آپ آف لائن ہیں
منگل11؍صفر المظفّر 1442ھ 29؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عاطر شاہین

’’فالسے لے لو۔کھٹے میٹھے فالسے لے لو۔‘‘ ریڑھی والا صدائیں لگا رہا تھا۔

فالسے کے شوقین مجاہد نے دیکھا تو اس کے منہ میں پانی بھر آیا۔

’’یار! میرا دل تو فالسے کھانے کو چاہ رہا ہے۔‘‘ مجاہد نے اپنے دوست امتیاز سے کہا۔

’’فالسے کھانے کو یا فالسے ہتھیا نے کو؟‘‘ امتیاز نے طنزیہ انداز میں پو چھا۔

’’جو مرضی سمجھ لو۔ آئو میرے ساتھ۔‘‘مجاہدیہ کہہ کر ریڑھی والے کی طرف بڑھ گیا۔ امتیاز اس کے پیچھے تھا۔

’’کیا تم فالسے بانٹ رہے ہو۔‘‘ مجاہد نے فالسے والے سے کہا اور ایک دانہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ ریڑھی والے کو اس کی یہ حرکت ناگوار گزری۔

’’نہیںیہ تم سے کس نے کہہ دیا ؟‘‘ ریڑھی والے نے چونک کر کہا۔

’’تم خود ہی تو کہہ رہے ہو فالسے لے لو۔‘‘مجاہد نے ساتھ ہی اور ایک اور دانہ اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔

’’یہ کیا حرکت کر رہے ہو م،فت کا مال نہیں ہے جو تم کھائے جا رہے ہو۔ چلو بھاگو یہاں سے۔‘‘ ریڑھی والے کو غصہ آ گیا۔

’’میرے لئے تو مفت کا مال ہی ہے۔‘‘ مجاہد نے مٹھی بھر فالسے اٹھاتے ہوئے کہا تو ریڑھی والا غصے میں آ گیا۔

’’رکھو۔ واپس رکھو۔‘‘ ریڑھی والا چیخا لیکن مجاہد نے بہت سارے فالسے منہ میں ڈال دئیے اور مزے لے لے کر کھانے لگا۔

’’تم بہت بدتمیز بچے ہو۔ کیا یہی تعلیم حاصل کرتے ہو۔‘‘

’’ارے نارا ض کیوں ہوتے ہو۔ تھوڑے سے ہی تو فالسے لئے ہیں۔‘‘ مجاہد نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’ٹھہرو۔ ابھی بتاتا ہوں۔‘‘ ریڑھی والے نے غصے سے کہا اور ریڑھی کے آگے سے گھوم کر مجاہد کی طرف آنے لگا لیکن اسی لمحے مجاہد نے ایک طرف دوڑ لگا دی۔ ریڑھی والا اس کے پیچھے بھاگا لیکن وہ گلی کی نکڑ پر پہنچتے ہی رک گیا۔

’’میں تمہارے ابو سے تمہاری شکایت کروں گا۔‘‘ریڑھی والے نے چیخ کر کہا اور پھر پلٹ کر اپنی ریڑھی کی طرف بڑھ گیا۔ امتیاز کو بھی مجاہد کی یہ حرکت بری لگی تھی لیکن وہ جانتا تھا کہ اسے ریڑھی والے کو تنگ کر کے مزہ آتا تھا۔وہ گھر پہنچے تو مغرب کی نماز کا وقت ہو گیا۔ پھر جیسے ہی قریبی مسجد سے اذان ہونے لگی تومجاہد اور امتیازدونوں مسجد کی طرف بڑھ گئے۔

مجاہد اور امتیاز دونوں دوست تھے۔ دونوں ہم عمر اور آٹھویں کلاس کے طالب علم تھے۔مجاہد شرارتی لڑکا تھااور دوسروں کو تنگ کر کے اسے مزہ آتا تھا۔ وہ جس کالونی میں رہتے تھے وہاں ایک پارک بھی تھا۔ کالونی کے لوگ وہاں صبح ، شام چہل قدمی اور سیر سپاٹے کرنے آتے تھے۔پارک وسیع وعریض تو نہیں تھا لیکن صاف ستھرا اور سرسبز تھا۔ 

