آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

پاکستان زندہ باد نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی پر ’غداری‘ کا مقدمہ، 2ہفتوں کا ریمانڈ

پاکستان زندہ باد نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی پر غداری کا مقدمہ


نئی دہلی (ایجنسیاں)پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی کو ’غداری‘ کیس کا سامنا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں بھارت کے خلاف نعرے بازی کرنے اور ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی بھارتی لڑکی کو جیل بھیج دیا گیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق 20 فروری کو ریاست کرناٹکا کے دارالحکومت بنگلور میں متنازع شہریت قانون کے خلاف ہونے والے ایک جلسے میں ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی غیر مسلم لڑکی کو ’غداری‘ کے کیس میں جیل بھیج دیا گیا۔رپورٹ کے مطابق امولیا لیونا نامی نوجوان لڑکی نے بنگلورو میں ہونے والے جلسے کے دوران مائیک پر سب کے سامنے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے بلند کیے تھے۔رپورٹ کے مطابق مطابق لڑکی کی جانب سے دشمن ملک کی حمایت میں نعرے لگائے جانے کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے ان کے خلاف ’غداری‘ کا مقدمہ دائر کیا اور انہیں عدالت میں پیش کردیا، جہاں عدالت نے انہیں 2 ہفتوں کے ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کردیا۔پولیس کمشنر نے بتایا کہ لڑکی کے خلاف غداری کے کیس کے تحت قانونی کارروائی کی جا رہی ہے ،ابتدائی تفتیش میں اسد الدین اویسی اس معاملے میں ملوث نظر نہیں آتے۔کرناٹکا کے وزیر داخلہ بسوراج بومی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کا تعلق علیحدگی پسند اور شدت پسند تنظیم ’نیکسلاٹ‘ سے ہے جنہیں نکسل باغی بھی کہا جاتا ہے۔انہوں نے عندیہ دیا کہ پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگانے والی لڑکی کو اب کسی صورت میں بھی ضمانت پر رہا نہیں کیا جائیگا ، ان کے خلاف نکسل سے تعلقات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری جانب پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے والی لڑکی کے والد نے بتایا کہ ان کی بیٹی متنازع شہریت قانون کے خلاف متحرک تھیں اور وہ انہیں روکنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے تاہم وہ ان کی بات نہیں مانتی تھی۔ادھر اسدالدین اویسی نے بھی لڑکی کی جانب سے پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کی مذمت کی اور کہا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔اسدالدین اویسی نے وضاحت کی کہ وہ جلسے کے بعد نماز پڑھنے جا رہے تھے کہ لڑکی نے پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے، جنہیں سننے کے بعد وہ واپس مڑے اور لڑکی کو روکنے کی کوشش کی۔لڑکی کی جانب سے پاکستان زندہ باد‘ کے نعروں کی وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا کہ لڑکی نے عین اس وقت پاکستان کی حمایت میں نعرے لگائے جب جلسے سے خطاب کے بعد آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی جا رہے تھے۔ویڈیو میں دیکھا گیاکہ لڑکی کی جانب سے ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے لگائے جانے کے بعد اسدالدین اویسی واپس پیچھے مڑکر لڑکی کو ایسے نعرے لگانے سے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید