آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان کی سیاست معاشرے کا چلن بدلتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان کی سیاست ہے کیا؟ اس کا آسان سا جواب ہے میں نہ مانوں، ہمارے میڈیا پر سیاسی بیانوں کی بھرمار نظر آتی ہے۔ لفظوں کی جنگ ایک دوسرے پر الزامات سے شروع ہو کر میں نہ مانوں پر بدمزگی کے ساتھ ختم ہوتی ہے۔ پھر الزام لگانے کے بعد یقین کر لیا جاتا ہے کہ جرم ثابت ہو چکا ہے، پھر نظامِ انصاف اتنا وقت لگا دیتا ہے کہ حق اور سچ تھک کر بےبسی کی تصویر نظر آتے ہیں اور ہمارا نظامِ انصاف آج تک کسی سیاستدان کو اس بات کی سزا نہیں دے سکا کہ اس نے غلط بیانی کی یا جھوٹ بولا۔ حالیہ دنوں میں الیکشن کمیشن آف پاکستان بھی انتخابی معاملات میں عدالت لگانے کا اختیار رکھتا ہے۔ اگر کسی انتخابی معاملہ میں الزام لگ جائے کہ انتخاب ٹھیک طریقہ سے نہیں ہوا اس کے لئے وقت کا تعین ہے کہ مقررہ وقت میں فریقین کو انصاف مہیا کیا جائے گا۔ الیکشن کمیشن کے چیئرمین بڑی اہم حیثیت کا سرکاری عہدیدار ہوتا ہے مگر اتنے الیکشن ہونے کے باوجود ہمارا الیکشن کمیشن نیک نامی نہ کما سکا اور الزامات لگتے رہے کہ کوئی بھی الیکشن شفاف نہیں ہوا۔

اب تک جتنے بھی الیکشن ہوئے ان میں مشترکہ پاکستان کا آخری الیکشن جنرل یحییٰ خان کے مارشل لاء کے زمانہ میں ہوا اور بہت حد تک شفاف مانا جاتا ہے مگر ہمارے مشہور اور جمہوریت کے چمپئن سیاستدانوں نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور نتیجہ کیا نکلا۔ ملک کا بٹوارہ ہو گیا جب انتخابات میں سیاستدانوں کو اپنی حیثیت کمزور لگی تو بھاشن دینا شروع کر دیا اور اخباروں میں سرخی لگی اِدھر ہم اُدھر تم۔ اگرچہ اس سرخی کے موجد ہمارے شاہ جی (عباس اطہر)تھے، میں نے ان سے پوچھا کہ یہ بیان تو کبھی بھی نہیں آیا وہ میری سادہ لوحی پر مسکرائے۔ مجھے یاد ہے کہ اخباروں میں بیان نہیں سیاستدانوں کی پریس ریلیز چھپتی ہیں اگر حسن اتفاق سے بیان چھپ ہی جائے تو اگلے دن تردید بھی آجاتی ہے کہ ہمارا بیان سیاق وسباق سے ہٹ کر لگایا گیا ہے۔ اور یہ سلسلہ ابھی تک چل رہا ہے پھر ایسے ایسے بیان آتے ہیں کہ جمہوریت بیگم بھی اپنا ماتھا پیٹتی نظر آتی ہے۔ ابھی سینیٹر مشاہد اللہ خان نواز گروپ کے نظریہ ساز فرماتے ہیں اگر ڈگری جعلی ہے تو کیا ہوا نوکری نہیں جانی چاہئے۔ کیونکہ موصوف نے پی آئی اے میں خاصی بھرتی کروائی اور خود بھی کام کیا۔

