آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ15؍ ربیع الثانی 1441ھ 13؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

بلدیاتی نظام کو مضبوط کئے بغیر جمہوریت مضبوط ہو گی نہ معیشت مستحکم، میئر

کراچی(اسٹاف رپورٹر) میئر کراچی وسیم اختر نے کہا ہے کہ کراچی کے عوام اگر کسی اور پارٹی کو ووٹ نہیں دیتے جو حکومت میں ہو تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بنیادی حقوق ہی سلب کرلئے جائیں وفاقی حکومت کراچی کو خصوصی حیثیت دے، 350 ارب سے زیادہ ریونیو دینے کے باوجود کراچی شہر کا برا حال ہے، یہ کہاں کی جمہوریت ہے، بلدیاتی نظام کو مضبوط کئے بغیر نہ جمہوریت مضبوط ہو گی نہ معیشت مستحکم ہو سکتی ہے، کراچی بہت مشکل حالات میں ہے بلکہ آئی سی یو میں ہے مگر کراچی کی طرف کسی کی توجہ نہیں خواہ وہ وفاقی حکومت ہو یا صوبائی حکومت،تاجروں کا دبائو ہے کہ شہر میں مسائل کے حل کیلئے میئر کو دھرنا دینا چاہئے، ہم میئر کے ساتھ بیٹھیں گے، ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو کراچی الیکٹرونکس ڈیلرز ایسوسی ایشن کے دفتر میں اپنے اعزاز میں دی گئی استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان عرفان نے بھی خطاب کیا، میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کے مسائل حل کرنے میں کسی کو دلچسپی نہیں،اس سے پہلے کہ

تاجر دھرنا دینے پر مجبور ہوں حکومت کراچی کے مسائل حل کرنے پر توجہ دے کراچی الیکٹرونک ڈیلرز ایسوسی ایشن کی رکن تین سو مارکیٹوں کے عہدیدار دھرنے کے لئے تیار ہیں،اگر سندھ حکومت کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ ہوا ہے تو کے ایم سی اور ڈی ایم سی کے ملازمین کی تنخواہوں میں بھی سندھ حکومت اضافہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایک ایک ماہ کی صفائی مہم چلائی مگر اس سے ہونے والا فائدہ وقتی تھا جبکہ کچرا اٹھانا روز کا کام ہے کوئی مہم نہیں اور یہ کام وہی ادارے بہتر طریقے سے کر سکتے ہیں جن کا یہ بنیادی کام ہے اور ان کو اس کا تجربہ بھی ہے، کراچی کے مسائل حل کرنے ہیں تو تمام اداروں کو یکجا کر کے ایک اتھارٹی کے ماتحت لایا جائے، انہوں نے کہا کہ ایس ایل جی اے 2013ء نے اس شہر کو تباہ کیا ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید