• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرنیٹ کی دنیا میں اپنی خدمات فراہم کرنے اور اپنی مصنوعات فروخت کرنے والی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہے جس کی کامیابی کا سفر 2 دہائیوں پر مشتمل ہے۔

1998 میں قائم ہونے والی یہ امریکی کمپنی نہ صرف سرچ انجن کے حوالے سے اپنی شہرت رکھتی ہے بلکہ اس کے علاوہ بھی اس کی ایسی مصنوعات موجود ہیں جس سے ٹینکالوجی کی دنیا میں انسان کو بیش بہا فائدہ پہنچا رہی ہیں۔

یہاں گوگل کی ایسی قابل ذکر پروڈکٹ کا ذکر کیا جارہا ہے جو اس نے خود نہیں بنائیں بلکہ انہیں بنانے والی کمپنیوں سے خرید کر اپنی کمپنی کا حصہ بنالیا۔


اینڈرائڈ


گوگل نے سب سے پہلے جس پروڈکٹ کو خرید کر اپنا حصہ بنایا وہ اینڈرائیڈ موبائل سسٹم ہے، یہ سسٹم سب سے پہلے اینڈرائڈ ان کارپوریشن نے 2003 میں بنایا تھا۔

اینڈرائڈ سسٹم بنانے والوں اینڈی رابن، رچ مائینر، نک سیئرز اور کرس وائٹ کو یہ سسٹم خریدنے کے لیے پہلے 10 ہزار امریکی ڈالر کی پیشکش موصول ہوئی جس پر انہوں نے پیشکش دینے والوں کو جواب دیا کہ وہ اپنی اس ایجاد پر یقین رکھتے ہیں۔

پہلے یہ سسٹم کیمروں کے لیے بنایا گیا تھا، لیکن بعد میں اسے موبائل چلانے والے سسٹم میں تبدیل کردیا گیا تھا۔

گوگل نے اسے 2005 میں 5 کروڑ ڈالر میں خرید لیا تھا جبکہ اس کے چاروں بانیان معاہدے کے مطابق گوگل کا حصہ بن گئے۔


یوٹیوب


گوگل کی دوسری پروڈکٹ اپنی تعریف کی محتاج نہیں، اور انٹرنیٹ استعمال کرنے والا تقریباً ہر صارف ہی یوٹیوب سے ہم آہنگ ہے۔

یہ ویڈیو شیئرنگ پلیٹ فارم بھی گوگل نے نہیں بلکہ اسٹیو چین، چڈ ہرلے اور جاوید کریم نامی نوجوانوں نے مل کر 2005 میں بنائی تھی۔

اس حوالے سے اس کے مالک جاوید کریم کہتے ہیں انہیں اس ویب سائٹ کا آئیڈیا 2004 کے سونامی کے بعد آیا جب ایک وقت میں بہت زیادہ ویڈیوز جمع کرنا مشکل تھا تو انہوں نے ایک آن لائن ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ بنانے کے بارے میں سوچا۔

گوگل نے اس ویب سائٹ کو 9 اکتوبر 2006 کو ایک ارب 65 کروڑ ڈالر میں خریدا اور اس کے بعد سے یہ اسی کی ملکیت ہے۔


ڈبل کلک


گوگل کی خریدی گئی تیسری بڑی کمپنی ڈبل کلک ہے، جسے انٹرنیٹ جائنٹ نے 2008 میں 3 ارب 10 کروڑ ڈالر کے عوض خریدا تھا۔

ڈبل کلک نامی یہ کمپنی انٹرنیٹ پر اشتہارات کی سروس فراہم کرتی ہے جسے کیون او کونر اور ڈیویٹ میری مین نے 1995 میں بنایا تھا۔

اس پروڈکٹ کی کہانی دیگر پروڈکٹ سے اس لیے مختلف ہے کیونکہ اسے گوگل سے پہلے ہی جولائی 2005 میں ہیل مین اینڈ فرائیڈمین اور جے ایم آئی ایکویٹی نے شراکت داری میں خرید لیا تھا جس کے بعد گوگل نے اسے حاصل کیا۔


ایڈموب


ایڈموب دراصل ایڈورٹائزنگ آن موبائل یعنی موبائل فون پر اشتہارات کا مخفف ہے اور یہ ادارہ موبائل پر اپنے کلائنٹس کے اشتہارات پہنچانے کا کام کرتا ہے۔

ایڈموب کو ایک شام سے تعلق رکھنے والے عمر ہموئی نے 2006 میں اس وقت بنایا تھا جب وہ پینسلوانیہ کی وارٹن اسکول میں زیر تعلیم تھے۔

مشہور موبائل فون کمپنی ایپل نے بھی اس پروڈکٹ کو خریدنے میں اپنی خواہش کا اظہار کیا تھا، تاہم گوگل نے نومبر 2009 میں اسے 75 کروڑ ڈالر میں خریدا۔


آئی ٹی اے


یہ ایک ٹریول انڈسٹری کے سافٹ ویئر بنانے والی ایک کمپنی ہے جسے رچرڈ آئیکن نے 1996 میں ایم آئی ٹی آرٹیفیشل انٹیلی جنس لیبارٹری اور کوپر یوین کی مدد سے تیار کیا تھا۔

اس کمپنی کی سب سے پہلی پروڈکٹ فضائی سفر کے کرائے کو ترتیب دینے والا سافٹ ویئر کیو پی ایکس تھا، جسے دنیا کی بڑی ایئرلائنز اور ٹریول کمپنیاں استعمال کرتی ہیں۔

گوگل نے اس کمپنی کو جولائی 2010 میں 70 کروڑ ڈالر نقد دے کر اپنی کمپنی کا حصہ بنالیا تھا۔



