آپ آف لائن ہیں
بدھ21؍ذی الحج1441ھ12؍اگست 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’’جنگیں بہت ہو چکیں، اب امریکہ پائیدار امن چاہتا ہے‘‘۔ یہ الفاظ امریکی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کے ہیں جو انہوں نے افغان مہاجرین کی عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ امریکی ایلچی امریکہ کی جنگوں کی تاریخ سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں۔ پوری دنیا میں 120ممالک ایسے ہیں جن کے درمیان علاقائی جھگڑے اور سرحدی تنازعات ہیں۔ اسی بنا پر ان ممالک اور قوموں کے درمیان کئی خون ریز جنگیں بھی ہو چکی ہیں۔ ان لڑائیوں میں ایک دوسرے کا بےدردی سے خون بھی بہایا گیا ہے۔ عسکری جنگوں کی تاریخ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ استعماری، سامراجی اور ہر زمانے کی طاغوتی قوتوں نے کن ممالک پر کس وقت شب خون مارا؟ یادش بخیر! پرتگال نے 1515میں مسقط، ہرمز اور بحرین پر پرتگالیوں کے اڈے قائم کیے اور 1565میں پرتگالیوں نے فلپائن میں اپنے اڈے قائم کر لیے۔ روس میں زار حکمراں تھے انہوں نے آگے بڑھنا شروع کیا اور 1670ء میں جھیل اورال پر قبضہ کیا۔ 1824میں جزیرہ قوم پر قبضہ کیا جو کہ بحیرۂ اسود میں ہے۔ 1864 میں قفقاز پر قبضہ کیا۔ 1859ء میں تاشقند پر قبضہ کیا۔ 1882ء میں بخارا کے شہر خیوہ پر اس کے بعد 1884ء میں ترکستان پر قبضہ کیا۔ فرانس نے 1830ء میں الجزائر پر قبضہ کیا۔ 1881ء میں تیونس پر قبضہ کیا اور 1882ء میں سینیگال اور مڈغاسکر پر قبضہ کیا۔ پھر 1912ء میں مراکش پر قبضہ کیا اور 1921ء میں شام پر قبضہ کیا۔ برطانیہ نے 1857ء میں ہند پر قبضہ کیا۔ پھر 1888ء میں مصر پر قبضہ کیا۔ 1914ء میں عراق پر قبضہ کیا۔ 1918ء میں اُردن اور فلسطین پر قبضہ کیا۔ 1898ء میں سوڈان اور 1851ء میں نائجیریا پر قبضہ کیا۔ یہ برطانیہ کی اہم فتوحات ہیں اس کے علاوہ اس نے تین حملے افغانستان پر کیے لیکن قبضہ نہ کر سکا۔ اٹلی نے صومالیہ اور اریٹیریا پر 1887ء میں حملہ کیا۔ لیبیا پر 1911ء میں قبضہ کیا۔ اس مختصر سے عرصے میں سارا عالم اسلام استعماریت کے قبضے میں آچکا تھا۔ 1945ء سے آج تک دنیا میں مجموعی طور پر 108بڑی جنگیں ہوئیں جن میں بارود کا کھلم کھلا استعمال ہوا۔ گھر جلے، شہر ویران ہوئے، لاشیں گریں، زخمیوں کی چیخوں اور مرنے والوں کی آہوں سے زمین اور آسمان کے دامن میں چھید ہوئے۔ ان سب جنگوں کے پیچھے ایک ہی ملک امریکہ تھا۔ بعض جنگیں امریکہ نے براہِ راست لڑیں۔ بعض میں وہ شریک ہوا اور بعض میں اس کا اسلحہ استعمال ہوا۔ وہ جنگیں جن میں امریکہ شامل نہیں تھا، ان میں بھی مرنے والوں کے خون کے چھینٹے امریکی آستینوں پر ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ان 108جنگوں میں 1996تک ایک کروڑ نوے لاکھ تہتر ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ لاطینی امریکہ میں ارجنٹائن، بولیویا، برازیل، چلی، کولمبیا، کوسٹاریکا، کیوبا، ڈومنیکن ری پبلکن، فاک لینڈ، گوئٹے مالا، ہنڈراس، جمیکا، نکاراگوا، پاناما، پیراگوئے اور پیرو میں 4لاکھ 70ہزار افراد مارے گئے۔ مڈل ایسٹ اور شمالی افریقا میں الجیریا، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اردن، کویت، لبنان، مراکش، شام، تیونس اور یمن میں جنگیں ہوئیں جن میں 9لاکھ 93ہزار افراد لقمۂ اجل بنے۔ امریکہ کی سازش سے افریقا کے 17ممالک جنگ کی بھٹی میں پگھلتے رہے۔ انگولا، برونڈی، ایتھوپیا، گھانا، گنی بسائو، کینیا، لائیبریا، مڈغاسکر، موزمبیق، نائیجیریا، روانڈا، سائوتھ افریقہ، سوڈان، یوگنڈا، زائرے، زیمبیا اور زمبابوے میں جنگیں اور خانہ جنگیاں ہوئیں جن میں 41لاکھ 64ہزار افراد ہلاک ہوئے۔ یورپ کے ممالک چیکو سلواکیہ، یونان، ہنگری، رومانیہ اور ترکی جنگوں کا شکار رہے جن میں ایک لاکھ 86ہزار لوگ مارے گئے۔ ایشیا کے وسطی اور جنوبی ممالک افغانستان، بنگلا دیش، بھارت، پاکستان اور سری لنکا میں جنگیں ہوئیں جن میں 28لاکھ 57ہزار لوگ مارے گئے۔ مشرقی ایشیا کے ممالک میں زیادہ خوفناک جنگیں ہوئیں جن میں کمبوڈیا، چین، انڈونیشیا، کوریا، لائوس، ملائشیا، برما، فلپائن، تائیوان، روس اور ویتنام کی جنگوں میں ایک کروڑ 39لاکھ 6ہزار انسان ہلاک ہوئے۔ ان تمام جنگوں کے پیچھے امریکہ تھا، ان تمام جنگوں میں امریکی اسلحہ استعمال ہوا۔ ان میں سے چند جنگیں تو ایسی تھیں کہ اگر امریکہ کی وزارتِ دفاع سے ایک ٹیلی فون آجاتا تو لاکھوں افراد خوفناک موت سے بچ جاتے لیکن فون تو رہا ایک طرف، امریکی دفتر خارجہ نے عین جنگ کے موسم میں ایسے بیانات دینا شروع کر دیے جن کے نتیجے میں وہ جنگیں ناگزیر ہوگئیں۔ اس وقت بھی دنیا میں 68ایسے تنازعات موجود ہیں جو دنیا کے 43فیصد معاشی وسائل کھا رہے ہیں۔ افغانستان پر 2001ء سے تاحال طاغوت کی خونی یلغار پوری طاقت اور شدت سے جاری ہے۔ متعلقہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق نائن الیون کے بعد سے 6لاکھ 60ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

امریکہ شاید یہ تاریخی حقیقت بھول چکا ہے کہ طاقت کے اندھے استعمال سے دنیا کو فتح نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ کی اس روش سے دنیا دہکتا انگارہ تو بن سکتی ہے لیکن امن کا گہوارا نہیں۔ اس سے امریکہ کے لئے نفرتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے لیکن اس کی برتری کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نے نفرت کے ایسے زہریلے بیج بوئے ہیں کہ جن سے اُگنے والے نوکدار کانٹوں کو وہ اگر اپنی پلکوں سے بھی چننے کی کوشش کرے گا تو بھی وہ ختم نہ ہوں گے۔