آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ13؍ربیع الثانی 1441ھ 11؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سنیے کشور ناہید کی نظم’ یہ ہم گنہگار عورتیں‘ انہی کی زبانی


ماشاء اللہ خواتین کو کراچی میں انعام دینے کی تقریب منعقد ہوئی۔ کیا کہنے 14بچوں کی بھکارن ماں اور دوسروں کے علاوہ ڈاکٹر ثانیہ نشتر کو بھی انعام دیا گیا۔ یہ تقریب ہم سب تھوڑا بہت کام کرنے والی اور اپنی محنت سے اسی برس کی عمر تک کام کرنے والیاں، حیران ہوکر ایک دوسرے کو دیکھ رہی ہیں۔ ان لوگوں کو کراچی ہی میں ایک روپے کی روٹی اور دو روپے کی دال دینے والی عورت انعام کے لئے نظر نہیں آئی۔ وہ عورتیں بھی نظر نہیں آئیں جو شوہر کے مرنے کے بعد دال چاول کے ریڑھے لگا کر گھر اور بچوں کی فیس کا اہتمام کرتی ہیں۔ کیا ہو گیا ہے اور وہ بھی خواتین کو۔

کے پی میں تو اپنی مدد آپ کے تحت بہت کام ہو رہے ہیں۔ شٹل کاک برقعہ بالکل افغانی رنگ کے، اسکولوں کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ ظاہر ہے شرمندگی دور کرنی تھی کہ پشاور جنگلا بس تو مکمل ہو نہیں رہی۔ کسی نے کہا تھا کہ کوئی کام نہ ہو تو کپڑے ادھیڑ دوبارہ سیا کر مگر اب تو تاج حیدر کے گھر شاید کپڑے بھی نہیں رہے۔ آخر ایسا کیا ہے اس گھر میں کہ اب تیسری دفعہ چوری ہوئی ہے۔ بےچارے تاج حیدر نے تو دبئی کے حکمران کی طرح دنیا کا سب سے مہنگا گھوڑا نہیں خریدا ہے۔ پھر یہ ظلم کیوں۔

جب بھی میں کسی دانشور سے سنجیدہ گفتگو کرتی ہوں۔ تو وہ دکھے دل سے جواب دیتے ہیں۔ ’’ہم نے 72سال میں بلوچستان کو کھایا ہے اسے کچھ بھی نہیں دیا‘‘۔ میں سی پیک کی کہانی فوراً چھیڑ دیتی ہوں۔ وہ ہنس کر کہتے ہیں، تین سال سے سی پیک سی پیک سن رہے ہیں۔ گوادر میں ہرطرف کھارا پانی ہے۔ کوئی قدم اٹھتا ہے تو سفر کا آغاز ہوتا ہے۔ یہاں تو اللہ ہی اللہ ہے۔ کشمیر کہانی کے بعد… اپنے برصغیر میں مصالحت کراتے کراتے، اب ہم ایران اور عرب کے اس جھگڑے کو نمٹانے چلےہیں جو صدیوں پر محیط ہے، کشمیر درمیان میں ہے کہ نہیں۔