مجاہد اور امتیاز دونوں اسی پارک میں آ کر پڑھتے تھے۔ ان دنوں چونکہ ا سکول سے چھٹیاں تھیں اس لئے وہ شام پانچ بجے پارک میں آتے اور چھٹیوں کا کام اور پڑھائی کر کے واپس چلے جاتے تھے۔ ایک روز پڑھائی سے فارغ ہونے کے بعد وہ دونوں اپنے اپنے بیگ کاندھوں پر لادے گھروں کی طرف بڑھ رہے تھے کہ انہیں گلی میں ایک ریڑھی والا دکھائی دیا جو فالسے فروخت کر رہا تھا۔وہ گزشتہ چار سال سے اس کالونی میں موسم کی مناسبت سے کبھی سیب، کبھی مالٹے تو کبھی کیلے وغیرہ فروخت کرنے آتا تھا۔۔مجاہد اسے بے حد تنگ کرتا تھا یہی وجہ تھی وہ اس سے بے حد نالاں تھا۔

اُن دونوںکی ایک اچھی بات تھی کہ وہ پانچ وقت کے نمازی تھے لیکن وہ نماز خشوع و خضوع سے ادا کرنے کے بجائے جلدی جلدی پڑھتے تھے۔ جیسے ہی وہ دونوںمسجد والی گلی میں پہنچے تو انہیں ریڑھی والا دکھائی دیا۔مجاہد سر جھکائے تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا مسجد میں داخل ہو گیا۔ 

امتیاز اس کے پیچھے تھا۔ ریڑھی والے نے مجاہد کو دیکھا لیکن وہ اس کے پیچھے نہیں بلکہ ریڑھی دھکیلتا ہوا آگے بڑھ گیا۔دونوں نے وضو کیا اور سنتیں پڑھنے لگے۔ دونوں دوست حسب معمول جلدی جلدی نماز پڑھنے لگے۔ ایسے لگتا تھا جیسے ان دونوں میں مقابلہ ہو رہا ہو کہ جو پہلے نماز پڑھ لے گا وہ فرسٹ نمبر پر ہو گا۔

اشرف صاحب کافی دنوں سے ان دونوں کو نوٹ کر رہے تھے۔وہ ان کے ہمسائے تھے۔ انہوں نے کئی بار سوچا کہ وہ ان دونوں کو اپنے پاس بٹھا کر سمجھائیں گے کہ وہ نماز جلدی جلدی نہ پڑھا کریں لیکن ان کے نماز سے فارغ ہونے سے پہلے ہی وہ دونوں مسجد سے چلے جاتے تھے۔

آج انہوں نے تہیہ کیا ہوا تھا کہ وہ ان دونوں کو ضرور سمجھائیں گے، چنانچہ جب وہ دونوں سنتیں پڑھ کر فارغ ہو گئے تو اشرف صاحب نے امتیاز کو اشارے سے اپنے پاس بلایا اور کہا کہ وہ دونوں نماز کے بعد ان کی بات سنتے جائیں۔نماز سے فراغت کے بعد وہ دونوں اشرف صاحب کے پاس آ گئے اور انہیں سلام کیا۔ 

انہوں نے سلام کا جواب دیتے ہوئے انہیں بیٹھنے کا کہا تو وہ دونوں ان کے سامنے بیٹھ گئے لیکن ان کے چہروں پر حیرت کے تاثرات ابھرے ہوئے تھے۔ وہ سوچ رہے تھے کہ اشرف صاحب نے انہیں کیوں بلایا ہے۔’’کیا آپ دونوں کو جلدی تو نہیں ہے؟‘‘ اشرف صاحب نے نرم لہجے میں پوچھا۔

’’نہیں انکل۔‘‘ امتیاز نے جواب دیا۔

’’بچو! میں نے آپ دونوں سے ایک اہم مسئلے پر بات کرنی تھی اسی لئے آپ کو روکا ہے۔‘‘ اشرف صاحب نے کہا۔

’’کہیے انکل۔ ہم سن رہے ہیں۔‘‘ اس بار مجاہد نے جواب دیا ۔

’’بچو! یہ بتائو کہ ہم نماز کیوں پڑھتے ہیں؟‘‘ چند لمحے خاموش رہنے کے بعد اشرف صاحب نے پوچھا تو وہ دونوں اس سوال پر حیران ہوئے۔

’’انکل۔ ہم اللہ کی خوشنودی اور اس کی رضا کے لئے نماز پڑھتے ہیں۔‘‘ امتیاز نے جواب دیتے ہوئے کہا تو اشرف صاحب مسکرائے۔

’’کیا آپ جانتے ہیں کہ نماز بھی چوری کی جاتی ہے؟‘‘ اشرف صاحب نے نیا سوال کیا تو امتیاز اور مجاہد دونوں نہ صرف چونک پڑے بلکہ حیرت بھری نظروں سے اشرف صاحب کی طرف دیکھنے لگے۔

’’نماز چوری کی جاتی ہے۔ کیا مطلب انکل۔ ہم سمجھے نہیں۔‘‘ مجاہد نے کہا۔

’’بچو! نماز بھی چوری ہوتی ہے اور آپ دونوں نماز چوری کرتے ہیں۔‘‘ اشرف صاحب نے بدستور نرم لہجے میں کہا تو دونوں کی حیرت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ اشرف صاحب چند لمحے ان دونوں کے چہروں کے تاثرات دیکھتے رہے پھر اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے بولے۔

’’بچو! یہ سچ ہے کہ نماز چوری کی جاتی ہے۔ میں آپ کو ایک حدیث سناتا ہوں۔ امید ہے کہ یہ حدیث سننے کے بعد آپ کو میری بات سمجھ آ جائے گی۔‘‘ اشرف صاحب چند لمحے خاموش ہوئے پھر بولے۔ ’’ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔’’لوگوں میں بدترین چور وہ ہے جو اپنی نماز چوری کرتا ہے۔‘‘صحابہؓ نے عرض کیا۔ ’’ یا رسول اللہؐ ، وہ اپنی نماز کیسے چوری کرتا ہے؟‘‘

آپ ؐ نے فرمایا۔ ’’وہ رکوع اور سجود کو صحیح طرح مکمل ادا نہیں کرتا۔‘‘ (صحیح ابن حبان 1888، صحیح الترغیب 533)

حدیث سنا کر اشرف صاحب خاموش ہو گئے اور ان دونوں کے چہروں کو غور سے دیکھنے لگے۔ دونوں کے چہروں پر شرمندگی کے تاثرات ابھرے تھے۔

’’بچو! اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر ہم رکوع اور سجود سکون اور اطمینان کے ساتھ ادا نہیں کرتے تو یہ نماز چوری ہو جاتی ہے اس لئے آپ کو چاہئے کہ اطمینان اور سکون کے ساتھ نماز پڑھیں۔‘‘

’’جی انکل۔ میں عہد کرتا ہوں کہ آئندہ نماز میں چوری نہیں کروں گا اور آرام اور سکون سے نماز پڑھوں گا۔‘‘ امتیاز نے کہا تو اشرف صاحب نے مجاہد کی طرف دیکھا۔

’’میں بھی عہد کرتا ہوں۔‘‘ مجاہد نے کہا تو اشرف صاحب ان دونوں کو دعائیں دینے لگے۔ وہ خوش تھے کہ دونوں بچے ان کی بات سمجھ گئے تھے۔

’’انکل۔ مجاہد کو ایک بات اور بھی سمجھا دیں۔‘‘ امتیاز نے اشرف صاحب سے مخاطب ہو کر کہا تو وہ چونک پڑے۔ مجاہد بھی چونک پڑا تھا۔

’’کیا بات ہے؟‘‘ اشرف صاحب نے پوچھا۔

’’انکل! مجاہد ایک ریڑھی والے کو بہت تنگ کرتا ہے۔ اس کی چیزیں اٹھا کر کھا جاتا ہے۔ آج بھی اس کے فالسے اٹھا کر کھا لئے تھے۔ میں نے اسے کئی بار سمجھانے کی کوشش کی ہے لیکن یہ باز نہیں آتا۔ آپ ہی اسے سمجھائیں۔‘‘ امتیاز نے کہا تو مجاہد نے سر جھکا لیا۔

’’اسے سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ بہت ہی اچھا بچہ ہے۔ امید ہے آئندہ یہ ریڑھی والے کو تنگ نہیں کرے گا۔‘‘ اشرف صاحب نے مجاہد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

’’جی انکل۔ میں آئندہ ریڑھی والے کو تنگ نہیں کروں گا۔‘‘ مجاہد نے کہا۔

’’شاباش۔‘‘ اشرف صاحب خوش ہو گئے۔ ’’ اور بیٹاریڑھی والے سے معافی بھی مانگ لینا۔ کسی کا دل دکھانا بہت بری بات ہے اور گناہ بھی ہے۔‘‘

’’جی انکل۔‘‘

اگلے روز مجاہد نے ریڑھی والے سے معافی مانگی تو اس نے خوشدلی سے اسے معاف کر دیا۔اس روز کے بعد مجاہد نہ صرف ایک اچھا بچہ بن گیا تھا بلکہ اب وہ ا ور امتیاز دونوں انتہائی خشوع و خضوع کے ساتھ نماز پڑھتے تھے ۔ انہیں آرام سے نماز پڑھتے دیکھ کر اشرف صاحب بھی بے حد خوش تھے کہ دونوں بچوں نے ان کی نصیحت سمجھ لی تھی۔