آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍شعبان المعظم 1441ھ 5؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

آپ کے مسائل اور اُن کا حل

سوال:۔ میرے والد صاحب 2014 میں فوت ہوئے ، وفات سے دو مہینے پہلے شدید بیماری کی وجہ سے نمازیں ادا نہ کرسکے، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا میں ان کی طرف سے نمازوں کا فدیہ ادا کرسکتا ہوں؟ اور فدیہ کی مقدار ہر دن کے حساب سے کیا ہوگی؟(ڈاکٹرنعیم اکرم)

جواب:۔اگر آپ کے والد مرحوم ، فدیہ ادا کرنے کی وصیت کرگئے تھے تو ان کے ترکے کے تہائی سے فدیہ ادا کرنا واجب ہے ، اور اگر وصیت نہیں کرگئے تھے تو ان کی طرف سے فدیہ ادا کرنا واجب تو نہیں ہے ، البتہ اگر آپ خوشی سے فدیہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے لیے ثواب کا باعث ہوگا اور امید ہے کہ اس سے آپ کے والد کا بوجھ اتر جائے گا۔ ہر نماز کا فدیہ صدقۂ فطر کی مقدار کے برابر پونے دو کلو گندم یا اس کی قیمت ہے، اور دن رات میں پانچ فرض نمازوں کے ساتھ وتر کا فدیہ بھی ادا کیا جائے گا۔

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

masail@janggroup.com.pk

اقراء سے مزید