آپ آف لائن ہیں
اتوار4؍شعبان المعظم 1441ھ 29؍مارچ 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

افغان 4 دہائیوں سے جاری جنگی فضا ختم کریں: زلمے خلیل زاد

افغان 4 دہائیوں سے جاری جنگی فضا ختم کریں: زلمے خلیل زاد


افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ جرمنی کے شہر میونخ میں افغانستان کے صدر اشرف غنی سے ملاقات ہوئی ہے۔

ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملاقات میں افغان امن عمل کے حوالے سے بات چیت ہوئی ہے، تمام افغانوں سے گزارش ہے کہ 4 دہائیوں سے جاری جنگی فضا کو ختم کریں۔

امریکا کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے مزید کہا کہ میونخ میں آج امریکی اہم قانون سازوں اور سینیٹرز سے بھی ملاقات ہوئی ہے۔

انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس ملاقات میں تشدد کو کم کرنے اور جنگ کے خاتمے سے متعلق بات چیت ہوئی ہے۔

یہ بھی پڑھیئے: زلمے خلیل زاد کی آرمی چیف سے ملاقات

واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکا اور افغان طالبان 22 فروری سے تشدد میں کمی کے معاہدے پر متفق ہوگئے ہیں جس کے تحت فریقین کی جانب سے افغانستان میں 7 دن تک پُرتشدد کارروائیوں سے گریز کیا جائے گا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق یہ معاہدہ دونوں فریقوں کے درمیان وسیع تر معاہدے پر دستخط کی راہ ہموار کرے گا، جس پر گزشتہ سال دونوں فریقوں کا اتفاق ہوا تھا۔

امریکی میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ ایک طالبان ذریعے نے بتایا ہے کہ تشدد میں کمی کے معاہدے پر عمل درآمد کا آغاز 22 فروری سے ہو گا، وسیع تر معاہدے پر 29 فروری کو دستخط متوقع ہیں، اس کے بعد 30 مارچ کو افغان قومی امن مذاکرات کے آغاز کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

امریکی محکمۂ خارجہ کے ایک عہدے دار کے مطابق تشدد میں کمی کا سمجھوتہ مکمل سیز فائر نہیں ہے، اس کا اطلاق صرف امریکا اور طالبان پر نہیں بلکہ افغان حکومت پر بھی ہو گا۔

یہ بھی پڑھیئے: زلمے خلیل زاد نے عمران خان کو ٹرمپ کا پیغام پہنچایا

معاہدے کے الفاظ بہت واضح ہیں جن میں سڑک کنارے بم دھماکے، خودکش حملے اور راکٹ حملے کے الفاظ بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید