آپ آف لائن ہیں
جمعہ29؍محرم الحرام 1442ھ 18؍ستمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، وزیراعظم عمران خان

مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے، وزیراعظم عمران خان


وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ دنیا میں پاکستان کی شناخت بدل چکی ہے، اب ہم مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں ڈیجیٹل پاکستان وژن کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ 

اپنے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے ڈیجیٹل پاکستان منصوبہ پیش کرنے والی تانیہ ادریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گوگل کی ملازمت چھوڑ کر پاکستان آنے کا بڑا فیصلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ وہی لوگ زندگی میں اوپر جاتے ہیں جو بڑے فیصلے کرتے ہیں اور چیلجز کا سامنا کرتے ہیں جبکہ جو لوگ چیلنجز کا سامنا نہیں کرتے ان کی اوپر جانے کی صلاحیت ختم ہوجاتی ہے اور وہ بوڑھے ہوجاتے ہیں، انسان بوڑھا تب ہوتا ہے جب چیلنج ختم ہوجاتا ہے۔

اپنے اقتدار میں آنے کے بعد سابقہ حکومت سے ملنے والے قومی مسائل پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آپ آئندہ 5 سال تک ہم سے سنتے رہیں گے کہ ہمیں کتنے خسارے میں حکومت ملی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو اس وقت کوئی ادارہ ایسا نہیں تھا جو ریکارڈ خسارے میں نہ ہو۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمارے روپے پر دباؤ تھا جس کی وجہ یہ تھی کہ ملک میں ڈالر کی آمد کم جبکہ اس کی بیرون ممالک میں ترسیل زیادہ تھی۔ 

انہوں نے کہا کہ جب روپے پر دباؤ پڑتا تھا اور اس کی قدر میں کمی ہونے لگتی تھی تو پچھلی حکومتیں اسے برقرار رکھنے کے لیے ذرمبادلہ کے ذخائر سے ڈالر کا استعمال کرتی تھیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ روپے کی قدر کو روکنے کے لیے موجودہ حکومت کے پاس پیسے نہیں تھے، تاہم حکومت نے اسی معاملے پر اپنی توجہ مرکوز کیے رکھی اگر ایسا نہ ہوتا تو ڈالر 200 سے 300 روپے تک جاسکتا تھا۔ 

ان کا کہنا تھا کہ جب تک روپیہ مستحکم نہیں ہوتا تب تک ملک میں سرمایہ کاری نہیں آتی اور اسے مستحکم کرنے کے لیے سابق وزیر خزانہ اسد عمر اور موجود معاشی ٹیم نے زور لگایا اور اسے مستحکم کیا۔

انہوں نے کہا کہ جب غیر ملکی مالیاتی ایجنسیاں یہ کہتی ہیں کہ پاکستانی معیشت مستحکم ہوئی ہے تو اس سے حکومت کو اعتماد ملتا ہے اور اس کا عکس پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ پر دکھائی دیتا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹل پاکستان پر ان کی حکومت کو پہلے ہی اقدامات اٹھانے چاہیے تھے جو مذکوہ مسائل کی وجہ سے نہ اٹھا سکے، تاہم اب وہ بھرپور طریقے سے ڈیجیٹل پاکستان پر زور لگائے گی۔ 

انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو ابھارے گا۔

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نوجوان آبادی والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے اور یہی آبادی ڈیجیٹل پاکستان منصوبے کی وجہ سے پاکستان کی طاقت بن سکتی ہے۔ 

 ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں خواتین بھی اپنا حصہ ڈال سکتی ہیں، جنہیں نوکریاں بھی ملیں گی۔ 

 وزیراعظم نے کہا کہ کرپشن ہمیشہ اوپر سے شروع ہوتی ہے، تاہم جو کرپشن اوپر سے نیچے پہنچ گئی ہے اسے ختم کرنے کا طریقہ ای۔گورننس ہے۔ 

ان کا کہنا تھا کہ اداروں میں جیسے ہی ای۔گورننس آئی، ادارے تبدیل ہوگئے۔

انہوں نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ہم حکومتی نظام کو بھی ای۔گورننس میں لانا چاہتے ہیں لیکن اس حوالے سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ ای۔کامرس میں سائبر سیکیورٹی کے مسائل کو حل کرکے اس پر بھی بھرپور انداز میں کام شروع کردیا جائےگا تاہم آنے والے دنوں میں آپ دیکھ لیں گے کہ ہماری حکومت ڈیجیٹل پاکستان پر زور لگائے گی۔ 

ڈیجیٹل پاکستان منصوبہ پیش کرنے والی خاتون تانیہ ادریس کو مخاطب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’آپ کو گھبرانہ نہیں ہے‘۔

عالمی سطح پر پاکستان کی شناخت سے متعلق وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ مجھے خوشی یہ ہے کہ پاکستانی بین الاقوامی سطح پر بااعتبار ملک بن چکا ہے۔ 

اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ کہاں ہمارا ایک پوائنٹ ہوتا تھا کہ پاکستان کو پیسے دو اور کسی کی جنگ لڑیں، اور کہاں اب پاکستان دنیا میں پیس میکر بن گیا ہے اور دنیا میں جہاں آپس میں لڑائیاں ہورہی ہیں انہیں اکٹھا کر رہا ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ ہم مسلم امہ کو اکٹھا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ 

قومی خبریں سے مزید