آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات27 ؍جمادی الاوّل 1441ھ 23؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

لو جی! اگلی ٹی ٹی فلم ریلیز ہو گئی، چوہدری شوگر مل تحقیقات کے دوران شہباز شریف خاندان کی مبینہ جعلی کمپنیوں کے زیر سایہ چلتا منی لانڈرنگ نیٹ ورک پکڑا گیا،

چند اہم کردار گرفتار، کچھ مفرور، نیب کے مطابق اس مبینہ منی لانڈرنگ نیٹ ورک کا سربراہ سلمان شہباز، مبینہ طور پر 6جعلی فرنٹ کمپنیاں، جن میں گڈ نیچر ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ، نثار ٹریڈنگ کمپنی، یونٹیاس اسٹیل پرائیویٹ لمیٹڈ، وقار ٹریڈنگ کمپنی، مقصود اینڈ کو اور مشتاق اینڈ کو شامل، یہ سب فرنٹ کمپنیاں سلمان شہباز کی، مبینہ منی لانڈرنگ کا اندازہ صرف اس بات سے لگائیے کہ صرف ایک کمپنی گڈنیچر ٹریڈنگ پرائیویٹ لمیٹڈ میں 7ارب آئے، گئے،

ان کمپنیوں سے جڑے 5افراد گرفتار ہو چکے، ان میں ایک نثار گل، یہ سلمان شہباز کا کلاس فیلو، اس کا کہنا جو سلمان شہباز نے کہا، وہ کیا، اسے 2009ء میں شہباز شریف نے انہیں اپنا ڈائریکٹر پولیٹکل افیئر مقرر کیا،

اس کی تقرری کا نوٹیفکیشن نیب کے پاس بلکہ وہ بینک اکاؤنٹ اوپننگ فارم بھی نیب کے پاس، جس میں نثار گل نے خود کو وزیراعلیٰ کا ڈائریکٹر پولیٹکل افیئرز لکھ کر اپنا پتا وزیراعلیٰ ہاؤس لاہور لکھا،

نثار گل نے سلمان شہباز کے ہمراہ 4غیر ملکی دورے بھی کیے، دونوں 21مارچ 2016ء کو متحدہ عرب امارات گئے، 23مارچ 2017ء کو سلمان شہباز، نثار گل دوبارہ یو اے ای گئے، 15مئی 2018ء کو دونوں قطر گئے،

26ستمبر 2018ء کو دونوں سعودی عرب گئے، یہاں سوال یہ، سلمان شہباز کا کلاس فیلو شہباز شریف کا ڈائریکٹر کیوں، سوال یہ بھی، شہباز شریف کا سیاسی مشیر سلمان شہباز کے ہمراہ بیرونِ ملک دورے کیوں کرتا رہا، سوال یہ بھی، شہباز شریف کا اپنے ڈائریکٹر سے کاروباری تعلق کیوں، سوال یہ بھی، ڈائریکٹر کے اکاؤنٹ سے مبینہ رقم شہباز شریف کے ذاتی اکاؤنٹ میں کیوں آتی رہی۔

آگے سنیے، مبینہ منی لانڈرنگ کا دوسرا کردار علی احمد خان، یہ بھی سلمان شہباز کا کلاس فیلو، اسے بھی شہباز شریف نے سی ایم ہاؤس میں نوکری دی، عہدہ تھا، ڈائریکٹر پالیسی اینڈ اسٹرٹیجی، یہ نوکری کے ساتھ ساتھ یونٹیاس اور گڈ نیچر ٹریڈنگ کمپنیوں کا مالک، اصل میں دونوں کمپنیاں سلمان شہباز کی، نیب کے مطابق علی احمد کا کام کالے دھن کو سفید کرنا، پیسے شریف گروپ تک پہنچانا، یہ مفرور، منی لانڈرنگ، ٹی ٹی فلموں کا تیسرا کردار طاہر نقوی، یہ لاہور کے ایک مشہور جم کا ٹرینر، سلمان شہباز کو ورزش کراتا، سلمان شہباز سے دوستی ہوئی، اس نے جم چھوڑا، وقار ٹریڈنگ کمپنی بنائی اور شہباز گروپ کے ساتھ کاروبار کرنے لگا، لیکن اصل میں کمپنی، کاروبار، سب کچھ مبینہ طور پر سلمان شہباز کے،

