آپ آف لائن ہیں
پیر19؍ذی الحج 1441ھ 10؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

اُحد کے میدان میں مشرکین کا قیمتی سازوسامان بکھرا پڑا تھا۔ کچھ مجاہدین کفّار کے تعاقب میں تھے،کچھ آنحضرتؐ کے ساتھ تھے اور کچھ ایسے بھی تھے کہ جنہوں نے میدانِ جنگ سے مالِ غنیمت جمع کرنا شروع کر دیا۔ رسول اللہؐ نے کوہِ عینین پر 50تیراندازوں کو تعیّنات فرماتے ہوئے سختی سے ہدایت فرمائی تھی کہ وہ کسی بھی حال میں اپنی جگہ نہ چھوڑیں، لیکن جب تیراندازوں نے دیکھا کہ میدانِ جنگ مشرکین سے خالی ہو چُکا ہے، تو اُنہوں نےاُس نازک ترین مورچے کو خالی چھوڑ دیا۔ 

اُن کے امیر، حضرت عبداللہؓ بن جبیر نے ہر چند اُنہیں روکنا چاہا، لیکن چالیس تیرانداز نیچے اُتر گئے ۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے محبوبﷺ کی یہ حکم عدولی پسند نہ آئی اور وہ فتح، جس نے مسلمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے اُن کے قدم چومے تھے، رُوٹھ کر اُن سے دُور جا کھڑی ہوئی۔

خالد بن ولید کا حملہ

وہ جبلِ رماۃ جس پر کفّار کے صبح سے تین حملے پسپا کیے جا چُکے تھے، اب خالی پڑا تھا۔ خالد بن ولید نے ایک سو گُھڑ سواروں کو ساتھ لیا اور آندھی طوفان کی طرح پہاڑی کا لمبا چکر کاٹ کر عقب سے اسلامی لشکر پر دھاوا بول دیا۔ اُس وقت جبلِ رماۃ پر حضرت عبداللہؓ بن جبیر سمیت صرف دَس تیر انداز موجود تھے، جنہوں نے دلیری سے مقابلہ کیا، لیکن سب شہید ہوگئے۔دوسری طرف سے ابو سفیان، ابوجہل کے بیٹے، عکرمہ سمیت سب مشرکین پلٹ آئے ۔یوں جنگ کا پانسا پلٹ گیا۔ 

مسلمان چاروں طرف سے کفّار کے نرغے میں آچُکے تھے۔ خالد بن ولید کے لشکر نے درمیان میں گھس کر آنحضرتﷺ اور آپﷺ کے چند جانثاروں کو باقی مسلمان فوج سے کاٹ کر گھیرے میں لے لیا۔ اس اچانک افتاد نے اسلامی لشکر میں افراتفری پھیلا دی۔ افراتفری کے عالم میں مسلمان اور مشرکین اس طرح گڈ مڈ ہو گئے کہ ایک دوسرے کا پتا ہی نہ چلتا تھا۔ اسی دوران مسلمانوں کے عَلم بردار، حضرت مصعبؓ بن عمیر شہید کر دئیے گئے۔ اُن میں چوں کہ رسول اللہﷺ کی شباہت آتی تھی، چناں چہ افواہ اُڑ گئی کہ رسول اللہﷺ شہید ہوگئے۔ 

اس افواہ نے مسلمانوں کے رہے سہے ہوش وہواس بھی گم کردیئے اور وہ ہمّت ہار بیٹھے۔حضرت انسؓ نے دیکھا کہ کچھ لوگ مایوس ہوکر ہتھیار پھینک بیٹھے ہیں، تو پوچھا ’’تمھیں کیا ہوا؟‘‘ وہ بولے ’’حضورﷺ شہید ہوگئے، اب لڑ کر کیا کریں گے؟‘‘ حضرت انسؓ نے کہا ’’آپﷺ کے بعد ہم زندہ رہ کرکیا کریں گے‘‘ اور دشمن کی فوج میں گھس گئے۔ لڑائی کے بعد جب اُن کی لاش کا معائنہ کیا گیا، تو جسم پر تلواروں، تیروں اور نیزوں کے اَسّی سے زیادہ زخم تھے۔

