آپ آف لائن ہیں
جمعرات13؍ صفر المظفّر 1442ھ یکم اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group
اپنی جلد کی مناسبت سے چیزوں کا استعمال کریں

آپ کے نین کتنے ہی حسین ہو،رنگ کتنا ہی گورا ہولیکن اگر جلد پر کیل ،مہاسے اور جھریاں ہو تو آپ کے حسین نین اور گوری رنگت کی خوب صورتی ماند پڑجاتی ہے ۔کسی بھی جلد کی خوب صورتی کا راز اس کا صحت مند ہونا ہے ۔اس لیے اگر آپ کی جاذب نظر بننے کی خواہش ہے تو سب سے پہلے اپنی جلد کی حفاظت اور صفائی پر خاص توجہ دیں ۔یادرکھیں ! اس کی حفاظت اپنی جلد کی مناسبت سے کریں ۔

چکنی جلد

یہ جلد کی ایسی قسم ہے ،جس پر اکثر اوقات چکنائی یا تیل جلد پر نظر آتاہے ۔اس جلد کے نیچے ایسے خلیے ہوتے ہیں جن سے ہر وقت تیل نکلتا ہے جو جلد پر آجاتا ہے۔یہ اس جلد کا قدرتی مزاج ہے جس کو بدلا نہیں جا سکتا،البتہ مناسب تدابیر سے اس کے نقصانات سے بچاجا سکتا ہے۔چکنی جلد کے نیچے سے جوتیل نکلتاہے وہ چہرے پر جم کر مہاسہ بن جاتاہے۔اس لیے کوشش کرنی چاہیے کہ جلد پر تیل نہ جمے۔

اس مقصد کے لیے چہرے کو دن میں پانچ بار اچھے صابن سے دھونا چاہیے۔بیسن سے دھونا بھی مفید رہتاہے۔کسی اچھے کلینرنگ لوشن سےبھی چہرے کو صاف کیا جا سکتا ہے، جس سے چہرے کاتیل کم ہوتاہے۔ہم ایسی جلد کو بدل نہیں سکتیں،تاہم احتیاطی تدابیر ضرور کر سکتی ہیں ،تاکہ مہا سے کم بنیں۔چکنی جلد کے لیے انڈے کی سفیدی کا ماسک بھی بہت مفید ہوتاہے۔جس کا طریقہ یہ ہے کہ انڈے کی سفیدی الگ کرکے پھینٹ لیں اور چہرہ اچھی طرح صاف کرکے لگا ئیں اور سکون سے لیٹ جائیے۔دس پندرہ منٹ بعد تاز ے پانی سے چہرہ دھولیں۔ماسک لگا کر بات نہ کریں، ورنہ چہرے پر جھریاں پڑ سکتی ہیں۔

خشک جلد

یہ ایسی جلد ہے ،جس کو نرم اور ملائم کرنے کے لیے ہمیں بیرونی امداد کی ضرورت ہوتی ہے یعنی کوئی کریم یا لوشن لگا کر چہرے کے لیے مطلوبہ نمی اور چکنائی فراہم کرنی پڑتی ہے،چونکہ یہ جلد اندرونی چکنائی اور نمی سے محروم ہوتی ہے۔اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے کہ اس پر مہاسے بالکل نہیں نکلتے ،مگر خشک ہونے کی وجہ سے یہ کھردری نظر آتی ہے جو جلد کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ایسی جلد پر جتنا پانی لگایا جائے اتنا ہی نقصان دہ ہوتاہے، کیونکہ اس سے خشکی بڑھتی ہے۔

دھوپ اور ہوا سے پانی خشک ہوجاتاہے تو جلد اور زیادہ خشک ہو جاتی ہے ۔خاص طور پر سردیوں میں تو ایسی جلد کے لیے بہت ہی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ایسی جلد کی حامل خواتین کے ہونٹ بھی اکثر پھٹے رہتے ہیں اور ہاتھوں کی جلد میں بھی لکیریں نمایاں نظر آتی ہیں۔خشک جلد کو گیلا کرکے اس پر کوئی کولڈ کریم یا لوشن لگانا مفید ہوتا ہے، جس سے نمی جلد میں قید ہو جاتی ہے ۔خشک جلد والوں کے لیے ابٹن کا مساج اور انڈے کی زردی میں زیتون کے تیل کا ماسک بہت مفید ہوتاہے۔ایسی جلد کو کم سے کم دھونا چاہیے بلکہ اس کی صفائی کے لیے کلینزنگ لوشن زیادہ مفید رہتاہے۔

معتدل جلد

جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ جلد نہ تو چکنی ہے اور نہ ہی اتنی خشک کہ کھردری ہوجائے۔ایسی جلد بہت اچھی ہوتی ہے کہ ہر موسم کا ساتھ دیتی ہے ،مگر جلد کا معتدل مزاج بر قراررکھنے کے لیے بھی کوشش کرنی چاہیے۔اگر یہ سوچ لیا جائے کہ ایسی جلد کو حفاظت اور صفائی کی ضرورت نہیں تو آپ اپنی جلد کی قدرتی خوبیوں سے محروم بھی ہوسکتی ہیں۔ایسی جلد کے لیے کھیرے کا ماسک مفید ہوتاہے۔

اس جلد کو ضرورت سے زیادہ گردوغبار سے بچانا چاہیے ،تاکہ یہ زیادہ مدت تک شگفتہ رہے۔چہرے کی حفاظت کا ذکر میک اپ کے بغیر ادھورا ہے کیونکہ اکثر خواتین میک اپ کے بغیر اپنی تیاری مکمل نہیں سمجھتیں۔اور بعض اوقات وسائل کی کمی یا لا علمی کے سبب اتنا زیادہ میک اپ کرلیتی ہیں جو آخر کار ان کی جلد کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

اہم بات یہ ہے کہ میک اپ ہر وقت نہیں کرنا چاہیے کہ کسی وقت بھی چہرے کو تازہ ہوا نہ لگے۔دوسری بات یہ ہے کہ میک اپ کا غیر معیاری سامان جلد کے لیے سخت نقصان دہ ہوتاہے، جس سے جلد بہت جلد اپنی شگفتگی کھودیتی ہے۔کوشش یہ ہونی چاہیے کہ میک اپ کم ہی کیا جائے اور اس کے لیے صرف معیاری اشیاء ہی استعمال کریں۔