آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ

نواز شریف اور شہباز شریف نے پارٹی کی ہائی کمان کو لندن بلا لیا۔ کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ شہباز شریف نے خواجہ آصف، مریم اورنگزیب، ملک احمد خان، امیر مقام، رانا تنویر اور ایاز صادق سے علیحدہ علیحدہ تفصیلی ملاقات کیں۔ نواز شریف پرویز رشید سے تنہائی میں ملے۔

سنا ہے اس ملاقات کا موضوع مریم نواز کا مستقبل تھا۔ وہ فکرمند ہیں کہ سپریم کورٹ کہیں مریم نواز کی ضمانت منسوخ نہ کر دے۔ فائنل میٹنگ کے لئے جو ایجنڈا نواز شریف کو بھیجا گیا ہے اس کی شقیں درج ذیل ہیں۔ 1۔آرمی ایکٹ میں ترمیم۔ 2۔الیکشن کمیشن ارکان کی تعیناتی۔ 3۔اِن ہاؤس تبدیلی۔ 4۔پرویز الٰہی کی وزیر اعلیٰ کے خلاف تحریک عدم اعتماد۔ 5۔لیڈر شپ کے خلاف مقدمات پر نون لیگ کا رویہ۔ 6۔حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز۔ 7۔نیا بیانیہ کیا ہونا چاہئے۔ 8۔اسٹیبلشمنٹ سے مراسم۔ اب دیکھتے ہیں کہ میٹنگ میں کس کس پر بحث ہوتی ہے۔

بیمار نواز شریف نے باقاعدہ سیاسی سر گرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ شہباز شریف کی صحت بھی بہتر نہیں۔ شاید اِسی لئے نواز شریف، شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم بنانے کے موضوع پر بالکل خاموش ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ مستقبل میں اقتدار مریم نواز کو ملے۔ انہیں تمام مقدمات سے باعزت بری ہونا چاہئے۔ مریم نواز کی موجودہ خاموشی شاید اِسی طرح کی کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔

بہرحال یہ بات طے ہے کہ شریف فیملی کے ایجنڈے کی پہلی شق یہی ہے کہ کسی طرح مقدمات سے نجات حاصل کی جائے۔ سزائیں ختم کرائی جائیں۔ اس میں شک نہیں کہ پیپلز پارٹی کے ساتھ ساتھ مینگل، چوہدری اور ایم کیو ایم نون لیگ سے مل گئی تو عمران خان کی حکومت کے لئے سچ مچ کے مسائل پیدا ہو جائیں گے۔ ایسی صورت میں عمران خان نئے انتخابات کی طرف بھی جا سکتے ہیں۔

پیپلز پارٹی بھی خاصی پریشان ہے۔ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ اس کے باپ کو بھی نواز شریف کی طرح ملک سے باہر علاج کرانے کا حق ملنا چاہئے۔ اس سلسلے میں پیپلز پارٹی باقاعدہ کمپین چلا رہی ہے۔ میڈیا کی وساطت سے اس ایشو کو اٹھایا گیا ہے۔ دوسری طرف آصف علی زرداری ہیں کہ ملک سے باہر جانا ہی نہیں چاہتے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جیل میں رہ کر وہ پیپلز پارٹی کی زیادہ بہتر قیادت کر سکتے ہیں۔ بے شک آصف علی زرداری خاصے سخت جان لیڈر ہیں۔ اُن پر پی ٹی آئی کے رہنما شہزادہ جہانگیر نے محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگایا ہے اور دعویٰ کیا ہے خود انہیں آصف علی زرداری نے کہا تھا محترمہ کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ محترمہ ناہید خان بھی پہلے دبے الفاظ میں ایسی باتیں کرتی رہی ہیں۔ شہزادہ جہانگیر کا معاملہ بہت سیریس ہے وہ برطانوی شہری ہیں اُن کے خلاف پیپلز پارٹی ضرور برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کو چھپانے کے لئے خالد شہنشاہ کے قتل تک مقتولین کی ایک لمبی فہرست ہے۔ بہرحال الزام تو الزام ہی ہوتا ہے۔ محترمہ کا خون ابھی تک اپنے اصل قاتلوں کی نشاندہی چاہتا ہے۔ سنا تو یہی تھا کہ خون خود دیتا ہے جلادوں کے مسکن کا سراغ۔ مگر یہاں ابھی تک خون اور قانون دونوں خاموش ہیں۔ یہی حالت ماڈل ٹائون کے شہیدوں کی ہے۔ وہاں بھی وقت انصاف کی تلاش میں رکا ہوا ہے۔

پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ اُن کے خیال میں اُن کی قیادت پر لگائے جانے والے تمام الزامات سیاسی ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت دراصل پیپلز پارٹی کے خلاف میڈیا وار لڑ رہی ہے جس کا آغاز جنرل محمد ضیاء الحق نے کیا تھا۔ البتہ پیپلز پارٹی نون لیگ کے ساتھ تمام معاملات طے کر چکی ہے۔ کہہ چکی ہے کہ اِن ہائوس تبدیلی ہو یا قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونا، پیپلز پارٹی ساتھ ہے مگر صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی مستعفی نہیں ہوگی۔ یعنی وہ سندھ کی حکومت چھوڑنے کے لئے کسی قیمت پر تیار نہیں۔ دوسری طرف وزیراعظم عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ انہوں نے ابھی کل کہا ہے ’’سندھ حکومت کا طرزِ حکمرانی خراب نہیں ناکام ہے۔ اربوں روپے کی کرپشن کے ثبوت ملے ہیں اور کرپشن کے خلاف جہاد کرنے آیا ہوں کرپٹ لوگوں سے کوئی ڈیل ہوگی نہ ڈھیل۔ گزشتہ 10سال میں سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہوئی‘۔ اب پاکستان میں کرپٹ افراد کی گنجائش نہیں۔ سب کی باری آئے گی، کوئی نہیں بچے گا، تحریک انصاف کی حکومت کا تو بنیادی ایجنڈا ہی کرپشن کا خاتمہ ہے‘‘۔

دوسری طرف اپوزیشن موجودہ حکومت پر کرپشن کے الزامات لگا رہی ہے مگر ابھی کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا گیا۔ میرے خیال میں چھوٹی سطح پر ممکن ہے ابھی کچھ کرپشن ہو مگر بڑی سطح پر تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ بڑے بڑے سوراخ بند کر دیے گئے ہیں۔ بیورو کریسی میں بھی کرپشن میں خاصی حد تک کمی ہوئی ہے۔ سیاسی بھرتیوں کا معاملہ بھی نظر نہیں آرہا۔ پر مٹ وغیرہ بھی جاری نہیں کئے جا رہے۔ ٹیکس کی چوری روکنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ پہلی بار آفیسر سے کہہ دیا گیا ہے کہ اب ’’سزا‘‘ کے طور پر تبادلہ نہیں، ملازمت سے فارغ کیا جائے گا۔ ملک معاشی استحکام کی طرف بڑھنا شروع ہو گیا ہے۔ اللہ کرم کرے گا۔ تمام لٹیرے مل کر بھی سچائی کا گلا نہیں گھونٹ سکیں گے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)