یہ صرف فرنٹ مین، آگے سنیے، شریف خاندان کے دو پرانے، بااعتماد ملازمین مسرور انور، شعیب قمر جو نیب حراست میں، ان کے ابتدائی بیانات حیران کن، یہ بتا چکے کہ مبینہ طور پر تمام کک بیکس، کمیشن 96ایچ ماڈل ٹاؤن میں اکٹھی کی جاتیں (یہ گھر شہباز شریف نے اپنا کیمپ آفس بھی ڈکلیئر کر رکھا تھا) یہاں رقمیں بوریوں میں بھری جاتیں، طاہر نقوی مبینہ طور پر ان رقموں کو شریف گرو پ کے ہیڈ آفس 55کے ماڈل ٹاؤن پہنچاتا، رقم زیادہ ہوتی تو مبینہ طور پر شہباز شریف کی ذاتی لینڈ کروزر میں ایلیٹ فورس کی سیکورٹی میں لیجائی جاتی، پیسے کم ہوتے تو طاہر نقوی اپنی گاڑی میں لے جاتا، 55کے ماڈل ٹاؤن میں قاسم قیوم کے بھیجے ہوئے کیش بوائے رقم گنتے،

رقم گن کر شریف خاندان کے دہائیو ں پرانے، بااعتماد ملازم فضل داد عباسی کے حوالے کی جاتی، فنانس منیجر توقیر ڈار ان پیسوں کی انٹری کرتا، یہ پیسے لاکروں میں رکھے جاتے، پھر وقفے وقفے سے پیسے نکال کر شریف خاندان کے مختلف اکاؤنٹس میں جمع کروائے جاتے، بینک کھاتوں میں یہ پیسے مختلف کاروباروں کی ریکوری ہوتے، پیسے جمع کروانے کی ڈیوٹی شعیب قمر اور مسرور انور کی ہوتی جبکہ پیسوں کی حفاظت پنجاب ایلیٹ پولیس کے کمانڈو اختر، صدیق اور عابد کرتے۔

مختلف بینکوں میں پیسے جمع کروانے کے بعد پھر پیسے نکلوائے جاتے اور مبینہ طور پر لاہور ڈیوٹی فری شاپ کے قریب ایک منی چینجر کے ذریعے جعلی ناموں سے پیسے باہر بھجوائے جاتے، جہاں سے بذریعہ ٹی ٹی مختلف جعلی لوگوں، جعلی کمپنیوں، فرنٹ مینوں کے نام پر پیسے واپس آتے، 2008ء سے 2018ء تک مبینہ طور پر یہی کچھ ہوتا رہا، یہ چند لائنیں، چند سطریں، اک ٹریلر، نمونہ، بہت کچھ نہیں لکھا،

جیسے شریفوں کا چیف فنانشل افسر محمد عثمان کون، اس کا اصل کام کیا، شہباز شریف کے ذاتی استعمال کیلئے رقم 96ایچ ماڈل ٹاؤن کون لے جاتا، وہاں اردلی ثناء اللہ اور خانساماں شوکت رقمیں کیسے وصول کرتے، شعیب قمر کی ہی یہ ڈیوٹی کیوں کہ وہ شہباز شریف کے ذاتی اکاؤنٹ میں پیسے جمع کروائے، شہباز شریف خاندان کا گھریلو خرچہ کیسے چلتا، شہباز شریف نے مبینہ طور پر ان ٹی ٹی پیسوں سے اہلیہ سمیت کس کس کو کیا کیا تحفے دیے، حمزہ شہباز کے اکاؤنٹ میں کس کس نے پیسے جمع کرائے،

انہوں نے کتنے پلاٹ خریدے، یہ اور بہت کچھ میں نے تو نہیں لکھا، لیکن یہ سب کچھ دوست ارشد شریف ثبوتوں کے ساتھ اپنے ٹی وی پروگرام میں بتا چکا، بلکہ اتنا کچھ بتانے کے بعد بھی ارشد شریف کا اختتامی جملہ تھا، یہ مبینہ منی لانڈرنگ، ٹی ٹی اسکینڈل پارٹ ٹو، اگلے پارٹ کا انتظار فرمائیں۔

جب سے یہ ٹی ٹی فلم نظر سے گزری، تب سے سوچ رہا ہوں قوم نے جسے بھی تخت پر بٹھایا، اس نے رج کر لوٹا، خادم اعلیٰ کو ہی لے لیں، یہ مبینہ کارنامے ایک طرف (ابھی کل ہی نیب ان کی 23جائیدادیں منجمد کر چکا) جبکہ دوسری طرف شہباز شریف فرمائی جا رہے، ایک دھیلا کرپشن ثابت ہو جائے تو الٹا لٹکا دیں، استاد حسن نثار یاد آ جائیں، دامن بھی صاف، خزانہ بھی صاف، اللہ اللہ خیر صلّا۔

ادارتی صفحہ سے مزید