آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ9؍ربیع الثانی1441ھ 7؍دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان دنیا کا پہلا ملک بن گیا ہے جہاں ٹائیفائیڈ سے بچائو کیلئے بچوں کو عالمی ادارۂ صحت کی سفارش کردہ ٹائیفائیڈ کنجیو گیٹ ویکسین (ٹی وی سی) دیے جانے کا آغاز کر دیا گیا ہے، پچھلے تین برس کے دوران صوبہ سندھ میں ٹائیفائیڈ کے 10ہزار ایسے کیس سامنے آئے جن میں متاثرہ بچوں کو دی جانے والی ویکسین اثر نہیں کر پا رہی تھی چنانچہ نئے ویکسین پروگرام کا آغاز صوبہ سندھ سے ہی کیا گیا ہے۔ گنجان آباد علاقوں میں زیادہ تیزی سے پھیلنے والا ٹائیفائیڈ بخار نہ صرف مہلک ہے بلکہ متعدی مرض بھی ہے۔ یہ بخار سالمونیلا ٹائفی نامی بیکٹیریا ہے ایسے علاقوں میں بہت سرعت سے پھیلتا ہے جہاں نکاسی آب کا نظام بہتر نہ ہو۔ یہ بیکٹیریا مضر صحت کھانوں، گندے پانی، ہاتھ نہ دھونے کی عادت اور دیگر ذرائع سے انسان کے منہ کے ذریعے آنتوں میں جا کر انہیں زخمی کر دیتا ہے اور متاثرہ فرد بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2017ء میں ٹائیفائیڈ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں میں 70فیصد اموات 15سال سے کم عمر بچوں کی اور زیادہ تر صوبہ سندھ میں ہوئیں۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اتنے کم عرصے میں اتنے زیادہ کیسز دنیا بھر میں کہیں دیکھنے میں نہیں آئے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ جن بچوں کو ٹائیفائیڈ کی ویکسین دی گئی تھی وہ بھی اس مرض میں اس لئے مبتلا

ہو گئے کہ ویکسین بے اثر رہی۔ قبل ازیں پولیو ویکسی نیشن کے بارے میں بھی ایسے حقائق سامنے آئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ بچوں کی انگلیوں پر نشان تو لگا دیے گئے لیکن انہیں قطرے نہ پلائے گئے۔ مذکورہ معاملے کی بھی تحقیقات ضروری ہیں کہ کہیں کسی نے غفلت تو نہیں برتی؟ صوبہ سندھ کے شہری علاقوں میں 9ماہ سے 15سال کے بچوں کو ویکسین دینے کی مہم کا آغاز احسن عمل ہے، تاہم دوسرے صوبوں کو بھی فوری طور پر ویکسی نیشن کا آغاز کرنا چاہئے تاکہ یہ موذی مرض کسی کو لاحق نہ ہو۔ علاوہ ازیں نکاسی آب کا سسٹم بہتر بنایا جائے اور عوام بھی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