آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل2؍جمادی الثانی 1441ھ 28؍جنوری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

سائیکلنگ اور پیدل سفر ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کرے

سائیکلنگ اور پیدل سفر ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم کرے


موجودہ دور میں موٹر سائیکل کے حد سے زائد استعمال کی وجہ سے انسان اب سائیکل چلانے اور چہل قدمی کرنے سے محروم ہوگیا ہے۔

تاہم محققین کا ماننا ہے کہ نوجوانوں میں سائیکل چلانے اور چہل قدمی کرنے کی وجہ سے ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

یورپین جنرل آف پروینٹیو کاڈیالوجی میں شائع ہونے والی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2011 میں ایسے علاقے جہاں کام کی غرض سے چہل قدمی کرنے یا پھر سائیکل چلانے کا رجحان تھا وہاں پر آئندہ 2 سال کے لیے مردوں اور خواتین میں دل کا دورہ پڑنے کے واقعات میں کمی واقع ہوئی تھی۔

مزید پڑھیے: سیب کی چائے کے حیرت انگیز فوائد

اس تحقیق میں سابق برطانوی اولمپیئن اور گولڈ میڈلسٹ ایتھلیٹ ایلسٹر براؤنلی بھی شامل تھے جو کہتے ہیں کہ ’لیڈز یونیورسٹی میں ہونے والی اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ چہل قدم یا سائیکلنگ جیسی ورزش کو جب اپنی زندگی کا حصہ بنایا جاتا ہے تو اس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کا امکان کم ہوجاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا روزمرہ کی بنیادوں پر کی گئی ورزش کے متعدد فوائد ہیں، تاہم ہم ایسے افراد کے ان اقدامات کی مدد کریں گے تاکہ وہ متحرک ہوجائیں۔

اس تحقیق کو 2011 کے برطانوی مردم شماری کے اعداد و شمار کی مدد سے کی گئی جس کے مطابق اس وقت 25 سے 74 سال کی عمر کے تقریباً 4 کروڑ 30 لاکھ افراد انگلینڈ میں ملازمت کرتے ہیں جن میں سے 11.4 فیصد افراد چہل قدمی کرتے ہیں جبکہ ان چہل قدمی کرنے والے افراد میں سائیکل سے زیادہ پسندیدہ چیز پیدل چلنا ہے۔

ان مسافروں میں متحرک مسافر ان افراد کو قرار دیا گیا تھا جنہوں نے اپنے آفس یا کام کی جگہ پر جانے کے لیے پیدل چلنے یا پھر سائیکل کے استعمال کو وجہ بتائی تھی۔

محققین نے مذکورہ ڈیٹا کی مدد سے اس بات کا اعتراف کیا کہ جو لوگ سائیکل چلا کر اپنے کام پر جانے یا پھر پیدل چل کر جانے کے عادی تھے ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ ایک اعشاریہ 7 فیصد کم ہوا۔

سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ دل کا دورہ پڑنے کے بڑے عوامل میں ورزش کی کمی، وزن کا بڑھنا، سگریٹ نوشی اور ذیابیطس شامل ہیں۔

ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ ان تمام چیزوں پر قابو پانے کے باوجود ایسے افراد جو باقاعدہ پیدل چلتے ہیں اور سائیکلنگ کرتے ہیں ان کی صحت میں مزید بہتری آئی ہے۔

اس تحقیق کے ایک محقق کرس گیل کا کہنا تھا کہ ہم یہ وثوق کے ساتھ تو نہیں کہ سکتے کہ اس پیدل چلنے اور سائیکل چلانے سے کتنی حد تک ہارٹ اٹیک کا خطرہ کم ہوتا ہے، تاہم ان دونوں میں تعلق ضرور موجود ہے۔

صحت سے مزید
خاص رپورٹ سے مزید