اب پی آئی اے میں اک عرصہ کے بعد ایک ایسا افسر باکمال آیا ہے جو بہت ہی سادہ منش ہے اور مجھے حیرانی ہے کہ پی ٹی آئی کی سرکار میں یہ کیا ہو گا، ایئرمارشل ارشد ملک ہماری فضائیہ کے حاضر سروس اعلیٰ افسر ہیں وہ اور ایئر مارشل مجاہد ایک ہی بیج کے تربیت یافتہ ہیں۔ ارشد ملک کی دھوم کامرہ جو جہازوں کے بنانے کی ملکی فیکٹری مانی جاتی ہے، میں بھی ہے۔وہاں پر حیرت انگیز اور نت نئے تجربات اور ذہانت سے محدود وسائل میں ترقی کی اور ملکی دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔ پھر نجانے کس کے کہنے پر عمران خان نے ان کو پی آئی اے کا سربراہ مقرر کر دیا۔ انہوں نے کمال کا کام یہ کیا کہ پی آئی اے کا ہیڈکوارٹر یا صدر دفتر بڑی تدبیر سے اسلام آباد منتقل کیا، اب پاکستان کے تمام بڑے افسر اسلام آباد میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں اور چند ہی مہینوں میں پی آئی اے کے معاملات میں بدلائو نظر آ رہا ہے۔ جہازوں میں اضافہ ہوا، اب بھی نجکاری کی لسٹ میں پی آئی اے شامل ہے مگر امید ہے اچھی قیمت لگ سکتی ہے۔ اس سلسلہ میں ہمارے ایک سندھی وزیر جناب سومرو صاحب خاصے حرکت پذیر نظر آتے ہیں۔ پی آئی اے کو فروخت کرنے کے بجائے اس کی مینجمنٹ کو فروخت کیا جائے ،میں نے جناب ارشد ملک سے رابطہ کیا تو ان کے متعلقہ افسر کا جواب آیا کہ جلد ملاقات ہوگی۔ اب مجھے کچھ دن کے لئے ملک سے باہر جانا ہے۔ دیکھیں واپسی پر پی آئی اے اور ملک ارشد کب وقت دے کر کامیابی کی کہانی سناتے ہیں۔

بات سیاستدانوں سے شروع ہوئی تھی، اگر پی آئی اے میں سیاستدان بھرتی نہ کرواتے تو یہ ادارہ پاکستان کے اہم اداروں میں شمار ہوتا اور الزام اس لئے لگایا جا رہا ہے کہ بھرتی میں اصول اور قانون کو نظرانداز کیا گیا اور اپنے حلقے اور علاقے کے لوگوں کو روزگار تو دیا اور اصول اور قانون کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا اور ایک ملکی ادارے کی ساکھ کو نقصان سے دوچار کیا اور اس سے دوسری غیر ملکی فضائی کمپنیوں کو موقع ملا کہ وہ مقابلہ کے بغیر منافع میں زیادہ کی حصہ دار بن گئی اور اس کے پیچھے بھی سیاست کارفرما نظر آتی ہے۔

اب خوف یہ ہے کہ باتیں ہو رہی ہیں کہ اِن ہائوس تبدیلی کے لئے ہمارے سیاستدان لندن میں اکٹھے ہو رہے ہیں، یہ لندن پلان کبھی پاکستان کے لئے نیک شگون لیکر نہیں آیا۔ اب نیب کے قوانین بھی بدلے جا رہے ہیں ایک طرف تو نئی قانون سازی حزبِ اختلاف کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہے۔ دوسری طرف اعلیٰ عدلیہ کوشش کر رہی ہے کہ اسمبلی اور سرکار کا وقار قائم رہے مگر ہمارے بیمار اور بااختیار سیاستدان ایک دوسرے پر اعتبار کرنے پر تیار نہیں اور ووٹ کو عزت کیا ملنی تھی جمہوریت کو اپنی بقا کی فکر پڑ گئی ہے۔ عدم برداشت نے سیاست کو مچھلی بازار بنا دیا ہے۔ عمران خان اپنی حد تک کوشش کر رہا ہے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اور اسی وجہ سے ملک میں سیاست اور جمہوریت بدنام ہو رہی ہے مگر ان کے اپنے ہاں سیاستدان اتنے شفاف نظر نہیں آ رہے۔ اب پھر سازشوں کی ہوا چل رہی ہے اور لگتا ہے کہ فریقین اعلیٰ عدلیہ سے مشورہ نہیں مدد کے لئے جلد رجوع کرنے والے ہیں، دیکھیں کون پہل کرتا ہے۔

(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائےدیں00923004647998)