آج کل ایک اور تنازع بار بار ہر دوسرے کھیل والے اٹھا رہے ہیں کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم کو اتنی خراب کارکردگی کےباوجود سر پر ہر کوئی اٹھائے پھرتا ہے۔ ان کے سب کے معاوضے بھی اعلیٰ ہیں۔ دوسرے کھیلوں کو تو اسپانسر ہی نہیں ملتے سرکار کے پاس تو دمڑی نہیں ہے مگر کمال تو افغانستان کی خواتین ٹیم نے کیا ہے۔ انہوں نے لیڈی ڈیانا کی طرح اپنے علاقے میں بچھی بارودی سرنگیں صاف کر دی ہیں۔ سب سے شرمناک حرکت عالمی سطح پر بکرز والوں اور نوبیل انعام 2019-2018بڑے ادب دینےکے معاملے میں کی گئی۔ بکرز نے تو خود بھانڈا پھوڑ دیا جب کہا کہ لڑو مت، چلو یہ انعام دونوں میں تقسیم کر دیتے ہیں۔ کمال تو نوبیل والوں نے کیا کہ ہر دیگر مضمون کا انعام تین تین افراد کو دیا اور ادب کا انعام ایک آسٹرین مرد کو دیا جو کہ آمرانہ دور کی حکومت میں شامل بھی تھا اور تحریریں بھی اسی دور سے منسلک ہیں جب کہ پولش خاتون کو بھی انعام دے دیا گیا۔ سارا افریقہ،سارا ایشیا اور سارا امریکہ، ان کی نظر میں بیکار تھا۔ یہ بالکل ایسے ہے کہ جیسے اشک شوئی کے لئے کے پی کے وزیراعلیٰ ایک خاتون کو دو مرغیاں عطاکر رہے ہیں۔ ہائے قسمت، یہ بزرگ عورت پہلے ان مرغیوں کو کھلانے کو دانہ کہاں سے لائیگی، پھر ایک مرغا خریدےگی پھر مرنے سے پہلے شاید چوزے دیکھ سکے۔

دیکھیں تو کمال پہ کمال یہ ہو رہا ہے۔ چیف جسٹس خود کہہ رہے ہیں کہ ججز کی کمی کے باعث، مقدمے تاخیر کا شکارہو رہے ہیں۔ اس وقت زیر بحث یہ ہے کہ وہ شخص 19سال جیل میں رہتا ہے اب یہ کہہ کر رہا کر دیا گیا ہے کہ اس کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا۔ وعدہ معاف گواہ تو بہت بنتے، ساری عمر دیکھیں ہیں۔ ان کو غیر ممالک میں بےنامی کی موت مرتے ہوئے بھی سنا ہے مگر خون معاف کرنےکے واقعات صر ف اور صرف دولت کے عوض، ایک امریکی کی وجہ سے کوئی پانچ سال ہوئے باقاعدہ کمائی کا ذریعہ بن گئے۔ یہ ایک اور بات ہے کہ بےشمار دولت حاصل کرنے والے خاندان کا شیرازہ بکھر گیا۔ بیٹے کا بدل گاڑی ممکن ہے انہوں نے سوچا ہو مگر دماغ کو سکون تو نہ ملا، اب اصلاح الدین کے باپ نے بھی بیٹے کے خون کا سودا کر کے سوئی گیس اور گلی پختہ کرانے کے وعدے کے علاوہ حافظ صاحب کی امامت میں اور کیا لیا۔ وہ اور ان کا خدا جانے البتہ سپریم کورٹ نے تبدیلی کے سلسلے میں بیٹے کے لئے والدین کی معافی کو نہیں مانا۔ بہت اچھا اقدام ہے مگر یہ جو لڑکے لڑکیوں نے استادوں پر الزامات اور اس پر ہڑتالیں۔ ہر چند یہ ساری دنیا میں ہو رہا ہے کہ وائی وا کرانے کے لئے بہت سے لڑکے لڑکیوں کو سفارش کروانا پڑتی ہے۔ یہ سفارش ہر قسم کی ہوتی ہے مگر یہ صرف یونیورسٹیوں ہی میں نہیں ہوتا، یہ تو ریڈیو، ٹی وی باقی سارے محکموں میں عام بات ہے۔ محکمہ چھوڑیں، ہماری مسجدیں اور بچے محفوظ نہیں ہیں۔ اب وزیر قانون کا یہ کہنا کہ وکیلوں کے قصے اخباروں میں نہ شائع کریں تو کیا درختوں پہ لکھ کر لٹکا دیئے جائیں۔ کیا وکیل فرشتے ہیں۔ آخر قاتل کا کیس بھی پیسے لے کر معصوم کہلوانے کے لئے لڑا جاتا ہے۔

بس دعا کریں اور قوم کے آگے جانے کے لئے راستہ تلاش کریں۔