آپ آف لائن ہیں
منگل6؍شعبان المعظم 1441ھ 31؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

صبح ساڑھے چار بجے آدم خان کو پھانسی پر لٹکنا تھا۔ نہلا دھلا کر اسے مرنے کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔ تب نہلانے والوں نے آدم کی پیٹھ پر پھوڑا دیکھا جس سے خون آلود پیپ رِس رہی تھی۔ فوراً جیل سپرنٹنڈنٹ کو مطلع کیا گیا۔ جیل سپرنٹنڈنٹ مع ڈاکٹر کے آن پہنچا۔ رسولی کا غور سے جائزہ لینے کے بعد ڈاکٹر نے جیل سپرنٹنڈنٹ کو ایک طرف لے جاکر بتایا کہ آدم کی پیٹھ پر رسولی اس کی ریڑھ کی ہڈی سے پیوست ہے۔ اسے فوراً آپریشن کی ضرورت ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے اعلیٰ افسران کو اچانک رونما ہونے والی صورتحال سے آگاہ کیا۔ افسرانِ اعلیٰ نے آدھی رات کے قریب ہنگامی میٹنگ بلوائی۔ فجر سے پہلے آدم کو پھانسی پر لٹکا کر مار ڈالنے کا حکم التوا میں ڈال دیا گیا۔ حکم میں مزید لکھا گیا کہ مکمل صحت یابی کے بعد آدم کو پھانسی دی جائے گی۔

آدم کو جب پتا چلا کہ دو تین گھنٹوں کے بعد اسے آج پھانسی نہیں دی جائے گی، تب وہ بہت حیران ہوا۔ اس نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا: مگر کیوں؟ مجھے کیوں پھانسی نہیں دی جائے گی؟ جیل سپرنٹنڈنٹ نے کہا: تم جب تک مکمل طور پر صحت یاب نہیں ہو جاتے، تمہیں پھانسی نہیں دی جائے گی۔ مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد تمہیں پھانسی دی جائے گی۔ آدم کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ اس نے جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا: اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ پھانسی چڑھنے والا شخص صحت مند ہے یا بیمار ہے؟ اسے تو ہر حال میں مرنا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے بےرخی سے کہا: یہ قانونی تقاضا ہے۔

قانون کی پیچیدگیاں آدم کی سمجھ بوجھ سے باہر تھیں۔ وہ اپنے آپ بڑبڑانے لگا: جیل سے باہر ہم بیمار ہو کر مر جاتے ہیں۔ جیل میں ہمیں صحت مند کرکے مارا جاتا ہے۔ آدم کو کال کوٹھڑی سے نکال کر جیل کے چھوٹے سے اسپتال میں منتقل کردیا گیا۔ وہ حیران تھا۔ پریشان تھا۔ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ اس نے ایک جونیئر ڈاکٹر سے پوچھا:کیا بیمار لوگ پھانسی پر لٹک جانے کے بعد نہیں مرتے؟ بےتکے سوال کا جونیئر ڈاکٹر کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ آدم نے پوچھا: کیا صرف صحت مند لوگ پھانسی پر لٹک جانے کے بعد فوراً مرجاتے ہیں؟ جونیئر ڈاکٹر نے کہا: بولنا بند کرو… ہم تمہیں آپریشن کے لئے تیار کررہے ہیں۔ آدم نے بولنا بند نہیں کیا۔ اس نے پوچھا: جب مجھے ہر حال میں مرنا ہے تو پھر آپ مجھے صحت مند کیوں کررہے ہیں؟ اس سوال کا جواب جونیئر ڈاکٹر کے پاس نہیں تھا۔ جونیئر ڈاکٹر نے تعجب سے دوسرے جونیئر ڈاکٹر کی طرف دیکھا۔ اس نے کاندھے اچکائے۔

