• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا

سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا


خصوصی عدالت کی جانب سے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا۔

تفصیلی فیصلے کی کاپیاں نمائندہ وزارتِ داخلہ اور پرویز مشرف کے نمائندے کے حوالے کر دی گئی ہے جو انہیں لے کر روانہ ہو گئے۔

مشرف کی سزائے موت کا تفصیلی فیصلہ


خصوصی عدالت نے منگل  کو سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو موت کی سزا دینے کا حکم سنایا تھا۔

یہ بھی پڑھیے:وزیراعظم نے عدالتی فیصلوں پر بیان سے روک دیا

عدالتی فیصلے کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف آرٹیکل 6 کے تحت مجرم قرار پائے، ان پر 2007ء میں آئین توڑنے، ایمرجنسی لگانے، ججز کو نظر بند کرنے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سابق صدر کے خلاف آئین میں غیر قانونی ترامیم، بطور آرمی چیف آئین معطل کرنے اور غیر آئینی پی سی او جاری کر کے آئین شکنی کرنے کا جرم بھی ثابت ہوا ہے۔

اکثریتی فیصلہ جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم نے دیا جبکہ سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس نذر اکبر نے اس فیصلے سے اختلاف کیا۔

یہ بھی پڑھیے:مشرف کے برطانوی وکیل ٹوبی کیڈمین کا سزا پر تبصرہ

یہ بھی پڑھیے:دہشت گردی کا دوسرا نام عسکریت پسندی ہے

سنگین غداری کیس کا تفصیلی فیصلہ 169 صفحات پر مشتمل ہے جس میں دو ججز جسٹس وقار سیٹھ اور جسٹس شاہد فضل کریم کے فیصلے کے 125 صفحات اور جسٹس نذر اکبر کے اختلافی نوٹ کے 44 صفحات شامل ہیں۔

واضح رہے کہ منگل 17 دسمبر کو خصوصی عدالت کے تین رکنی بینچ نے سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں دو ایک کی اکثریت سے سزائے موت سنائی تھی۔

قومی خبریں سے مزید