آنحضرتﷺ کے گرد خوں ریز معرکہ

حضرت کعبؓ بن مالک نے سب سے پہلے رسول اللہﷺ کو دیکھ کر باآواز بلند کہا’’ اے مسلمانو! رسول اللہﷺ زندہ سلامت ہیں۔‘‘ پھر آنحضرتﷺ نے بلند آواز میں فرمایا’’ اللہ کے بندو! میری طرف آؤ۔ مَیں اللہ کا رسولؐ ہوں۔‘‘ رسول اللہﷺ کی آواز سُن کر کفّار بھی آپﷺ کی طرف متوجّہ ہوئے اور آپﷺ کے اِردگرد خوں ریز لڑائی شروع ہوگئی۔ اُس وقت رسول اللہﷺ کے ساتھ صرف نو صحابہ کرامؓ تھے، جن میںسات انصار اور دو مہاجر تھے۔ کفّار، آنحضرتﷺ کے بالکل قریب آچُکے تھے۔ اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا ’’کون ہے، جو اُنہیں ہم سے دُور کرکے جنّت کمائے اور جنّت میں وہ میرا رفیق ہوگا۔‘‘ حضرت زیادؓ انصاری پانچ انصار صحابہ کو لے کر آگے بڑھے اور کہا’’ یارسول اللہﷺ! ہماری جانیں آپﷺ پر قربان، ابھی ہم زندہ ہیں‘‘، یہ کہہ کر مشرکوں سے ٹکرا گئے اور پانچوں لڑتے لڑتے شہید ہوگئے( صحیح مسلم)۔ 

آنحضرتﷺ کے پاس صرف دوقریشی صحابی رہ گئے تھے، ایک حضرت طلحہ ؓ بن عبید اللہ اور دوسرے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص(صحیح بخاری)۔ اللہ کے رسولﷺ دشمن کے گھیرے میں تھے اور چاروں طرف سے تابڑ توڑ حملے جاری تھے۔ اس سے پہلے کہ باقی صحابہؓ آپﷺ تک پہنچتے، حضرت سعدؓ کے بھائی، عتبہ بن ابی وقاص نے نبیٔ رحمتﷺ کی جانب پوری قوّت سے پتھر اُچھالا، جو آپﷺ کے رُخِ انور کو مجروح کر گیا۔ 

آپؐ کا داہنا نچلا دانت ٹوٹ گیا اور نچلے ہونٹ پر بھی زخم آیا۔ اسی اثنا میں ایک اور مُشرک عبداللہ بن شہاب زہری نے آپؐ کی پیشانی زخمی کردی۔ ایک اور کافر گھڑ سوار عبداللہ بن قمعہ مجمع چیرتا آگے بڑھا اور سرکارِ دو عالمﷺ پر تلوار سے وار کیا، جو شانے پر لگا، لیکن دو زرہیں ہونے کی وجہ سے شانہ تو محفوظ رہا، مگر اس کی چوٹ کافی عرصے تک تکلیف دیتی رہی۔ پھر اُس بدبخت نے چہرۂ مبارک پر تلوار ماری، جو خَود (لوہے کی ٹوپی) پر لگی اور خود کی دو کڑیاں رُخسارِ مبارک کے اندر دھنس گئیں۔ چہرۂ مبارک لہولہان ہوگیا۔ آپؐ زخمی حالت میں پاؤں پھسلنے سے ایک گڑھے میں جاگرے، جس سے آپؐ کے پائوں میں موچ آگئی۔

جاں نثاری کی لازوال داستان

اس موقعے پر دو قریشی صحابہ، حضرت سعدؓ بن ابی وقاص اور حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ نے جاں نثاری اور شجاعت کی وہ مثال قائم کی، جو ہمیشہ کے لیے اَمر ہوگئی۔ حضرت سعدؓ بن ابی وقاص، آنحضرتؐ کے سامنے ڈھال بنے مشرکین پر تیروں کی بارش کرتے رہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنے ترکش کے سارے تیر اُن کے لیے بکھیر دئیے اور فرمایا ’’اے سعد! میرے ماں باپ تم پر فدا! تیر چلاتے جائو۔‘‘ حضرت سعدؓ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ رسول اللہﷺ نے اُن کے سِوا کسی اور کے لیے یہ بات نہیں کہی(صحیح بخاری)۔ حضرت طلحہؓ حضورﷺ پر ہونے والے تلواروں کے وار اپنے ہاتھوں اور شانوں پر روکتے رہے۔ 

