آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار17؍ ربیع الثانی 1441ھ 15؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

کراچی میں ڈینگی وائرس نے ایک اور جان لے لی

کراچی میں ڈینگی وائرس نے ایک اور جان لے لی


کراچی سمیت سندھ بھر میں ڈینگی مچھر کے وار جاری ہیں، شہر میں ایک اور جان ڈینگی وائرس کا شکار ہوکر دنیا سے رخصت ہوگئی۔

کراچی میں تین سالہ تابش عامر ڈینگی وائرس کے باعث جان کی بازی ہار گیا، جس کے بعد سندھ بھر میں ڈینگی سے جان کی بازی ہارنے والے افراد کی تعداد 34 ہوگئی ہے۔

انسداد ڈینگی کنٹرول پروگرام کے مطابق گزشتہ 24  گھنٹوں کے دوران 269 افراد ڈینگی وائرس کا شکار ہوئے جس کے بعد سندھ بھر میں ڈینگی وائرس سے متاثرہ افراد کی تعدا د 11 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔

کراچی میں صرف ماہ اکتوبر میں 5 ہزار سے زائد کیسسز سامنے آئے ہیں۔

ڈینگی سے بچاؤ کے لیے حفاظتی اقدامات

ڈینگی کا مچھر خاص طور پر صبح اور شام کے وقت کاٹتا ہے۔ صبح اور شام میں اپنا جسم ڈھانپنے، پانی کا صحیح نکاس اس مچھر کو بیماری پھیلانے اور افزائش نسل سے روکنے میں خاصا مددگار ثابت ہوتا ہے۔ حفاظتی اقدامات ہی اس وائرس سے بچاؤکا ذریعہ ہے۔

  • گھروں میں مکمل طور پر صفائی کا اہتمام کیا جائے، بالخصوص پودوں اور بیلوں کی کیاریوں میں مچھر مار ادویات سے اسپرے کروایا جائے۔
  • گھروں کے آس پاس پانی بالکل نہ کھڑا ہونے دیں۔
  • ڈینگی وائرس کا حامل مچھر گندے جوہڑوں اور تالابوں کی بجائے صاف پانی میں پرورش پاتا ہے، لہٰذا گھروں میں استعمال ہونے والی ٹینکیوں کو اچھی طرح صاف کیا جائے اور اس بات کا خیال رکھا جائے کہ پانی اسٹور کرنے والے برتنوں کو صبح و شام صاف کیا جائے۔
  • بطور احتیاط پانی ابال کر استعمال کریں تو اچھا ہے۔
  • گھروں کی سجاوٹ کیلئے رکھے گئے پودوں کے گملوں میں پانی کھڑا نہ ہونے دیں اور ان پودوں پر مچھر مار ادویات کا اسپرے تواتر سے کرتے رہیں۔
  • طبی ماہرین کے مطابق یہ مچھر رات کی بجائے طلوع و غروب آفتاب اور دن کے اجالے میں حملہ آور ہوتا ہے، لہٰذا مذکورہ اوقات میں مچھر کے حملوں سے بچاؤ کا اہتمام کیا جانا چاہیے۔
  • جسم کے کھلے حصوں پر مچھر بھگاؤ لوشن وغیرہ لگا ئیں، بچوں کے جسم پر لوشن ضرور لگائیں کیونکہ بچوں میں بڑوں کی نسبت قوت مدافعت کمزور ہوتی ہے، یوں بچے ڈینگی وائرس کی زد میں جلد آجاتے ہیں۔
  • کمروں میں مچھر مار کوائلز اور میٹ استعمال کریں، رات کو دیگر حفاظتی تدابیر کے ساتھ ساتھ مچھر دانی لگا کر سوئیں۔
  • چھتوں کے اوپر رکھے گئے سازو سامان میں بھی مچھروں کی پرورش ہوتی ہے، لہٰذا ایسی تمام جگہوں کی صفائی کی جائے۔
  • اسٹور رومز میں پڑے سامان کو خصوصی طور پر نکال کر اس پر اسپرے کیا جائے اور کمرے کی چھت و دیگر الماریوں کو بھی صاف کرکے اسپرے کیا جائے۔

ڈینگی بخار ایک موذی مرض ہے تاہم کہاوت ’’احتیاط علاج سے بہتر ہے‘‘ کے مصداق احتیاط کرکے اس سے مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

صحت سے مزید