آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ 26؍ جمادی الثانی 1441ھ 21؍ فروری 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

وزیراعظم نے بدترین اقتصادی بحران کے باوجود یہ ملین ڈالر مشورہ مفت ہی دے دیا ہے کہ ’’لوگ اخبار پڑھیں نہ ٹی وی ٹاک شوز دیکھیں سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔

یہ ایسے ہی ہے جیسے کوئی سہمے ہوئے کبوتر کو یہ مشورہ دے کہ ’’بھائی! بلی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں بند کر لو۔ سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔ نہ تیاری تھی نہ تجربہ، اوپر سے محاذ اتنے کھول لئے کہ گنے نہیں جاتے۔ حد سے بڑھے ہوئے اعتماد کا نتیجہ ’’واٹر لو‘‘ ہی ہوتا ہے۔

اللہ کرے میرا اندازہ غلط ثابت ہو لیکن زندگی بھر کا خلاصہ یہی ہے کہ بند مٹھی سے ریت سرکنا شروع ہو جائے تو آخری ذرے تک سرکتی چلی جاتی ہے لیکن میں کیا صبح صبح منحوس باتیں لے کر بیٹھ گیا۔

اصولاً تو ’’نیب‘‘ کی کارکردگی پر قوم کو مبارکباد پیش کرنی چاہئے۔ وہ ’’دیسی میمیں‘‘ اور ’’بھورے صاحب‘‘ جو ’’نیب‘‘ کے بارے جمہوری قسم کی چپڑ چپڑ کرتے تھے، ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے یہ کہتے ہوئے انہیں چپیڑ رسید کر دی ہے کہ ’’نیب‘‘ کی کارکردگی عمدہ، ایک سال میں 153ارب ریکور کئے۔

یہ کون لوگ ہیں جن کے نزدیک ’’کرپشن‘‘ کوئی مسئلہ ہی نہیں اور ’’نیب‘‘ جیسے اداروں کے دانت نکالنا اور پنجے کترنا عین ثواب ہے۔

یہی وہ نجس ذہنیت ہے جو مسائل کا حل اس طرح نکالتی ہے کہ ’’روٹی کی قیمت نہیں بڑھائیں گے، صرف اس کا وزن کم کر دیں گے‘‘۔میرا ایک بہت ہی پرانا اور پیارا دوست ہے۔

صلو درانی نام ہے اس کا اور گزشتہ تقریباً تیس سال سے کینیڈا میں ہوتا ہے۔ اس کی یہ حرکت مجھے بیحد کیوٹ لگتی ہے کہ جب بھی فون کرے تو سلام دعا ہیلو ہائے سے بھی پہلے ہمیشہ یہ پوچھتا ہے کہ ’’خدانخواستہ کوئی خیر کی خبر تو نہیں‘‘۔

واقعی ہمارے ہاں تو خیر کی خبر بھی کچھ ایسی ہی ہوتی ہے کہ ’’شر ٹل گیا ہے‘‘ جیسے ’’ایف اے ٹی ایف‘‘ کے حوالہ سے اس بات کے واضح اشارے مل رہے ہیں کہ ہمارا پیارا اسلامی جمہوریہ پاکستان گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

’’ادھر ڈوبے ادھر نکلے ‘‘اک اور مصرعہ بھی کمال ہے، حسبِ حال ہے’’ایک ہنگامہ پہ موقوف ہے گھر کی رونق‘‘اگلے ہنگامہ کا انتظار فرمائیے۔

سیانے کہا کرتے ہیں کہ ’’امن دراصل دو جنگوں کے درمیان وقفے کا نام ہے‘‘ میرا کالا قول یہ ہے کہ ہمارے ہاں ’’سکون دو ہنگاموں کے درمیان مختصر سے وقفے کا نام ہے‘‘ یعنی ملتے ہیں ایک بریک کے بعد۔

وزیراعظم نے یہ تو کہہ دیا ’’سب ٹھیک ہو جائے گا‘‘ لیکن یہ بتانا ضروری نہیں سمجھا کہ ’’کب ٹھیک ہو جائے گا‘‘۔’’خاک ہو جائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک‘‘اور پھر اس خاک سے اگلی نسل جنم لے گی، پھر وہ خاک ہو گی اور اس کی خاک سے اس کے بعد کی نسل جنم لے گی علی ہذاالقیاس یہ جمہوری چکر یونہی چلتا رہے گا جیسے گزشتہ 72سال سے چل رہا ہے۔

تقریباً 4،5نسلیں تو خاک ہو چکیں۔ باقی جو ہیں تیار بیٹھی ہیں۔ کوئی نسل ’’بیس روپیئے من آٹا‘‘ کا ماتم کرتے کرتے ختم ہو گئی۔ اقبال کے تازہ ترین شاہین ’’ستر روپے کے جی ہے آٹا‘‘ پر سینہ کوبی میں مصروف ہیں۔

’’جانے کس جرم کی پائی ہے سزا یاد نہیں‘‘اور یہ کہاں لکھا ہے کہ سزا کے لئے جرم کا سرزد ہونا ضروری ہو۔چیف جسٹس کہتے ہیں’’ہسپتالوں کا ویسٹ بازاروں میں بکتا ہے‘‘اک تازہ ترین تحقیق کے مطابق ..... گزشتہ 29سال میں کھانے پینے کی اشیا 247فیصد مہنگی ہوئی ہیں۔

اور اب چلتے چلتے کچھ کالے قولدونکتوں کے درمیان مختصر ترین فاصلہ دراصل سیدھا ترین راستہ ہوتا ہے۔اگر تمہارے پاس کہنے کو کچھ نہیں تو .....کچھ بھی نہ کہو۔

خود اپنی مدد ......دنیا کی بہترین اور مضبوط ترین مدد ہے۔اس قدر نہ پھیلو کہ سمٹ ہی نہ سکو۔صرف انسان ہی نہیں، قدرت بھی تبدیلی کو پسند کرتی ہے۔

ہمدرد ساتھ ہو تو درد آدھا رہ جاتا ہے۔کرۂ ارض اک ایسا بدنصیب گھر ہے جس کے مکین بہت جھگڑالو ہیں۔ڈوبتے کو بچاتے ہوئے خود ڈوب جانا بھلائی ہے یا بیوقوفی؟

موت ہمیں زندہ رہنا سکھا سکتی ہے۔پریشان انسان کے تکئیےمیں کانٹے ہوتے ہیں۔زندگی خواب ،خواہش اور خوف کو ہینڈل کرنے کا فن ہے۔

ریل سیٹی سے چلتی ہے لیکن سیٹی ریل کو چلاتی نہیں۔کاروبار ِ حیات کو کاروبار سمجھنے والے گھاٹے میں رہتے ہیں۔

مسل کی طرح عقل بھی مضبوط کی جا سکتی ہے لیکن اس کیلئے کتابوں کا جِم جوائن کرنا ہو گا۔

سوال جتنا مشکل ہو گا، جواب اتنا ہی آسان ہو گا۔جوانی میں بڑھاپے کی تیاری کر لو۔دنیا میں آنے کا ایک راستہ، جانے کے بیشمار۔کچھ نہیں کرو گے تو کچھ نہیں ہوگا۔