آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل23؍جمادی الثانی 1441ھ 18؍ فروری2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’امریکا، ایران کشیدگی‘ عالمی امن کو خطرہ لاحق

امریکا اور ایران کے مابین گزشتہ چار دہائیوں سے حالات کشیدہ رہے ہیں ۔ امریکانے مختلف ادوار میں ایران پر اقتصادی اور سماجی پابندیاں عائد کی ہیں۔ حالیہ امریکا اور ایران کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ جس کی وجہ اختتام سال کے دوران چند امریکی کاروباری شہریوں کو حزب اللہ کے اتحادی شیعہ ملیشیا نے ہلاک کردیا تھا۔ اس پر امریکی صدر نے عراق اور شام میں حزب اللہ کی اتحادی ملیشیا کے عراقی اور شامی ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حکم دیا، جو ڈرون حملوں سے کیا گیا اور اس عمل میں پچیس جنگجو ہلاک ہوئے۔ 

اس واقعہ پر عراقی عوام میں شدید ردعمل ہوا اور ایران نے امریکا کی شدید مذمت کی۔ ان ہلاکتوں کے بعد عراقی عوام کی بڑی تعدادنے اکتیس دسمبر کو امریکی سفارت خانہ پر مظاہرہ کیا جس میں بہت زیادہ نقصان ہوا۔ امریکی سفارت خانہ تقریباً مٹی کا ڈھیر بن گیا عمارت میں جگہ جگہ آگ بھڑکتی رہی۔ عراقی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کیا۔ 

اس واقعہ پر امریکی صدر نے شدید ردعمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تین جنوری کو ایران اسلامی گارڈ کے معروف جنرل قاسم سلیمانی کو بغداد میں ڈرون حملے سے ہلاک کرایا اور صدر ٹرمپ نے خود اس حملے کا حکم دینے کی ذمہ داری قبول کی۔ جنرل قاسم سلیمانی ایران اور ایران کے اتحادیوں میںاپنی ایک خاص شہرت رکھتے تھے کہا جاتا ہے، کہ جنرل قاسم انتہائی زیرک جنرل تھے۔

 اور ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ علی خامنائی کے بعد دوسرے طاقتور شخصیت کے مالک تھے، جن کی عسکری ذہانت اور منصوبہ بندی کی وجہ سے ایران نے مشرق وسطیٰ میں اپنا اثر و رسوخ بڑھایا عراق، شام، یمن اور لبنان میں حزب اللہ اور شیعہ ملیشیا کو فعال بنایا۔ جنرل قاسم سلیمانی کی قدس فورس جس کے وہ کمانڈر تھے دیگر فورسز کو بھی امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف مشرق وسطیٰ کے ہر محاذ پر کامیابی سے کمان کیا ایران کی دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کیا۔ اس لئے ایرانی عوام کی بڑی اکثریت ان کا بہت احترام کرتی تھی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بیان میں کہا کہ جنرل قاسم ہزاروں امریکی فوجیوں اور شہریوں کے ہلاکتوں کا ذمہ دار تھا اس لئے بطور خاص انہیں ڈرون حملے میں ہلاکت کا حکم دیا۔

ایران کے رہنمائوں اور عوام نے جنرل قاسم کی ہلاکت پر شدید ترین غم و غصہ کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنائی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران اپنے دشمنوں کے خلاف جہاد جاری رکھے گا اور یہ جہاد آخری فتح حاصل کرنے تک جاری رہے گا۔ ایرانی صدر، حسن روحانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران ایک عظیم ملک ہے اس انتقامی کارروائی کا بدلہ ضرور لیا جائے گا۔ 

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ امریکا کا عمل عالمی دہشت گردی کے مترادف ہے، جنرل قاسم سلیمانی کو خاص طور پر ٹارگٹ کرکے ہلاک کیا گیا۔ امریکاکے اس غلط اقدام سے مشرق وسطیٰ میں داعش، القائدہ اور النصر جیسی دہشت گرد تنظیمیں پھر سر اٹھا سکتی ہیں۔ امریکی اقدام پر روس، شام، عراق اور فرانس نے بھی شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ برطانیہ نے امریکا سے کہا کہ وہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے لئے اقدام کرے، ساتھ ہی جنرل قاسم سلیمانی کو اس خطے کے لئے خطرہ قرار دیا۔ تاہم اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف کی۔

جنرل قاسم کی ہلاکت پر ایران میں سرکاری طور پر تین دن کا سوگ منایا گیا اور ان کے جنازہ میں ہزاروں افراد اور سرکاری اعلیٰ افسران نے شرکت کی ان کے آبائی شہر کرمان میں تدفین عمل آئی۔ جنرل قاسم کے حوالے سے کہا جاتا ہےکہ بیس سال کے عرصے میں انہوں نے ہزاروں ایران مخالف عناصر کو ختم کیا۔ 

داعش کو عراق اور شام میں نقصان پہنچایا۔ وہ صرف ایران کے سپریم رہنما آیت اللہ خامنائی کو جواب دہ تھے۔ مغربی حلقے انہیں اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیتے تھے۔ امریکا اور ایران کی حالیہ کشیدگی میں اضافہ اس وقت شروع ہوا جب صدر ٹرمپ نے امریکا ایران جوہری معاہدہ کو منسوخ قرار دیتے ہوئے ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں عائد کردی تھیں۔ 

