آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر یکم جمادی الثانی 1441ھ 27؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’’پراپرٹی پر قبضہ‘‘ تارکین وطن کا اہم مسئلہ

سعودی عرب اور دیگر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کوبہت سے مسائل کا سامنا ہے، جن میں پراپرٹی پرقبضہ سرفہرست ہے ،جس پہ اپنی محنت سے کمائی ہوئی رقوم صرف کرنےوالے ہزاروں پاکستانی سخت پریشانی کا شکار ہیں، اس حوالے سے پاکستان قونصل خانہ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم پاکستان کی جانب سے تارکین وطن کے لیے آن لائن شکایتی مرکز ’پاکستان سٹیزن پورٹل‘ میں اب تک جدہ قونصل خانہ کو موصول ہونےوالے زیادہ تر مسائل پاکستان میں جائیداد وں پر قبضے کے حوالے سےہیں ۔پاکستان قونصل خانے کے قونصل پریس ارشد منیر نے جنگ کوبتایا کہ’ پورٹل کے ذریعے براہ راست شکایات درج کرائی جاتی ہیں موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد پاکستان میں موجود ذمہ دار کی جانب سے متعلقہ اداروں کو ارسال کی جاتی ہیں‘۔ 

جدہ سے زیادہ تر ارسال کی جانے والی شکایات پراپرٹی سے متعلق ہیں جن کے ازالے کے لیے قونصلیٹ کی جانب سے درخواست گزار کی شکایت وصول کر کے پاکستان میں اوورسیز کے ادارے کو ارسال کی جاتی ہیں جہاں سے معاملات کی پیروی کی جاتی ہے۔پاکستان قونصل خانے میں پورٹل کے حوالے سے بینر آویزاں کیے گئے ہیں ۔ 

ارشد منیر کا کہنا تھا کہ’ وزیر اعظم پورٹل سے لوگوں کو یہ سہولت ہو گئی ہے کہ وہ گھر بیٹھے اپنی شکایات متعلقہ ادارے تک پہنچا دیتے ہیں جو افراد یہ پورٹل استعمال نہیں کر سکتے وہ مزید رہنمائی کے لیے قونصلیٹ کے شعبہ ویلفیئر سے رجو ع کر سکتے ہیں‘ ۔ گزشتہ 10 ماہ کے دوران پاکستان میں صرف زمینوں پر قبضے کے حوالے سے 238 درخواستیں موصول ہوئیں جن کے بارے میں قونصلیٹ کی جانب سے متعلقہ فریق کو اطلاع بھی فراہم کی گئی‘۔

قونصلیٹ میں موصول ہونے والی درخواستیں او پی ایف کو ارسال کی جاتی ہیں جہاں سے انہیں متعلقہ ڈسٹرکٹ کے ڈی پی او کو بھیجا جاتا ہے تاکہ معاملہ جلد از جلد حل کیاجاسکے ۔ قونصل پریس نے مزید کہا کہ ’ سٹیزن پورٹل مملکت میں مقیم ہم وطنوں کے مسائل کے حل کے لیے کافی مفید ثابت ہو رہا ہے ۔ 

تارکین وطن اپنے مسائل کے ساتھ ساتھ تجاویز بھی پورٹل پر ارسال کر سکتے ہیں۔واضح رہے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے بیرون ملک مقیم ہم وطنوں کے مسائل کو جلد از جلد حل کرانے کے لیے آن لائن شکایتی مرکز قائم کیا ہے جس پر تارکین اپنے مسائل ارسال کر سکتے ہیں ۔

بیرون ملک سے پورٹل پر موصول ہونے والی شکایات کا جائزہ لینے کے بعد انہیں متعلقہ ملک کے سفارتخانے کو ارسال کیا جاتا ہے جہاں سے درخواست کو اپ لوڈ کیا گیا تھا تاکہ حل کے لیے سفارتخانہ اہم کردار ادا کرے ۔اطلاعات کے مطابق اب تک جدہ قونصلیٹ کو موصول ہونے والی سب سے زیادہ شکایات ان ہم وطنوں کی ہے جن کی پاکستان میں زمینوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے ۔ 

وزیراعظم نے سٹیزن پورٹل سروس پر شہریوں کی شکایات حل کیے بغیر بند کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام کو تیس روز تک رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔گزشتہ ماہ کے اوائل میں وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں تمام وزارتوں، محکموں اوراداروں کو جائزہ رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ وزیراعظم آفس نے سیٹزن پورٹل پر شہریوں کی شکایات کو سنجیدہ نہ لینے والے افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شکایات کے حل کا فیصلہ غیر متعلقہ افراد کرتے ہیں اور شہریوں کی شکایات گائیڈ لائن کے مطابق حل کیے بغیر بند کی جا رہی ہیںاور شہریوں کی شکایات حل نہ کرنے کی کوئی ٹھوس وجوہات بھی نہیں بتائی جاتیں۔‘ وزیراعظم آفس کی جانب سے جاری خط میں کہا گیا ہے کہ شکایات کے حل کیے جانے کا بیان بھی اکثر گمراہ کن ہوتا ہے۔

وزیر اعظم آفس سے جاری خط کے مطابق ’ شکایات کا حل افسران بالا کے بجائے ماتحت اہلکاروں کے سپرد کیا جا رہا ہے۔‘ وزیراعظم آفس نے وزارتوں اور محکموں میں پانچ رکنی کمیٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی سربراہی جوائنٹ سیکرٹری یا 20 گریڈ کا افسر کرے گا۔ کمیٹی کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ اب تک کی تمام حل اور غیر حل شدہ شکایات میں خامیوں کی نشاندہی کرے اور بد ترین کارکردگی دکھانے والے افسران کا تعین بھی کرے۔ کمیٹی متعین افسران کے ڈیش بورڈ کی جانچ پڑتال کر کے 30 روز کے اندر وزیراعظم آفس کو رپورٹ جمع کروائے گی۔

وزیراعظم ڈیلوری یونٹ کی جانب سے تمام وزارتوں اور محکموں کی کارکردگی رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے جس میں خامیوں اور ناقص کارکردگی کی نشاندہی کی گئی ہے۔وزیراعظم ڈیلیوری یونٹ نے بتایا کہ شہریوں کی جانب سے سٹیزن پورٹل سروس پر کی گئی شکایات کا آڈٹ کیا گیا جس میں تمام وزارتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہریوں کی شکایات کو غیر سنجیدہ لینے والے افسران کے خلاف اب کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کمیٹیوں کی رپورٹ کی روشنی میں ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی عمل میں لائے جائے گی۔

بلادی سے مزید