مشرکین کے حملے اتنے شدید تھے کہ اُن کا زرہ کے نیچے ہاتھ اور شانہ شل ہو کر بے کار ہو گیا، انگلیاں کٹ کر نیچے گر گئیں۔ حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ کو 35 سے زاید زخم آئے(فتح الباری)۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا’’ اُحد کے دن ہم سب لڑائی کے لیے اگلی صفوں میں چلے گئے تھے۔ پھر گھیرائو کے بعد مَیں پہلا شخص تھا، جو حضورﷺ کے پاس پلٹ کر آیا۔ دیکھا کہ آپؐ کے سامنے ایک آدمی ڈھال بنا، آپؐ کی طرف سے لڑائی کررہا تھا۔ مَیں نے سوچا کہ یہ طلحہؓ ہی ہوں گے۔ میرے ماں باپ طلحہؓ پر فدا ہوں، وہ طلحہؓ ہی تھے۔ اتنے میں ابو عبیدہؓ بن جراح بھی دوڑتے ہوئے میرے پاس آگئے۔ ہم دونوں آنحضرتؐ کی طرف بڑھے تو دیکھا کہ آپؐ کے آگے طلحہؓ بچھے پڑے ہیں۔ 

آپؐ نے فرمایا’’ اپنے بھائی طلحہؓ کو سنبھالو، اس نے جنّت واجب کرلی ہے۔‘‘ حضورﷺ کا چہرۂ مبارک زخمی تھا اور خَود کی دو کڑیاں رُخسار میں دھنسی ہوئی تھیں۔ مَیں نے اُنہیں نکالنا چاہا، لیکن ابو عبیدہؓ نے کہا ’’اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، مجھے نکالنے دو۔‘‘ اس کے بعد اُنہوں نے دانتوں سے ایک کڑی پکڑی اور آہستہ آہستہ نکالنی شروع کی تاکہ تکلیف نہ ہو، جب وہ کڑی باہر آئی، تو اُس کے ساتھ ہی اُن کا ایک دانت بھی گر گیا۔ اب دوسری مَیں نے کھینچنی چاہی، تو ابوعبیدہؓ نے پھر کہا’’ اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، مجھے کھینچنے دیجیے۔‘‘ پھر آہستہ آہستہ دوسری نکالی، مگر اُن کا دوسرا دانٹ ٹوٹ کر گر گیا۔‘‘پھر کچھ اور صحابہ کرامؓ بھی وہاں پہنچ گئے، جن میں حضرت عُمرؓ، حضرت علیؓ، حضرت ابو دجانہؓ وغیرہ شامل تھے۔ 

آپؐ کی تکلیف اور زخموں کے پیشِ نظر فیصلہ کیا گیا کہ حضورﷺکو میدانِ جنگ سے پہاڑ کی گھاٹی میں محفوظ جگہ پہنچا دیا جائے۔ راستے میں چڑھائی تھی اور حضورﷺ زخمی بھی تھے۔ پھر دو زِرہیں بھی زیبِ تن تھیں، لہٰذا اوپر چڑھنا مشکل ہو رہا تھا۔ ایسے میں حضرت طلحہؓ بن عبید اللہ نے نیچے بیٹھ کر آپؐ کو کاندھوں پر اُٹھا لیا اور چٹان تک پہنچ گئے۔ ایک بار پھر حضورﷺ نے فرمایا’’ طلحہؓ نے جنّت واجب کرلی۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے ایک بار پھر مسلمانوں پر اپنا فضل فرمایا اور اُن کے غم دُور کرنے کے لیے اُن پر نیند طاری کردی۔ قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے’’ پھر اُس نے اس غم کے بعد تم پر امن نازل فرمایا اور تم میں سے ایک جماعت کو امن کی نیند آنے لگی‘‘ (سورۂ آلِ عمران 154)۔

اُبی بن خلف کا قتل

اللہ کے رسولؐ احد کی گھاٹی میں ایک پتھر سے ٹیک لگا کر آرام فرما رہے تھے کہ اچانک باہر شور کی آواز آئی۔ صحابہؓ نے دیکھا کہ مشرک سردار، اُبی بن خلف چند لوگوں کے ساتھ باآواز بلند کہتا آرہا ہے کہ’’ آج (حضرت) محمّد(ﷺ) رہیں گے یا مَیں(نعوذ باللہ)‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا’’ اسے قریب آنے دو۔‘‘ جب وہ قریب آیا، تو سَر سے پائوں تک لوہے کے لباس میں ملبوس تھا۔ صرف خَود اور زِرہ کے درمیان چھوٹی سی جِھری سے اُس کا حلق نظر آ رہا تھا۔ 

اِس سے پہلے کہ وہ حملے کی جسارت کرتا، آنحضرتﷺ نے قریب موجود حضرت حارثؓ سے ایک چھوٹا سا نیزہ لیا اور اُس کی جانب اُچھال دیا، جو اسی جِھری سے اندر جاکر حلق میں چُبھ گیا۔ وہ گھوڑے سے گرا اور وہاں سے بھاگ کھڑا ہوا۔ اپنی قوم کے پاس چیختا ہوا پہنچا کہ’’ لوگو! (حضرت) محمّد(ﷺ) نے مجھے قتل کردیا ہے۔‘‘ سب نے اُس کا مذاق اڑایا کہ یہ تو بہت چھوٹی سی چوٹ ہے، لیکن وہ چیختا چلاتا مکّے کی جانب بھاگ گیا اور راستے ہی میں مر گیا۔

مشرک لشکر، مسلمانوں کے تعاقب میں

ابوسفیان نے مسلمانوں کو پہاڑی پر چڑھتے دیکھ لیا تھا۔ چناں چہ وہ ایک لشکر لے کر تعاقب میں آیا۔ آنحضرتؐ کے حکم پر حضرت عُمر فاروقؓ اور دیگر صحابہؓ نے اُس پر پتھرائو کیا، جس سے وہ آگے نہ بڑھ سکا (طبری)۔کفّار کو فکر لاحق ہو چُکی تھی کہ کہیں مسلمان پہاڑ سے اُتر کر حملہ نہ کردیں۔ دراصل اللہ نے ان کے دِلوں میں رُعب طاری کر دیا تھا، لہٰذا اُنھوں نے میدانِ جنگ سے جانے کا فیصلہ کر لیا۔ 

ابوسفیان کو حضورﷺ کے شدید زخمی ہونے کی اطلاع تھی اور وہ جانے سے پہلے حقیقت جاننا چاہتا تھا۔ اس مقصد کے لیے پہاڑی پر چڑھا اور کھائی کے پاس جا کر آواز لگائی’’ یہاں (حضرت) محمّد(ﷺ) ہیں؟‘‘ آپﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ’’ کوئی جواب نہ دے۔‘‘ پھر اُس نے آواز لگائی’’ کیا ابوبکر ؓاور عُمرؓ ہیں؟‘‘ جب کوئی جواب نہ آیا، تو زور سے پکارا’’ کیا سب مر گئے؟‘‘ اس پر حضرت عُمرؓ سے رہا نہ گیا، تڑپ کر بولے’’ او اللہ کے دشمن! ہم سب زندہ ہیں۔‘‘

وہ آنحضرتﷺ کے بارے میں شک میں مبتلا تھا۔ بولا’’ عُمر ؓ ذرا میرے قریب تو آئو۔‘‘ حضورﷺ نے فرمایا’’ جاؤ، دیکھو کیا کہتا ہے۔‘‘ حضرت عُمرؓ اُس کے قریب گئے، تو بولا’’ عُمر ! مَیں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا ہم نے (حضرت) محمّد(ﷺ)کو قتل کر دیا ہے؟‘‘حضرت عُمر ؓ نے کہا’’ واللہ نہیں، بلکہ اِس وقت بھی وہ تمہاری سب باتیں سُن رہے ہیں‘‘(صحیح بخاری)۔ ابو سفیان جب نیچے اُترنے لگا، تو بولا’’ آئندہ سال بدر میں پھر جنگ کا وعدہ ہے۔‘‘ آنحضرتﷺ نے فرمایا’’ اس کو کہہ دو ،اب یہ بات تمہارے اور میرے درمیان طے ہے۔‘‘اس کے بعد ابو سفیان نے لشکر کو فوری واپسی کا حکم دے دیا۔ 

آنحضرتﷺ نے حضرت علیؓ کو اُن کی روانگی کا حال معلوم کرنے کے لیے پیچھے بھیجا۔آپﷺ نے فرمایا’’ اگر یہ لوگ اونٹوں پر سوار ہو رہے ہیں، تو واپس مکّہ جارہے ہیں، لیکن اگر گھوڑوں پر سوار ہو رہے ہیں، تو مدینے پر حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگر یہ مدینے پر حملہ آور ہونے جا رہے ہیں، تو ہم ان کو اِسی جگہ روکیں گے۔‘‘ حضرت علیؓ کچھ دیر بعد واپس آئے اور بتایا کہ’’ وہ اونٹوں پر سوار ہیں اور اُن کا رُخ مکّے کی جانب ہے۔‘‘ حافظ ابنِ حجر نے فتح الباری میں لکھا کہ مشرکین کے عزائم کا پتالگانے کے لیے حضرت سعدؓ بن ابی وقاص گئے تھے۔

