آپ آف لائن ہیں
پیر10؍صفر المظفّر 1442ھ 28؍ستمبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

ائرپورٹ پر طیارے میں آگ لگی نہیں، لگائی گئی،ابتدائی رپورٹ

ائرپورٹ پر طیارے میں آگ لگی نہیں، لگائی گئی،ابتدائی رپورٹ 


کراچی (اسٹاف رپورٹر ) اتوار اور پیر کی درمیانی شب کراچی کے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر طیارے میں لگی آگ کے واقعے کی تحقیقات کے لیے سی اے اے نے ایڈیشنل ڈائریکٹر توفیق شیخ کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنادی ہے،ذرائع کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ طیارے میں آگ لگی نہیں بلکہ لگائی گئی ہے، اتوار اور پیر کی شب ایک بوئنگ 737 طیارے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی،مذکورہ طیارہ ائرپورٹ کے لیبر گیٹ کے قریب ایک سنسان مقام پر دیگر ناکارہ طیاروں کے ساتھ پارک تھا،یہاں بند ہونے والی نجی ائر لائن شاہین ائر کے تقریبا درجن بھر طیارے پارک ہیں،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع نے ابتدائی طور پر بتایا تھا کہ آگ ائرپورٹ کے فینسنگ ایریا سے باہر جھاڑیوں میں لگی تھی جس نے بڑھ کر طیارے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا،تاہم پیر کی صبح جب جائے وقوعہ کا معائنہ کیا گیا تو پتا چلا کہ جھاڑیاں طیارے سے ڈیڑھ سو میٹر دور ہیں اور جھاڑیوں میں آگ لگنے کے کوئی اثار بھی نہیں ہیں،سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ذرائع کے مطابق آگ براہ راست طیارے کو ہی لگی اور طیارہ مکمل طور پر جل گیا ہے،ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ طیارہ اور دیگر طیارے تقریبا چار سال سے اس جگہ پارک ہیں،اس واقعہ نے سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ائرپورٹ سکیورٹی فورس کی کارکردگی سے متعلق کئی سوالات اٹھا دیے ہیں، طیارے جس سنسان مقام پر پارک ہیں وہاں رات میں روشنی کا کوئی انتظام نہیں اور کیمرہ کوریج بھی نہیں،ماہرین کے مطابق اگر طیارے میں آگ لگائی گئی ہے تو آگ لگانے والا فرد طیارے تک کیسے پہنچا،اگر کوئی فرد طیارے میں آگ لگا سکتا ہے تو دہشت گرد بھی ائرپورٹ میں داخل ہوسکتا ہے،جبکہ کراچی ائرپورٹ پر پہلے دہشت گردی کا واقعہ ہو بھی چکا ہے۔

شہر قائد/ شہر کی آواز سے مزید