مریم نواز کے مزید ٹیسٹ باقی ہیں، ابھی انہیں ڈسچارج نہیں کیا جا سکتا۔

جیل حکام اور ڈاکٹرز کے درمیان کئی گھنٹے تک مذاکرات ہوتے رہے۔ طلوع آفتاب کے وقت ڈاکٹرز نے ہتھیار ڈال دیئے اور جیل حکام مریم نواز کو لے کر جیل روانہ ہو گئے۔

بے شک اس مرتبہ نواز شریف سچ مچ بیمار ہیں۔ ان کے خون کے سفید خلیے جو جسم میں تقریباً چار پانچ لاکھ ہوتے ہیں، وہ سولہ ہزار تک پہنچ گئے۔ علاج کیا گیا تو ان خلیوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچی مگر پھر یک لخت گری اور سات ہزار پر آگئی۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت عطا فرمائے۔

ابھی پچھلے دنوں میرے دوست تنویر حسین ملک بھی مرتے مرتے بچے ہیں۔ انہیں ڈینگی نے کاٹ لیا۔ سفید خلیے گرتے گرتے اکتیس ہزار تک آگئے۔ بے ہوشی کی حالت میں انہیں اسپتال پہنچایا گیا۔

دوائوں اور دعائوں سے واپسی کا سفر شروع ہوا۔ الحمدللہ اس وقت وہ مکمل طور پر صحت یاب ہیں۔ راولپنڈی کے ہولی فیملی اسپتال کے ڈینگی وارڈ میں اُن کے ساتھ ایک اور نوجوان مریض تھا۔ اس کے خلیے بیس ہزار سے تھوڑے سے کم ہوئے تو اسے خون آنے لگا۔ ڈاکٹرز کی تمام تر کوشش کے باوجود اسے نہیں بچایا جا سکا۔ یعنی جتنے سفید خون کے خلیے نواز شریف کے بتائے جا رہے ہیں۔ وہاں تو صرف دعائیں کام آتی ہیں۔

زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ نواز شریف کو اگر ڈینگی مچھر نے نہیں کاٹا تو ان کے پلیٹ لیٹس کیسے اتنی تیزی کے ساتھ گر ے ہیں۔

کیا اس میں بھی کہیں کوئی سازش تو نہیں ہوئی۔ نون لیگ کی طرف سے انہیں زہر دینے کےخدشے کا بھی اظہار کیا گیا۔ ایک نقطہ نظر اس کے برعکس بھی ہے۔ جیل کے حکام کے مطابق نواز شریف کو یہ بیماری ان کے فیملی ڈاکٹر کی طرف سے دی گئی کسی دوائی سے ہوئی ہے۔

کچھ ڈاکٹرز کو اس بات پر بھی حیرت ہےکہ اتنے کم پلیٹ لیٹس ہو جانے کے باوجود اب تک ان کے اندر سے خون آنا نہیں شروع ہوا، وہ بے ہوش نہیں ہوئے بلکہ گفتگو بھی کررہے ہیں اور مذاق بھی۔ اپنے پلیٹ لیٹس کی رپورٹ دیکھ کر انہوں نے کہا ’’یہ میرے بلڈ ٹیسٹ کا رزلٹ ہے یا الیکشن کا‘‘۔ نواز شریف کا قصہ کیا ہے، یہ تو خدا جانتا ہے مگر لوگ کہہ رہے ہیں کہ جس حد تک ممکن ہے عمران خان پر اُس حد تک مسلسل دبائو بڑھایا جا رہا ہے۔

وزیراعظم ہائوس تک اگر ایسی رپورٹیں پہنچیں گی کہ تین لاکھ افراد اس وقت اسلام آباد پہنچ چکے ہیں اور وہ اپنے عزیزوں، رشتہ داروں، دوستوں کے گھروں اور مدارس میں رہ رہے ہیں تو وزیراعظم یہی کہے گا نا کہ ’’میں منتخب وزیراعظم ہوں، استعفے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بالکل استعفا نہیں دوں گا‘‘۔

ابھی پُرامن احتجاج کی اجازت حکومت سے دلوا دی گئی ہے۔ عمران خان کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ کچھ غلط نہیں ہوگا۔ بس وہ لوگ چار پانچ دن رہیں گے۔ ایک بستر، ایک کمبل، دو جوڑے کپڑے، خشک میوہ جات، چنے اور پانی ساتھ ہوگا۔ نعرے لگائیں گے تقریریں سنیں گے اور واپس چلے جائیں گے۔ کسی کو لائسنس یافتہ یا غیر لائسنس یافتہ ہتھیار، چاقو، ڈنڈا یا لاٹھی رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔

انہیں احتجاج کے لئے پریڈ گراونڈ فراہم کیا گیا ہے مگر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ پریڈ گراؤنڈ سے نکل کر اسمبلی کی طرف چلے پڑے تو کیا ہوگا اور وہ یقیناً ایسا کریں گے، یعنی دبائو اور بڑھا دیا جائے گا۔ کئی اور باتیں بھی منوائی جائیں گی۔ خاموش مطالبات میں عثمان بزدار کا استعفا بھی شامل ہے۔

یہ دعوی بھی سامنے آیا کہ مولانا فضل الرحمٰن آزادی مارچ کا اعلان کرنے سے پہلے آرمی چیف سے ملے، مجھے اُن کے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں مگر ملاقات کے خفیہ رکھنے پر تشویش ضرور ہے۔

یقیناً آرمی چیف نے انہیں سمجھایا ہوگا کہ اس وقت ملک کہ حالات ایسے نہیں کہ وہ کسی دھرنے کا متحمل ہو سکے۔ مولانا نے آرمی کے بارے میں سوشل میڈیا پر جو زبان استعمال کی وہ ناقابلِ معافی ہے۔ مجھے مولانا کا مستقبل بہت تاریک نظر آرہا ہے۔ کہتے ہیں جیلیں مردوں کے لئے ہوتی ہیں۔