آپ آف لائن ہیں
پیر12؍شعبان المعظم 1441ھ 6؍اپریل 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

اسرائیل، نئی تعمیرات سے فلسطینی محصور ہو کر رہ جائیں گے

یورپین یونین نے اسرائیل کی جانب سے نئی تعمیرات کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان تعمیرات سے فلسطینی محصور ہو کر رہ جائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق یورپین خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل سمیت فرانس، جرمنی، اٹلی اور آئرلینڈ نے اسرائیل کی جانب سے ہار ہوما اور جیوات ہاماتوس میں بنائے جانے والے 5200 نئے گھروں کی تعمیر کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ 

ان تمام ممالک نے کہا کہ اسرائیل کی ان نئی تعمیرات کے نتیجے میں مشرقی یروشلم اور بیت الحم میں رہنے والے فلسطینی ویسٹ بینک سے کٹ جائیں گے جس کے نتیجے میں دو ریاستی حل ناممکن ہو جائے گا۔

اس حوالے سے یورپین یونین اور اس کے اوپر مذکور ممالک نے جاری کردہ اپنے اعلامیوں میں کہا کہ اسرائیل کا یہ اقدام فلسطینیوں کے ساتھ پائیدار امن کی راہ اور فلسطینی ریاست کی تعمیر میں ایک بڑی رکاوٹ ہے جبکہ فرانس نے کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر طرح کی نو آبادیات بنانا غیر قانونی ہے۔ 

یورپین یونین ان فلسطینی تعمیرات کی ایک عرصے سے مخالفت کر رہی ہے جس کے نتیجے میں یونین کے مطابق ابتک 630000 فلسطینی اپنے گھر بار چھوڑ کر ویسٹ بینک کے علاقے میں جانے پر مجبور ہوئے ہیں لیکن یورپ کی جانب سے یہ تازہ مخالفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکا نے اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی مخالفت کے باوجود اسرائیل کو اس منصوبے کی تعمیر کے لیے گرین لائیٹ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے ۔

اس حوالے سے لکسمبرگ نے گذشتہ ہفتے ایک میٹنگ بھی بلائی تھی جس میں فرانس آئیر لینڈ بیلجیئم سمیت کئی ممالک نے شرکت کی تھی، جس میں اس بات پر غور کیا گیا تھا کہ اگر اسرائیل اپنے جارحانہ اقدامات سے نہیں رکتا تو کیا کیا جائے؟۔ 

اس میں ایک آپشن یہ بھی ہے کہ فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر لیا جائے جبکہ یورپین وزرائے خارجہ اپنے 23 مارچ کو منعقد ہونے والے آئندہ اجلاس میں بھی عرب اسرائیلی تنازعے پر گفتگو کریں گے ۔ 

علاوہ ازیں مسیحی روحانی پیشوا پوپ فرانسس نے بھی امریکا اور اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ اس مسئلے پر دوبارہ غور کریں ۔ 

اٹلی میں بشپس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بحیرہ روم کے خطے کو اس وقت مشرق وسطی، شمالی افریقہ کے مختلف ممالک کے ساتھ ساتھ مختلف نسلی مذہبی یا اعتراف پسندگروہوں کے درمیان تنازعات، بدامنی اور عدم استحکام سے خطرہ درپیش ہے۔ 

ہم فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین حل طلب تنازعے کو نظر انداز نہیں کرسکتے اور نہ ہی ہم اس کے عدم حل کا خطرہ مول لے سکتے ہیں جوکہ نئے بحرانوں کا سبب بن سکتا ہے ۔

بین الاقوامی خبریں سے مزید