موٹورولا


موٹورولا موبائل فون سے اس وقت کون واقف نہیں ہے؟ پاکستانی مارکیٹ میں موٹورولا اپنی ایک شناخت رکھتا ہے۔

یہ کمپنی 1928 میں موٹورولا ان کارپوریشن کے نام سے وجود میں آئی تھی، جب اسے 2007 سے 2009 کے درمیان 4 ارب 30 کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا تو یہ دو حصوں میں تقسیم ہوگئی جن کا نام موٹورولا موبیلیٹی اور موٹورولا سولوشنز رکھا گیا۔

گوگل نے موٹورولا موبیلیٹی کو 2012 میں خریدا تھا تاہم اس نے بھی اسے چینی کمپنی لیناوو کو 2014 فروخت کردیا تھا جبکہ اس کے زیادہ شیئرز اپنے پاس ہی رکھے تھے۔


ویز


ویز موبائل ایپلیکیشن ہے جو راہگیروں کو راستے بتانے کا کام کرتی ہے، یہ ایپلیکیشن صرف موبائل فون یا ٹیبلیٹس پر ہی دستیاب ہوتی ہے۔

ایک اسرائیلی کمپنی نے 2006 میں اسے تیار کیا تاہم 2009 میں اس کا نام ویز موبائل لمیٹڈ رکھا گیا۔

جون 2013 میں گوگل نے اس موبائل ایپ کو بھی خرید لیا اور اس مرتبہ گوگل نے اس پروڈکٹ کی خریداری کے لیے 96 کروڑ 60 لاکھ ڈالر خرچ کیے۔


گوگل نیسٹ (نیسٹ لیب)


گوگل نیسٹ سرچ انجن کمپنی کا وہ پروڈکٹ ہے جس کی مدد سے وہ اسمارٹ اسپیکرز، اسمارٹ ڈسپلے، اسٹریمنگ ڈیوائسز، تھرمواسٹیٹ، اسموک ڈیٹیکٹرز اور سیکیورٹی کیمرا وغیرہ  تیار کرتی ہے۔

ایپل ان کارپوریشن کے ایک سابق انجینیئر ٹونی فیڈل اور میٹ روجرز نے 2010 میں اس کمپنی کی بنیاد رکھی تھی، ابتدا میں ہی اسے بڑی پذیرائی ملی جس کے بعد گوگل نے اس کی خریداری کے لیے دلچسپی کا اظہار کیا۔

بعدازاں گوگل نے اسے جنوری 2014 میں 3 ارب 20 کروڑ امریکی ڈالر میں خرید لیا۔


ڈیپ مائنڈ


یہ ایک عصبی انجن پروڈکٹ ہے جو انسانی دماغ کی نقل کرتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ یہ سوچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اسی ٹینکالوجی کی بنیاد پر ڈیمس ہسابیز، شین لیگ اور مصطفیٰ سلیمان نامی نوجوانوں نے ڈیپ مائنڈ کو 2010 میں بنایا۔

گوگل نے اس کمپنی کو 50 کروڑ امریکی ڈالر کے عوض 2014 میں خریدا تھا۔



ایچ ٹی سی


ہائی ٹیک کمپیوٹر (ایچ ٹی سی) کارپوریشن تائیوان کی ایک الیکٹرونک کمپنی ہے جس کے اہم مصنوعات لیپ ٹاپ ہی ہیں۔

تائیوان کی ایک خاتون چھیر وانگ اور کاروباری شخصیت ایچ ٹی چھونے 1997 میں ایچ ٹی سی کو قائم کیا تھا۔

اسمارٹ فون برانڈ ایچ ٹی سی کا ہارڈ ویئر ڈیزائن اور ریسرچ ٹیم نے گوگل کے پکسل فون بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

بعد ازاں گوگل نے ایچ ٹی سی کے اس ڈویژن کو ایک ارب 10 کروڑ ڈالر کے عوض 2017 میں خرید لیا۔


لوکر


امریکی کمپیوٹر سافٹ ویئر کمپنی لوکر ڈیٹا سروسز (لوکر) ڈیٹا کی کھوج لگانے اور بزنس انٹیلی جنس پلیٹ فارم فراہم کرنے سے متعلق کام کرتی ہے۔

اسے 2012 میں لائڈ ٹیب اور بین پوٹرفیلڈ نے بنایا تھا۔

گوگل نے اپنی کلاؤڈ سروسز کو مزید بہتر بنانے کے لیے لوکر کو خریدنے کا اعلان کیا اور جون 2019 میں 2 ارب 60 کروڑ ڈالر کے عوض اس کمپنی کو خرید لیا۔


فٹ بٹ


فٹنس ٹیکنالوجیکل کمپنی فٹ بٹ کو جیمز پارک اور ایرک فرائیڈمین نے مارچ 2007 میں قائم کیا تھا۔

یہ کمپنی فٹنس سے متعلق ڈیٹا کو ناپنے والے آلات بناتی ہے جو دوڑ کے دوران قدموں کی گنتی کرنے، ایک منٹ میں دل دھڑکنے کی شرح، بلڈ پریشر، نیند کا میعار وغیرہ  معلوم کرنے کا کام کرتے ہیں۔

گوگل نے اس کمپنی کو 2 ارب 10 کروڑ ڈالر میں رواں برس ہی خریدا ہے، جس کے بعد اسمارٹ گھڑیوں اور فٹنس برانڈز کی منڈی میں گوگل کی مدد کی امیدیں مزید بڑھ گئی ہیں۔


خاص رپورٹ سے مزید