آپ آف لائن ہیں
اتوار18؍ذی الحج 1441ھ 9؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

فلموں سے زیادہ ڈراموں میں کام کرنے کا شوق ہے

ابھرتی ہوئی اداکارہ زارا نور عباس نے شوبز میں بہت کم وقت میں اپنی منفرد پہچان بنائی ۔ٹی وی ڈراموں کے کردار شبّو ، حیا اور رانی سے شہرت پانے والی زارا نے گذشتہ برس دو فلموں میں کام بھی کیا۔2016 میں ڈراموں سے فنّی سفرکا آغاز کرنے والی زاران دنوں آئی ایس پی آر کے ڈراما ’’عہد وفا‘‘ میں ’’رانی‘‘ کا کردار ادا کررہی ہیں، جو اپنے اَلَّھڑ اوربانکپن کی وجہ سے کافی مقبول ہے۔ 

ان کی منفرد، چلبلی ، دیسی اور جاندار ادکاری کے خوب چرچے ہیں’’رانی ‘‘ کے کردار نے اُنہیں مداحوں میں پہلے سے بہت زیادہ مقبول اور دل کے قریب کردیا ہے۔ زارا اداکاری کے ساتھ ساتھ سماجی کاموں میں بھی حصہ لیتی ہیں، وہ پاکستان میں مقیم خواتین مہاجرین کو بااختیار بنانے کےلیے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین ( یو این ایچ سی آر ) کے ساتھ منسلک ہیں۔ گزشتہ دنوں زارا نور عباس سے اُن کی فنی و نجی زندگی کے حوالے سے ہلکی پھلکی گفتگو ہوئی، جو نذرِ قارئین ہیں۔ 

س:شوبزنس کی دنیا میں کس طرح آئیں، اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟

ج: میرا اصل نام زارا نور صدیقی ہے۔ 2017؁ء میں ڈراما ’’خاموشی‘‘ سے پہچان ملی۔ویسے میرا پہلا ڈراما ’’دھڑکن‘‘ تھا۔ ان دنوں میرا ڈراما ’’عہد وفا‘‘ آن ایئر ہے، جو آئی ایس پی آر نے پروڈیوس کیاہے۔قابلِ ذکر ڈراموں میں دھڑکن، لمحے، قید، دیوار شب،جب کہ فلموں میں ’’چھلاوا‘‘ ، ’’پرے ہٹ لو‘‘ شامل ہیں۔ 

میں نے فلم ڈیزائننگ، ڈانسنگ، تھیٹراور فلم میکنگ کا کورس کیا ہے، گریجویٹ ہوں۔تعلیم کے دوران رقص کے مقابلوں اور مختلف ڈراموں میں کام کیا۔ اسی دوران ایران میں ایک ڈرامے میں کام کرنے کی پیشکش ہوئی ، لیکن جب اس سلسلے میں اپنے والد سے بات کی تو اُنہوں نے منع کردیا، پھر میں نے امی سے بات کی، اُنہوں نے کہا کہ پہلے تم حجاب کرو۔ 

میرے والد کو پردہ پسند ہے ،لہٰذا میں نے حجاب کیا اور والد سے دوبارہ بات کی، بعد ازاں وہ راضی ہوگئے۔ ایران سے واپسی پر مجھے ایک ڈرامے کی آفسر ہوئی، میں نے اپنے والد سے بات کرنے کی بجائے والدہ سے بات کی۔ اُس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ میں ایکٹنگ کرسکتی ہوں۔ جب ہی تو مواقع مل رہے ہیں،اب میں نے والدین سے کھل کر بات کرنے کا فیصلہ کیاکہ آیا مجھے مستقل کام کرنے کی اجازت دیں گے یا نہیں۔ 

موقع ملتے ہی ایک دن بات کی تو جواب ملا جان چھوڑ ہماری شادی کرلو اور پھر جو جی چاہے کرنا چاہیے کرو! ۔ یہ سن کر میں ایک لمحے کے لیے سکتے میں آگئی پھر سوچا کیوں نہ اُن کی بات مان لی جائے۔ اِسی دوران میرا امریکا جانا ہوا وہاں ایک بندے سے ملاقات ہوئی جو مجھ سے شادی کا خواہش مند تھا اور اسے میری ایکٹنگ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں تھا، سو میں نے اس سے شادی کا فیصلہ کرلیا، لیکن بعد میں مجھے یہ احساس ہوا کہ فیصلہ غلط ہوگیا، کچھ ہی عرصے بعدہماری علیحدگی ہوگئی۔

میرے والدین کہتے تھے کہ شادی ایک جوا ہے اور یاد رکھیں کہ رشتے عزت اور احساس پر بنتے ہیں، پیار محبت عشق مل جائیں تو زندگی کا مزہ دوبالا ہوجاتاہے لیکن پیار ، محبت اور عشق میں عزت اور احساس نہ ہو تو وہ میاں بیوی کا رشتہ ہو یا کوئی بھی رشتہ تادیر قائم نہیں رہ سکتا۔ اِسی دوران میری والدہ کو کینسرہوگیا۔ میری ساری توجہ امی کی طرف رہی ،اللہ کا شکر ہے امی صحت یاب ہوگئی ہیں۔ 

بعد ازاں میری ایک فلم کے پریمیئر میں میری اسد صدیقی سے ملاقات ہوئی، جو عدنان صدیقی کے کزن ہیں، اُنہوں نے بھی اپنی پہلی بیگم کو طلاق دے دی تھی۔ہماری ذہنی ہم آہنگی ہوگئی اور پھر ہم نے 2017؁ء میں شادی کرلی۔خوشی کی بات یہ ہے کہ اسد نے کبھی میرے کام پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی وہ میرے کام میں مداخلت کرتے ہیں۔

س: طلاق کے بعد اہل خانہ اور رشتہ داروں کا رویہ کیسا تھا؟۔

ج: تین بھائیوں کی اکلوتی بہن ہوں۔ طلاق کے بعد ڈپریشن کا شکار ہوئی، پھر وقت کے ساتھ سب ٹھیک ہوتا گیا۔ والدین نے کبھی بھی میرے حوصلوں کو ٹوٹنے نہیں دیا۔میں اُن کی بہادر بیٹی ہوں۔ میں نے گھر والوں اور اپنی زندگی سے یہ سبق سیکھا ہے کہ کوئی مسئلہ لاحق ہو تو اس کا سامنا کرواور حل کرو۔

س:آپ کی دوسری شادی دھوم دھام سے ہوئی یا سادگی سے ؟

ج: سادگی سے ہوئی تھی۔ نکاح گھر پر ہوا تھا، ولیمے کی تقریب کے لیے ایک ڈیزائنر سے کپڑے مانگے کیونکہ میں لاکھوں کا جوڑا بنا کر پیسے کا ضیاع نہیں کرسکتی ، شادی پر زیوارات بھی اپنی دوست سے لیے حالانکہ اس نے کہا تھا کہ یہ زیورات میں تمہیں تحفے میں دینا چاہتی ہوں، لیکن میں نے یہ کہہ کر منع کردیا کہ میں ایسے مہنگے تحفے لینا ہی نہیں چاہتی۔ تقریب کے بعد میں نے دوست کو زیورات واپس کردیئے۔ اسد اور میرے گھر والوں نے ایک تقریب کا اہتمام کیا تھا، دونوں گھرانوں نے مل کر خرچا کیا تھا۔

س: شوہرکے ساتھ کسی ڈرامے میں کام کیا ہے ؟۔

ج: عثمان مختار میرے ساتھ ایک ڈراما کرنے والے تھے لیکن پھر سنا کہ اُن کی ڈیٹس میچ نہیں ہورہیں، اس لیے عثمان یہ ڈراما نہیں کر پائے۔ خوش قسمتی سے اسد کی ڈیٹس اس سیریل کے لیے میچ ہوگئیں۔ لیکن انہوںنے مجھے اس سیریل میں بہت سرپرائز دیا۔ 

جس دِن میں سیٹ پر گئی تو سامنے اسد کھڑے تھے، میں نے اُن سے کہا آپ یہاں کیسے ؟۔ تو اُنہوں نے کہا کہ! میں تمہارے لیے یہاں آیا ہوں۔ بعد میں پتا چلا وہ اس سیریل میں عثمان کی جگہ آئے ہیں۔مجھے اندازہ نہیں تھا کہ ناظرین ہم دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر خوش ہوں گے۔لیکن لوگوں کی توقعات اور حوصلہ افزائی دیکھ کر میں خود بھی حیران ہوگئی۔لگتا ہے کہ کہ ناظرین جو جیون ساتھیوں کو ایک ساتھ دیکھنا اچھا لگتا ہے ۔

س: یہ ’’پکو‘‘ کون ہے ؟۔

ج: جب میں پیدا ہوئی تو کافی ’’پنک ‘‘ تھی اسی لیے گھر والے پیار سے مجھے پکو کہنے لگے، آہستہ آہستہ یہ نام میری سہیلیوں کو معلوم ہوا تو وہ بھی مجھے اِسی نام سے پکارنے لگ گئیں۔ انڈسٹری کی کچھ لڑکیاں بھی مجھے پکو ہی کہتی ہیں۔

