آپ آف لائن ہیں
منگل13؍شعبان المعظم 1441ھ 7؍اپریل2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

برقع خدیجہ کا اپنا انتخاب ہے، اے آر رحمٰن

بھارتی گلوکار اے آر رحمٰن کا کہنا ہے کہ برقع پہننا اُن کی بیٹی خدیجہ کا اپنا انتخاب ہے۔

گزشتہ دِنوں بنگلا دیشی رائٹر تسلیمہ نسرین نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بھارتی گلوکار اے آر رحمٰن کی بیٹی خدیجہ رحمٰن کو حجاب اور برقع پہننے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تسلیمہ نسرین کی تنقید کے بعد اب بھارتی گلوکار اے آر رحمٰن کا بھی اِس حوالے سے بیان سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق اے آر رحمٰن نے کہا ہے کہ ’اُن کی بیٹی نے ماضی میں ایک گانا گایا ہے جس پر لوگوں کی جانب سے اُن کو بےحد پیار اور محبت ملی۔‘

اے آر رحمٰن نے کہا کہ ’میرے بچوں کو معلوم ہے کہ اُن کے لیے کیا اچھاہے اور کیا بُرا ہے، اِسی لیے میرے بچے اپنی مرضی کے مطابق آزادانہ زندگی گُزار رہے ہیں۔‘

بھارتی گلوکار نے کہا کہ ’برقع اور حجاب پہننے کا انتخاب خدیجہ کا اپنا ہے اور میری بیٹی کو اپنی مرضی کا لباس پہننے کی مکمل آزادی ہے۔‘

اُنہوں نے بنگلادیشی رائٹر تسلیمہ نسرین کی جانب سے خدیجہ کے حجاب اور برقعے پر تنقید کرنے کے حوالے سے کہا کہ ’میں اِس طرح کی تنقید کرنے والوں کو کوئی جواب نہیں دوں گا۔‘

یاد رہے کہ گزشتہ دِنوں تسلیمہ نسرین نے ٹوئٹر پر خدیجہ رحمٰن کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’مجھے اے آر رحمٰن کی گلوکاری پسند ہے لیکن میں جب بھی اُن کی بیٹی کو دیکھتی ہوں تو میرا دم گُھٹنے لگتا ہے۔‘

اُنہوں نے لکھا تھا کہ ’یہ بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک ثقافتی گھرانے میں پرورش پانے والی لڑکی کا بھی آسانی سے برین واش ہوسکتا ہے۔‘

تسلیمہ نسرین کے اِس تنقید بھرے ٹوئٹ پر خدیجہ رحمٰن بھی خاموش نہ رہیں اور اُنہوں نے انسٹاگرام پر اپنی حجاب میں تصویر شیئر کی تھی جس کا اُنہوں نے ایک طویل کیپشن لکھا تھا۔


خدیجہ رحمٰن نے اپنے کیپشن میں بنگلادیشی رائٹر کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’محترمہ تسلیمہ نسرین! مجھے افسوس ہو رہا ہے کہ آپ اپنے ہی لباس کی وجہ سے گُھٹن محسوس کر رہی ہیں، آپ کو کچھ تازہ ہوا لینے کی ضرورت ہے۔‘

اُنہوں نے لکھا تھا کہ ’مجھے برقع پہننے سے کوئی گُھٹن محسوس نہیں ہوتی ہے بلکہ مجھے فخر محسوس ہوتا ہے اور میں اپنے اِس فیصلے میں بااختیار ہوں۔‘

اُنہوں نے لکھا تھا کہ ’تسلیمہ نسرین میرا آپ کو مشورہ ہے کہ آپ کو ایک بار گوگل کرکے حقیقی نسوانیت کا مطلب معلوم کرنا چاہیے ۔‘

انٹرٹینمنٹ سے مزید