امریکی خفیہ ذرائع کہتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر رسوخ کو نقصان پہنچانے کے لئے جنرل قاسم نے ایک جامع منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔ اس حوالے سے مغربی حلقے خاص طور پر امریکا اور اس کے اتحادی جنرل قاسم کے شدید مخالف تھے۔ ایران نے اس واقعہ پر جس شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا ہے اس حوالے سے بیشتر سفارت کاروں اور سیاسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے ایران ضرور کوئی انتہائی اقدام اُٹھاسکتا ہے اور جواب میں امریکا بھی کچھ ایسا ہی کرسکتا ہے جس سے خطے میں جنگ چھڑ جانے کا خدشہ ہے۔ معروف تجزیہ نگار علی اکبر وریانی کا خیال ہے کہ خطے میں جنگ کے خطرات منڈلارہے ہیں جس سے خطے کی دہشت گرد تنظیمیں فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔

بعض سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ایران اس خطے کی بڑی طاقت ہے، امریکا اس کو عراق نہ تصور کرے۔ ایران کی سطح افواج سوا پانچ لاکھ سے زائد ہے۔ ریزو فوج کی تعداد تین لاکھ سے زائد ہے۔ ایران کی آبادی سوا آٹھ کروڑ اور رقبہ تقریباً چھ لاکھ مربع میل کے برابر ہے۔ جبکہ ایران کا محل وقوع بھی عراق سے مختلف ہے۔ اس کے شمال اور جنوب میں سمندری علاقے ہیں۔ ایران کی سرحدیں پاکستان، افغانستان، ترکی اور عراق سے ملتی ہیں۔ 

ایران جنگ کی صورت میں خلیج فارس عمان کو بند کرسکتا ہے جہاں کھاڑی صرف دو میل چوڑی ہے ایسی صورت میں دنیا تیس فیصد تیل کی فراہمی سے محروم ہوسکتی ہے اور تیل کی قیمت بہت بڑھ سکتی ہے۔ القدس فورس جو بہت زیادہ منظم اور تربیت یافتہ ہے اپنے سپریم رہنما کے حکم پر کچھ بھی کرسکتی ہے اس لئے ان سفارت کاروں کے خیال میں امریکا کو ایران سے جنگ کرنے کی بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ تاہم امریکا سپر پاور ہے وہ اس زوم میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔

امریکا کی پالیسی یہ رہی ہے کہ ایران کو خطہ میں تنہا کردیا جائے مگر اس کھیل میں امریکا بھی اپنے اتحادی کھوتا جارہا ہے۔ حال ہی میں ایران نے روس سے چند اہم معاہدے کئے ہیں چین سے بھی ایران کے اچھے تعلقات ہیں اور روس سے ایران نے جدید دفاعی سامان بھی خرید کیا ہے۔ دو طرفہ دھمکیوں کے تبادلہ میں دونوں جانب کے سربراہان ایک دوسرے کو دھمکا رہے ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی طرف سے کسی امریکی شہری یا املاک کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو پھر امریکا بھی ایران کی 52سائٹس کو نشانہ بنائے گا۔ اس لئے ایران دھمکانا چھوڑ دے۔ 

سعودی عرب کے شاہ سلیمان نے خطہ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے اور ان کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد امریکا اور برطانیہ کے دورے پر گئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جواز میں برطانیہ نے اپنے بحری بیڑے کے دو جہاز خلیج روانہ کردیئے ہیں وہ اس علاقے سے برطانوی شہریوں کو واپس لانے کے لئے گئے ہیں۔ ایران کی مسلح افواج کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران جنگ کی صورت میں اسرائیل کی دو درجن سے زائد تنصیبات کو نشانہ بنائے گا۔ 

اس موقع پر صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران اب دھمکیاں دینا بند کرے امریکا کسی دھمکی سے چپ نہیں رہ سکتا۔ ادھر ایران کے صدر اور وزیر خارجہ نے ترکی روس اور دیگر ممالک کے سربراہوں سے فون پر بات کی ہے۔ قطر کے وزیر خارجہ بھی ایران پہنچ گئے ہیں۔ مگر امریکا میں پنٹاگون سمیت بیشتر سابق اعلیٰ افسران صدر ٹرمپ کی جاری پالیسی پر نکتہ چینی کررہے ہیں ان کے خیال میں خود صدر ٹرمپ بڑے فیصلے کر رہے ہیں اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں اور کانگریس کو بے خبر رکھ رہے ہیں۔

ایک اہم اقدام ایران کی طرف سے اٹھایا گیا ہے کہ ایران کی ایک قدیم مقدس مسجد جس پر ہمیشہ ہرا جھنڈا لہراتا تھا اب وہاں سرخ پرچم لہرا رہا ہے جس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ ایران اب حالت جنگ میں اور جہاد شروع ہوچکا ہے۔ عراق میں بڑے مظاہرہ جاری ہیں اور مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ عراق کی سرزمین سے امریکیوں کو نکالا جائے۔ 

ادھر چین نے بھی امریکا اور ایران کو خطہ میں کشیدگی کم کرنے پر زور دیا ہے جبکہ روسی صدر پیوٹن نے ایران کے صدر کو تعزیتی فون کیا ہے اور امریکی حملے کی پرزور مذمت کی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں اچانک کشیدگی میں اضافہ پر تمام عالمی رہنما پریشان ہیں۔ تیل کی ترسیل خطرے میں اور قیمتیں بڑھنے کا ڈر معیشت کے لئے بری خبر ہے۔

عالمی منظر نامہ سے مزید