آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ملازمتوں کا حصول ممکن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں گرتی معاشی صورت حال نے عندیہ دے دیا ہے کہ بے روز گاری بڑھے گی اور اس کے حل کے طور پر ٹیکنالوجی کے ذریعے چھوٹے بڑے کاروبار اور تجارت کو فروغ دینا ہوگا۔

 پاکستان میں دیکھیں تو یہ نظر آرہا ہے کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے، ادارے معاشی کمزوری کی وجہ سے اپنے اخراجات میں کمی کررہے ہیں، جس کے لیے بڑے پیمانے پر افرادی قوت کو بھی کم کیا جارہا ہے۔

 مختلف شعبوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوان فکرمند ہورہے ہیں کہ تعلیم مکمل ہونے کے بعد ان شعبوں میں ملازمت کی صورت حال کیا ہوگی؟۔ ایسے میں پاکستان میں نوجوانوں کو راغب کیا جارہا ہے کہ وہ ٹیکنالوجی کی مدد سے محدود سرمائے سے چھوٹے چھوٹے کاروبار کریں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے ملازمتوں کا حصول ممکن
چھوٹے شہرو اور قصبوں میں بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

حکومتی سطح پر اس سلسلے میں قرضہ اسکیم بھی متعارف کرائی جاچکی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے ٹرانسپورٹ، تعلیم، صحت، زراعت، میڈیا، انٹرٹینمنٹ، فوڈ، گروسری سمیت اسمال بزنس اور دیگر شعبوں میں نوجوان اپنے کاروبار کا آغاز کرکے اسے مستحکم کرسکتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی بنیاد پر لوگوں کی ضروری اشیاء، کپڑے، جوتے، سبزیاں، فاسٹ فوڈ، ٹرانسپورٹ سروس، بائیک ڈیلیوری سمیت کئی کاروبار آن لائن جاری ہیں اور وقت کے ساتھ ان میں اضافہ ہورہا ہے۔ بڑے شہروں کے ساتھ چھوٹے شہر اور قصبوں میں بھی موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جارہا ہے۔

عام شہری آن لائن بکنگ سروس کے ذریعے ٹیکسی، بائیک، ائیرٹریول اور پبلک ٹرانسپورٹ وینز کی سہولت باآسانی حاصل کررہے ہیں۔ ان سروسز سے بالواسطہ اور بلاواسطہ لاکھوں روزگار بھی حاصل کررہے ہیں۔ عام لوگ بلوں کی ادائیگی، پیسوں کی منتقلی اور فیسوں کی ادائیگی کے لیے بھی آن لائن سروسز سے استفادہ کررہے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کو مزید افرادی قوت کی ضرورت ہے کیونکہ دنیا بھر میں آن لائن کاروبار کو فروغ حاصل ہورہا ہے اور پاکستان بھی اس کی سیڑھیاں چڑھ رہا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کے فروغ کے لئے سرکاری سطح پر توجہ دی جارہی ہے لیکن نجی شعبہ تعلیم نے اس پر زیادہ توجہ دی ہے۔ ملک اور بیرون ملک کمپیوٹر سائنس، سافٹ اور ہارڈوئیر انجینئرز کی مانگ میں اضافہ ہوا ہے لیکن اس کے ساتھ اس سے منسلک سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کورسز کرنے والے افراد بھی بہتر روزگار حاصل کررہے ہیں۔

شعبہ طب، تعلیم، ٹرانسپورٹ ٹیکنالوجی سے منسلک کئی کاروبار چلانے کے لیے باقاعدہ کال سینٹرز، ڈیسک اور کنٹرول روم چوبیس گھنٹے کام کرتے ہیں جہاں سیکڑوں نوجوان مختلف شفٹوں میں امور انجام دے رہے ہیں۔

ٹیکنالوجی کی بنیاد پر کام کرنے والی کمپنیاں عام آدمی کو کاروبار اور باعزت روزگار دینے کے لیے بڑے پلیٹ فارمز فراہم کررہی ہیں۔جبکہ دوسری جانب صارفین کے مسائل میں کمی بھی ہورہی ہے کہ انہیں دروازے پر سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔

ان ہائی ٹیک بزنس کمپنیز کو اپنے کاروبار کو چلانے کے لیے بڑی تعداد میں آئی ٹی ماہرین کی خدمات بھی درکار ہیں جس کی بناء پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تعلیم انتہائی اہمیت اختیار کرگئی ہے۔

سافٹ وئیر اور ایپلیکشنز پر تربیت پانے والے ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں کال سینٹرز میں باعزت اور بہتر روزگار حاصل کررہے ہیں۔ ملک بھر میں یہ ضرورت بھی محسوس کی جارہی ہے کہ نوجوانوں کو ٹیکنالوجی کے استعمال سے منسلک کاروبار کی جانب راغب کیا جائے اور ساتھ ہی انہیں آئی ٹی کی تعلیم کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