س: حالیہ ڈراما میں انتخاب کیسے ہوا؟۔

ج: دراصل میںفلم ’’پرے ہٹ لو ‘‘کی پروموشن میں مصروف تھی، اس دوران ’’مہیش وسوانی ‘‘ نے کہا کہ ایک ڈراما ہے جس کے سیف حسن ہدایتکار ہیں، تم اس میں کام کرو میں بھی سیف حسن کے ساتھ کام کرنا چاہتی تھی۔ شہریار ’’پرے ہٹ لو‘‘ کے پروڈیوسر تھے میں نے اُن سے تین چار دِن کی اجازت لی کہ میں اس ڈرامے کے سین مکمل کرکے واپس فلم کی پروموشن کے لیے آجائوں گی، شہریار نے اجازت دی۔ 

میں ڈرامے کے کچھ سین عکس بند کراکے واپس آگئی،بعد میں سوچا کہ یہ 4 لڑکوں کا ڈراما ہے، میں نے کیوں اس میں کام کرلیا لیکن جیسے جیسے ڈراما آگے بڑھتا رہا، ویسے ویسے مجھے فیڈ بیک ملنا شروع ہوا۔ میں حیران ہوگئی، آج میں اُن تمام ناظرین کی شکر گزار ہوں جو میرے کام کو سراہتے ہیں، مجھے سپورٹ کرتے ہیں، میری چھوٹی چھوٹی چیزوں کی بھی حوصلہ افزائی کرکے بہت بڑا بنا دیتے ہیں۔

س: کس طرح کے کردار کرنے کی خواہش ہے؟۔

ج: میرا تعلق پنجاب سے ہے اس لیے مجھے دیسی لڑکی کا کردار ادا کرنے میں بہت مزہ آتا ہے، ویسے تو مجھے پٹھان اور سرائیکی لڑکی کا کردار اداکرنے کا بہت شوق ہے، ایسے ایک دو کردار پہلے کر چکی ہوں لیکن دیسی لڑکی کے کردار نے مجھے مزید نکھار دیا ہے، میں ایسے کردار اِسی لیے کرنا چاہتی ہوں تاکہ کچھ نہ کچھ سیکھتی رہوں ۔

س: اب تک جتنے کردار کیے، ان میں زیادہ اچھا کون سا لگا؟

ج: ’’حیا‘‘ کا کردار نہیں بھول سکتی ۔

س: کیا کسی نئی سیریل میں کام کر رہی ہیں؟

ج: جی ہاں،ابھی اس کی شوٹنگ ہورہی ہیں، اس سیریل میں اسد بھی ہیں ۔ یہ سیریل خالہ بشریٰ انصاری نے لکھا ہے، جو میری سیریل میں میری والدہ کا کردار ادا کر رہی ہیں، میری والدہ اسماء عباس بھی ہیں۔ اقبال حسین ہدایت کار ہیں۔سیریل میں میرا کردار بہت مختلف ہے۔اس سے پہلے میں نے ایسا کردار نہیں کیا ۔ اس لیے میں اس سیریل کے حوالے سے بہت پُر جوش ہوں اور اُمید کرتی ہوں کہ ناظرین کو بھی میرا کردار بہت پسند آئے گا۔

س:سنا ہے آپ کو چار فلموں کی آفر ہوئیں لیکن سب کو منع کردیا، آخرکیوں ؟۔

ج: دراصل جو کردار مجھے دیئے جارہے تھے، ویسے میں تقریباً کر چکی ہوں، کم و بیش شبو اور حیا کے کردار سے ملتے جلتے ہی تھے، میں چاہتی ہوں کہ اب جو فلم بھی کروں اس میں خوشبو اور حیا کی پرچھائی نہ ہو۔ لہٰذا انکار کردیا۔اس وقت تو میں ’’پرے ہٹ لو‘‘ اور ’’چھلاوا‘‘ کے ساتھ ہی بہت خوش ہوں۔ اس لیے 2020 میں فلموں میں نہیںڈراموں میں کام کرنے کا بہت شوق چڑھا ہوا ہے۔

س: فلم’’پرے ہٹ لو‘‘ میں کس طرح کاسٹ ہوئیں؟۔

ج: عاصم رضا نے ایک کمرشل کے لیے مجھ سے بات کی تھی، میرے نکاح کی تقریب میں وہ آئے،شادی کے بعد عاصم نے کہا کہ فلم میں تمہارا ایک سپورٹنگ رول رکھا ہے،بہت چھوٹا رول ہے ،میں چاہتا ہوں تم اسے ضرور کرو۔ میں نے حامی بھرلی۔ جیسے جیسے فلم بنتی گئی میر اکردار سپورٹ سے کچھ زیادہ ہوگیا۔ میں فلم کے گانوں میں بھی آئی، کچھ سینز میں نہیں تھی وہاں بھی مجھے شامل کرلیا گیا۔

