آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل12؍ربیع الثانی 1441ھ 10؍ دسمبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اب تو وزیراعظم عمران خان کے اتحادیوں کا لب و لہجہ بھی بدل گیا ہے۔ چوہدری شجاعت حسین نے تو تین سے چھ ماہ کا ٹائم بھی دے دیا کہ اگر معاشی حالات بہتر نہ ہوئے تو پھر تین سے چھ ماہ بعد کوئی وزیراعظم بننے کے لیے تیار نہ ہوگا۔ 

چوہدری پرویز الٰہی نے معیشت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن رہنمائوں کے خلاف بننے والے مقدمات کو سیاسی مقدمات گردانتے ہوئے اُن کے خاتمے کا بھی مطالبہ کر دیا۔

حکومت کے اتحادی ہیں اور رہیں گے، پرویز الٰہی


پرویز الٰہی نے تو یہ بھی انکشاف کرنا شروع کر دیا ہے کہ کس طرح اُس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے پی ٹی آئی بنانے کے لیے کردار ادا کیا، جس پر اُنہوں نے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے شکایت بھی کی تھی۔ 

مسلم لیگ (ق) کے علاوہ حکومت کی ایک اور اہم اتحادی جماعت ایم کیو ایم پاکستان نے بھی حکومت کی کارکردگی اور اس کے غیر یقینی مستقبل کے بارے میں باتیں شروع کر دی ہیں۔ 

ایم کیو ایم کے رہنما خواجہ اظہار الحسن کا کہنا ہے کہ اگر معیشت کے حالات بہتر نہ ہوئے اور ٹیکس محصولات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہوا تو پھر اس حکومت کا اگلے بجٹ تک چلنا مشکل ہو جائے گا۔ اس کے برعکس وزیراعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ معیشت مستحکم ہو چکی اور مشکل دن گزر گئے۔

وزیراعظم نے معیشت کی بہتری کے لیے اپنی معاشی ٹیم کو شاباش دی لیکن اُسی دن آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے معیشت کی مضبوطی کو فوج کی کارکردگی سے جوڑا۔ 

جب اتحادی بھی اکھڑے اکھڑے نظر آ رہے ہوں، جب حکومت اور فوج کا ایک صفحہ پر ہونے کا بیانیہ بھی کمزور ہوتا ہوا دِکھ رہا ہو اور جب اپوزیشن رہنمائوں پر بھی مصیبتیں کم ہو رہی ہوں تو اس پر حکومت اور وزیراعظم عمران خان کو ضرور فکر مند ہونا چاہئے۔

اس صورتحال میں طرح طرح کی سازشی تھیوریاں بھی زور پکڑتی ہیں جو حکومت کو مزید عدم استحکام کی طرف دھکیلتی ہیں۔ 

ایسے میں اگر وزیراعظم عمران خان اور اُن کی پارٹی تحریک انصاف کے لیے خود احتسابی کا بہترین موقع ہے تاکہ وہ جائزہ لے سکیں کہ اُن سے آخر کیا کیا غلطیاں ہوئیں کہ حالات بہتری کے بجائے بدتری کی طرف جاتے رہے، تو دوسری جانب یہ صورتحال اپوزیشن جماعتوں اور اُن کے رہنمائوں کے لیے بھی قابلِ غور ہے کہ کہیں عمران خان یا تحریک انصاف حکومت کی مخالفت میں وہ کسی ایسے کھیل کا حصہ نہ بن جائیں جو بہتری کے بجائے نظام کو مزید کمزور کرنے کا باعث بنے۔

عمران خان اور تحریک انصاف نے اگر ماضی میں مقتدر حلقوں کی مدد سے اپنے آپ کو مضبوط کیا اور اقتدار تک پہنچ بھی گئے تو اس کے جواب میں اگر اپوزیشن جماعتیں کسی غیر جمہوری قوت کے موجودہ حکومت کے خلاف کھیل کا حصہ بن جاتی ہیں تو اُن کا یہ عمل ویسے ہی قابلِ اعتراض اور قابلِ مذمت ہوگا جیسے ماضی میں ایسا کوئی عمل غیر آئینی، غیر جمہوری اور غیر اخلاقی تھا۔ 

نہیں معلوم کوئی کھیل اس وقت حکومت کے خلاف کھیلا بھی جا رہا ہے یا نہیں، لیکن افواہیں ہیں کہ روز بروز بڑھتی جا رہی ہیں۔ خان صاحب کے پاس اب بھی وقت ہے کہ وہ حکمرانی کی اپنی اُس روش کو بدلیں جس نے اُنہیں منفی بنا دیا ہے اور جس کے باعث اُن کی تمام تر محنت کے باوجود معیشت ٹھیک ہوئی ہے نہ گورننس پر اُن کی وہ توجہ ہے، جو ہونی چاہئے جبکہ پارلیمنٹ تو مکمل طور پر غیر ضروری ہوکر رہ گئی ہے۔ 

سوشل میڈیا اور ٹی وی اینکرز کو خوش کرنے کی کوشش میں ہی لگے رہیں گے تو خان صاحب کو کچھ بھی حاصل نہ ہوگا۔ جھوٹے الزامات اور ہر کہی سنی بات پر یقین کرنے کے رجحانات نے خان صاحب اور اُن کی حکومت کو اس حالت تک پہنچایا ہے۔ 

تین سو ارب روپے کی نواز شریف کی کرپشن کہانی، لوٹے گئے قوم کے دو سو ارب ڈالرز کی بیرونِ ملک سے واپسی، دس ارب ڈالرز کی سالانہ منی لانڈرنگ اور اس جیسے دوسرے قصے، سب جھوٹ نکلا۔ 

اب خان صاحب جو مرضی کر لیں، ان کا سوشل میڈیا اس جھوٹ کو سچ سمجھ کر حکومت کو ہی ڈیل ڈیل کے طعنے دے رہا ہے۔ طعنوں کے دبائو میں آکر نواز شریف کو اُن کی تشویش ناک صحت کی وجہ سے فوری بیرونِ ملک علاج کے لیے جانے کی اجازت دے کر خان صاحب نے پہلے سات ارب روپے کے شورٹی بانڈ دینے کی شرط لگا دی جس سے حکومت کی ہی بدنامی ہوئی اور جو رہی سہی کسر تھی وہ عدالتی فیصلے نے نکال دی۔

کہا جاتا ہے کہ خان صاحب ٹی وی ٹاک شوز اور سوشل میڈیا کو بہت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ میرا اُن کو مشورہ ہوگا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا کو سنجیدگی سے ضرور لیں لیکن اُن کے کہے پر آنکھیں بند کرکے مت چلیں۔ 

اگر اُن کے کہے پر چل پڑے تو نہ وہ آپ کو جینے دیں گے، نہ مرنے۔ اپنی توجہ حکومت اور معیشت پر مرکوز کریں اور اس کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر پارلیمنٹ کو فعال کریں۔ 

احتساب ضرور کریں لیکن انتقام سے باز رہیں۔ احتساب اگر کرنا ہے تو احتساب کے نظام کو بہتر بناکر متعلقہ اداروں پر یہ کام چھوڑ دیں تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو لیکن احتساب کے نام پر مخالفین کی پکڑ دھکڑ کے دھندے کی اجازت نہ ہو۔ ایسا کریں گے تو اُن کے خلاف ہر سازش ناکام ہوگی اور ملک بھی ترقی کرے گا۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)