آدم نے کہا: ہو سکتا ہے آپریشن کے دوران میں آپریشن تھیٹر میں مر جائوں۔ پھر کیا آپ میری لاش پھانسی پر لٹکائیں گے؟ اس قدر باتونی مجرم سے جونیئر ڈاکٹرز کا پہلے کبھی پالا نہیں پڑا تھا۔ آدم کو آپریشن تھیٹر شفٹ کیا گیا۔ اسے آپریشن ٹیبل پر لٹایا گیا۔ اس نے مسکراتے ہوئے سرجن سے کہا: میں جانتا ہوں آپ کیا کرنے والے ہیں۔ بےہوش کرنے کے بعد آپ میرا ایک گردہ چرا کر بیچ دیں گے۔ آدم کو بےہوش کیا گیا۔ اینستھیسیا دیا گیا۔ آپریشن شروع ہوا۔ ایک ڈیڑھ گھنٹے میں ختم ہونے والے آپریشن نے طول پکڑ لیا۔ سرجنوں نے پانچ گھنٹے تک آپریشن کیا۔ آپریشن تھیٹر سے باہر آئے گائون، گلوز اتارنے اور ہاتھ منہ دھونے کے بعد جیل سپرنٹنڈنٹ سے ٹیلیفون پر بات کی۔ کہا: کینسر ہے۔ ریڑھ کی ہڈی اور پسلیوں تک پھیل گیا ہے۔ رسولی کے نمونے ہم بائیوپسی کے لئے بھیج رہے ہیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ نے پوچھا: آپ کیا تجویز کرتے ہیں؟ سرجن نے کہا: سزائے موت کے مجرم کو علاج کے لئے لاہور یا کراچی منتقل کیا جائے۔

دوسرے روز جیل سپرنٹنڈنٹ اپنے باس یعنی ہوم سیکرٹری کے دفتر گئے۔ انہیں صورتحال سے آگاہ کیا۔ ہوم سیکرٹری نے کہا: اخراجات کے تخمینے کے بغیر ہم سمری موو Moveنہیں کر سکتے۔ آج کل بجٹ ٹائٹ ہے۔ دوچار دن میں اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا۔ اچھی خاصی بھاری رقم درکار تھی۔ وزیر داخلہ کی اجازت درکار تھی۔ وزیر داخلہ نے سیکرٹری فنانس کو مع مالی امور کے ماہرین کے بلا بھیجا۔ سیکرٹری فنانس وزیر داخلہ کا ہمدرد اور دوست تھا۔ اس نے وزیر داخلہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا: سر، آپ اپنا دامن بچاکر رکھیں۔ آج نہیں تو کل، کبھی بھی آپ کو کٹہرے میں کھڑا کرکے پوچھ گچھ ہو سکتی ہے کہ آپ نے ایک ایسے شخص کے علاج کے لئے اتنی بھاری رقم کی اجازت کیوں دی جس کو ایک دن پھانسی پر لٹکنا تھا۔ یہ رقم غریب عوام کی ہے۔ اس طرح بےسود اور بےفائدہ کاموں میں اڑانے کے لئے نہیں ہے۔

وزیرداخلہ نے پوچھا: آپ کیا مشورہ دیتے ہیں؟ سیکرٹری فنانس نے کہا: آپ وزیراعلیٰ سے اپروول لیں۔ وزیراعلیٰ نے انسانیت اور انسانی حقوق کو مدنظر رکھتے ہوئے اجازت دے دی۔ آدم کو لاہور میں کینسر کے ایک اسپتال میں منتقل کیا گیا۔ ماہر سرجنوں نے آدم کی ریڑھ کی ہڈی کے دو چار گلے سڑے مہرے نکال دئیے ہیں۔ دایاں بازو بچانے کے لئے سرجنوں نے آدم کا بایاں بازو کاٹ کر الگ کردیا ہے۔ اب وہ روبہ صحت ہورہا ہے۔ مکمل طور پر صحت یاب ہونے کے بعد آدم کو پھانسی دے دی جائے گی۔

تازہ ترین