س: فلم ’’چھلاوا‘‘ میں جو کردار آپ نے کیا ہے، اس میں بشریٰ انصاری کی جھلک نظر آتی ہے؟۔

ج: وہ میری خالہ ہیں لہٰذا کردار میں کہیں نہ کہیں اُن کی جھلک تو نظر آئے گی۔لیکن وہ تو کامیڈی کوئن ہیں، اگر لوگ میرا موازنہ اُن کے ساتھ کررہے ہیں تو پھر یقین کریں میں بہت خوش قسمت ہوں یہ سوچ کر کہ واقعی میں نے اداکاری میں کچھ کمال کر دکھایا ہے۔ اُنہیں تو انڈسٹری میں آئے ہوئے کئی برس ہوگئے ہیں۔ جب کہ مجھے چند سال ہوئے ہیں، اب میں نے اُن جیسا کچھ کرلیا تو یہ میرے لیے فخر کی بات ہے۔

س: ساتھی اداکارائیں تعاون کرتی ہیں؟۔

ج: جی بالکل کرتی ہیں۔

س: آپ کو اپنی کون سی فلم پسند ہے؟۔

ج: فلم ’’پرے ہٹ لو‘‘ پسند ہے۔یہ میری پہلی فلم تھی، یہ الگ بات ہے کہ وہ بعد میں ریلیز ہوئی۔

س:چھوٹا کرداربخوشی قبول کرلیتی ہیں یا انکار کردیتی ہیں؟

ج: چھوٹے بڑے کردار سے فرق نہیں پڑتا۔ اگر میرا کردار معاون اداکارہ کا ہوتا ہے تو مجھے پہلے ہی آگاہ کردیا جاتا ہے، میں اُسی حساب سے سیٹ پر جاتی ہوں، اگر کوئی جگہ کسی دوسری ہیروئن مثلاً مایا یا ماہرہ کی ہے تو میں اس میں دخل اندازی نہیں کرتی نہ ہی مستقبل میں کروں گی۔ سیٹ پر میں صرف اور اداکاری پر توجہ دیتی ہوں ، خواہ کردار چھوٹا ہو یا بڑا۔

س: آپ نے کیٹ واک بھی کی، تجربہ کیسا رہا؟۔

ج: کچھ ماڈلز نے مجھ پر کافی تنقید کی تھی ، مجھے اس کا دُکھ ہوا، میں نے اُن کی باتیں سوشل میڈیا پر شیئر بھی کی تھیں ،ساتھ یہ لکھا تھا کہ آپ ماڈلز ہیں بہت اچھا کام کرتی ہیں، لیکن میں اداکارہ ہوں، اس طرح کے ایونٹ میں اداکاری کے پیسے ملتے ہیں ۔

بہرحال تجربہ اچھا رہا۔ تنقید سے بھی تو سیکھتے ہیں۔ایک اورپرفارمنس ہے جو میں نے ’’اسٹائل ایوارڈ‘‘ کی تقریب میں دی ہے۔ بہت جلد ناظرین دیکھیں گے۔میرے خیال سے یہ میری سب سے بہترین پرفارمنس ہوگی۔

س:کس اداکار کے ساتھ کام کرنا چاہتی ہیں؟۔

ج: ہمایوں سعید کے ساتھ تاحال کام نہیں کیا ،خواہش ہےاِن کے ساتھ کام کروں۔ اس کے علاوہ علی ظفر اور فواد کے ساتھ بھی کام کرنا چاہوں گی۔

س: کام دلوانے میںخالہ کا کتنا ہاتھ ہوتا ہے ؟۔

ج: کام صرف صلاحیتوں کی وجہ سے ملتا ہے۔ میں کام سے اپنی صلاحیتوں کو نکھارنا چاہتی ہوں۔ ہاں ایک بات ہے کہ خالہ کے اداکارہ ہونے کے باعث لوگ سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں ۔ 

 بھابھی اور بیٹی دونوں کے فائدے اور نقصان ہیں، فائدہ یہ ہے کہ جس طرح انڈسٹری میں آنے والوں کو ہراسگی یا کسی قسم کے ناروا رویے کا ڈر ہوتا ہے، ایسا مجھے نہیں ہے، کوئی بھی ایسی ویسی بات کرنے سے پہلے سوچتا ہے کہ بات آگے ضرور جائے گی اور یہ بشریٰ خالہ کی وجہ سے ہے۔ بشری خالہ ہمیں بہت پیار کرتی ہیں اور ساتھ دیتی ہیں لیکن مجھے کام کبھی بشریٰ خالہ کی وجہ سے نہیں ملا۔

فن و فنکار سے مزید
انٹرٹینمنٹ سے مزید