ماہرینِ فلکیات نے کائنات کی تاریخ میں پہلی مرتبہ تین انتہائی بڑے بلیک ہولز کو دریافت کر لیا۔ یہ نایاب فلکیاتی نظام زمین سے تقریباً 1.2 ارب نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، جسے J1218/1219+1035 کا نام دیا گیا ہے۔
عام طور پر کہکشاؤں کے انضمام میں دو کہکشائیں شامل ہوتی ہیں، تاہم اس غیر معمولی واقعے میں تین کہکشائیں ایک دوسرے کے قریب آ رہی ہیں، جس میں سے ہر ایک کے مرکز میں ایک سرگرم اور توانائی خارج کرنے والا بلیک ہول موجود ہے۔
امریکی نیول ریسرچ لیبارٹری سے تعلق رکھنے والی ماہرِ فلکیات ایما شوارٹزمین نے اس دریافت کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایک انتہائی نایاب واقعہ ہے، تینوں بلیک ہولز کو انضمام کے دوران بیک وقت توانائی کی شعاعیں خارج کرتے ہوئے دیکھنا، ٹرپل ریڈیو ایکٹو گیلیکٹک نیوکلیائی کو محض نظریے سے حقیقت میں بدل دیتا ہے۔
ماہرین کے مطابق J1218/1219+1035 قریبی کائنات میں دریافت ہونے والا اپنی نوعیت کا صرف تیسرا نظام ہے، جبکہ یہ پہلا موقع ہے کہ تینوں بلیک ہولز ریڈیو روشنی میں بیک وقت چمکتے ہوئے نظر آئے ہیں۔
سائنسی تحقیق کے مطابق کہکشاؤں کے انضمام سے وقت کے ساتھ ساتھ کہکشائیں اور ان کے مرکزی بلیک ہولز بڑھتے ہیں۔ اگرچہ دو کہکشاؤں کا انضمام نسبتاً عام ہے، لیکن تین کہکشاؤں کا اکٹھا ہونا انتہائی کم دیکھنے میں آتا ہے۔
ابتدائی طور پر اس نظام کی نشاندہی وائیڈ فیلڈ انفرا ریڈ سروے ایکسپلورر کے ڈیٹا سے ہوئی، جہاں یہ صرف دو کہکشاؤں کا انضمام دکھائی دیتا تھا، بعدازاں مزید مشاہدات سے ایک تیسری کہکشاں سامنے آئی، جو دیگر دو کہکشاؤں سے تقریباً 3 لاکھ 16 ہزار نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے، اس تیسری کہکشاں کو باقی نظام سے جڑا ہوا پایا گیا، جس سے اس کے انضمام میں شامل ہونے کی تصدیق ہوئی۔
ماہرینِ فلکیات کا کہنا ہے کہ آئندہ اس نظام کا مختلف طریقے سے مزید مطالعہ کیا جائے گا تاکہ کہکشاؤں اور بلیک ہولز کی نشوونما کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے، ساتھ ہی مستقبل میں ایسے مزید نایاب ٹرپل انضمامی نظاموں کی تلاش بھی جاری رکھی جائے گی۔