میدانِ جنگ کے رقّت آمیز مناظر

کفّار کی واپسی کے بعد رسول اللہﷺ میدانِ جنگ میں تشریف لائے۔اُس وقت میدانِ اُحد میں65انصار،4مہاجرین شہداء اور ایک یہودی کی لاش موجود تھی۔ بیش تر شہداء کی لاشوں کے مثلے اور ٹکڑے کر دیئے گئے تھے۔ ناک ،کان کاٹ لیے گئے تھے، آنکھیں نکال دی گئی تھیں، سینے چاک کر دیئے گئے تھے۔ سرکارِ دوعالمﷺ سب لاشوں کا معائنہ کرتے ہوئے حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب کی مسخ شدہ لاش پر پہنچے۔ حضرت حمزہؓ چچا اور رضاعی بھائی کے ساتھ آپﷺ کے دوست بھی تھے۔ حضرت ابنِ مسعودؓ کا بیان ہے کہ’’ حضورﷺ، حضرت حمزہؓ کی شہادت پر جس طرح روئے، اس سے بڑھ کر روتے ہوئے ہم نے آپﷺ کو کبھی نہیں دیکھا۔‘‘ حضرت حمزہ ؓ کی حقیقی بہن ،حضرت صفیہؓ اپنے بھائی کی لاش دیکھنے میدان میں آ گئیں۔ 

آپﷺ نے حضرت زبیر ؓ سے فرمایا’’ اپنی والدہ کو ماموں کی لاش دیکھنے سے روکو۔‘‘ اُنہوں نے منع کیا، تو بولیں’’ مجھے معلوم ہے کہ بھائی کی لاش کا مثلہ کیا گیا ہے۔ مَیں یہاں نوحہ کرنے نہیں آئی، صبر کروں گی اور دعائے مغفرت کروں گی۔‘‘ اِس پر حضورﷺ نے اجازت دے دی۔ اُنہوں نے اپنے بھائی کی مسخ شدہ لاش دیکھی، جگر کے ٹکڑے زمین پر بکھرے پڑے تھے، لیکن اُنہوں نے صبر کیا۔ معرکۂ اُحد میں70 کے لگ بھگ صحابہؓ شہید اور 40زخمی ہوئے۔ 

شہداء میں حضرت حمزہ ؓ بن عبدالمطلب ،آپﷺ کے پھوپھی زاد بھائی، حضرت عبد اللہ بن جحشؓ ،حضرت مصعب ؓبن عمیر، حضرت حنظلہؓ بن ابی عامر ،حضرت رافع ؓ بن مالک ،حضرت عبد اللہ بن عمروؓ، حضرت سعدؓ بن الربیع، حضرت عبداللہ ؓ بن جبیر ، حضرت عمروؓ بن جموح ،حضرت سعد بن خثیمہؓ کے والد، حضرت خثیمہؓ، حضرت ابو بکرؓ کے داماد خارجہؓ بن زید، حضرت ابو سعید خدریؓ کے والد حضرت مالکؓ بن سنان، عباسؓ بن عبادہ سمیت متعدّد بدری صحابہ ؓ بھی شامل تھے۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ شہداء اسی طرح خون میں لتھڑے ہوئے دو، دو ملا کر ایک ہی قبر میں دفن کیے گئے۔ ابنِ سعد نے لکھا کہ مقتول مشرکین کی تعداد23تھی، جن کی لاشیں وہ میدانِ جنگ سے لے گئے تھے۔ اُحد کا میدان نہایت رقّت آمیز مناظر پیش کر رہا تھا۔ 

ہر طرف لاشیں اور زخمی تھے۔ مسلم خواتین میدانِ جنگ میں پہنچ کر زخمیوں کی مرہم پٹّی اور پانی پلانے میں مصروف تھیں۔ اس دوران ایثار و قربانی کے ایسے مناظر دیکھنے میں آئے، جن کی مثال نہیں ملتی۔ کسی ایک زخمی کو پانی دیا جاتا، تو وہ دوسرے کی طرف اشارہ کر کے کہتا’’ پہلے اُسے پلا دو، وہ زیادہ زخمی ہے۔‘‘ مسلمانوں کی کسمپرسی کا یہ عالم تھا کہ حضرت حمزہ ؓ کے لیے کفن نہ تھا۔ ایک سیاہ دھاری دار چادر اُن پر ڈالی گئی۔ 

اُسے سَر پر ڈالتے تو پائوں کُھل جاتے اور پائوں پر ڈالتے تو سَر کُھل جاتا۔ آخر چادر سے سَر کو ڈھکا گیا اور پاؤں پر گھاس ڈال دی گئی ( مسند ا حمد)۔ یہی حال حضرت مصعب ؓبن عمیر کا تھا۔ حضرت عبدالرحمانؓ بن عوف فرماتے ہیں کہ ’’اُن کے کفن کی چادر بھی اتنی ہی چھوٹی تھی۔‘‘