آپ آف لائن ہیں
بدھ3؍ربیع الاوّل 1442ھ21؍اکتوبر 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

’سکھر بیراج کی انسپکشن ٹرین‘ ملک کے چند سربراہان اس کے سفر سے لطف اٹھاچکے ہیں

سکھر بیراج کا نام سنتے ہی ذہن میں ایشیاء کے سب سے بڑے نہری نظام کا خاکہ ابھرتا ہے جس سے نکلنے والی سات نہریں سندھ کی زراعت کی اساس و بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ ایک بڑے نہری نظام کےبعدسکھر بیراج کی سب سے بڑی انفرادیت اس کی انسپکشن ٹرین ہے۔ویسے تو یہ ٹرین سکھر بیراج کی انسپکشن کے لئے تعمیر کی گئی تھی مگر انسپکشن کے ساتھ ساتھ یہ ایک بہترین تفریح کا ذریعہ بھی ہے۔ انسپکشن ٹرین کا یہ سسٹم پورے پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہے۔ سکھر بیراج پر قائم انسپکشن ٹرین کا سفر لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا ہے۔ اس ٹرین میں سفر کے دوران دریائے سندھ کے دونوں اطراف قائم تاریخی و قدیم مقامات اور د ل فریب نظارے سفر کرنےوالوں کو عرصہ دراز تک بھلائے نہیں بھولتے۔ 

دریائے سندھ کے اوپر سکھر بیراج پر چلنے والی اس ٹرین میں بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہم کسی ترقی یافتہ ملک کے انتہائی خوبصورت اور پرفضاء شہرمیں سانس لے رہے ہیں۔ جی ہاں، اس ٹرین پر سفر کرتے ہوئے جو مناظر دکھائی دیتے ہیں وہ ہوتے ہی اس قدردل کو موہ لینے والے ہیں کہ سفر کرنے والا خود کو ایک نئی دنیا میں محسوس کرتا ہے۔ انسپکشن ٹرین میں سفر کے دوران دونوں جانب حد نگاہ تک پانی ہی پانی نظر آتا ہے جب کہ کنارے پر دائیں طرف سات سہیلیوں کا مزار، روہڑی کے پہاڑ، لینس ڈائون برج، بکھر آئی لینڈ سمیت دیگر خوبصورت نظارے بھی دکھائی دیتے ہیں جو کہ دیکھنے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتے ہیں۔ اگر بائیں طرف نظر ڈالیں تو سندھ و بلوچستان کو ملانے والی شاہراہ سے گزرنے والی ٹریفک رواں دواں دکھائی دیتی ہے۔ سکھر بیراج کا دورہ کرنے والےاگر اس ٹرین میں سفر نہ کریں تو انہیں ادھورے پن کا احساس شدت سے ستاتا ہے۔

سکھر بیراج کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ انگریز دور حکومت میں تعمیر ہونے والا قدیم بیراج ہے۔ 1929 میںاس کے او پر ڈیڑھ کلو میٹر تک ریلوے ٹریک کی طرز پر ریل کی پٹریاں بچھا کر باقاعدہ ایک ٹریک بنایا گیا ہے، جس کی چوڑائی 4فٹ ہے۔ اس ٹریک پر چلانے کے لیے برطانیہ سے ایک چھوٹی سی ریل گاڑی منگوائی گئی جسے ’’ انسپکشن ٹرین ‘‘ کا نام دیا گیا۔ اسےچلانے کے لئے 4پہیوں والا ڈیزل انجن استعمال کیا جاتا ہے۔انجن کے ساتھ ساتھ ایک ہاتھ سے چلنے والی گاڑی بھی ہوتی ہے جسے عام طور پر ریڑھا کہا جاتا ہے، جس کے ذریعے بعض اوقات عملہ سامان وغیرہ لے کر جاتا ہے۔ اس ٹرین میں مجموعی طور پر 20افراد بآسانی بیٹھ سکتے ہیں۔ ٹرین میں 6نشستیں ہیں اور ایک نشست پر 3افراد بیٹھتے ہیں، 2نشستوں کے درمیان میں ایک ٹیبل نما لکڑی کا حصہ بھی بنایا گیا ہے تاکہ ٹرین میں سفر کرنے والے افراد اشیائے خورونوش ، کیمرے ، بیگ، اور دیگر سامان رکھ سکیں۔ 

اس بیراج کی انسپکشن ٹرین کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین منصب پر فائز رہنے والی شخصیات جن میں صدر پاکستان، وزرائے اعظم و دیگر اہم ہستیوں نے سفر کیا۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک تمام وزرائے اعظم، صدر ایوب خان سےلے کر آصف علی زرداری تک ملک کے تمام صدور اس ٹرین پر بیٹھ کر بیراج کی سیر کرچکے ہیں۔

دیگر سربراہان مملکت میں پاکستان کے سابق صدر اوربعد میں بننے والےوزیر اعظم، ذوالفقار علی بھٹو،صدر جنرل ضیاء الحق شہید، سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، شہیدوزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف، سابق صدرآصف علی زرداری،پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت تمام صوبوں کےگورنر، وزرائے اعلیٰ اور دیگر اہم شخصیات نے جب بھی سکھر بیراج کا دورہ کیا تو انہوں نے بھی اس ٹرین کا سفر کرکے سکھر بیراج کی سیر کا بھی لطف اٹھایا۔ آئے روز سکھر بیراج پر وی وی آئی پیز کی آمد ہوتی ہے اور وہ اس ٹرین میں بیٹھ کر سفر کرتے ہیں، سکھر بیراج کا دورہ کرنے والے اس وقت تک اپنے دورے کو ادھورا سمجھتے ہیں جب تک وہ اس ٹرین میں نہیں بیٹھتے۔

سکھر بیراج کے کنٹرول روم کے انچارج عبدالعزیز سومرونے بتایا کہ1982 میں سکھر بیراج نے جب اپنی عمر کے 50 سال مکمل کیے تو اس کی گولڈن جوبلی کی تقریب منعقد کی گئی تھی۔اس میںصدر پاکستان جنرل ضیاء الحق شہید، سندھ کے گورنر ایس ایم عباسی سمیت دیگر شخصیات نے شرکت تھی۔ گولڈن جوبلی تقریب کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں سکھر بیراج کی تعمیرمیں خدمات انجام دینے والے برطانوی انجینئروں کی اولادوں، ان کے بیٹے، بیٹی، نواسے، نواسی، یا پوتے پوتیوں کو بلایاگیا تھا، برطانیہ سے جب وہ لوگ سکھربیراج پہنچے اور انہوں نے اس پر موجود انسپکشن ٹرین میں بیٹھ کر سفر کیا تو ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ 

محکمہ آبپاشی کے افسران بھی وقتاً فوقتاً انسپکشن ٹرین کے ذریعے سکھر بیراج کے گیٹوں اور دریائے سندھ میں پانی کا جائزہ لیتے ہیں، خاص طور پر سالانہ بھل صفائی کے بعد افسران گیٹوں کی مرمت، آئلنگ، گریسنگ و دیگر کام کا جائزہ لینے کے لئےاسی ٹرین میں سفر کرتے ہیں۔ اسی طرح جب دریائے سندھ میں سیلابی صورتحال ہوتی ہے تو بھی افسران ودیگر حکومتی عہدیداران اس ٹرین کے ذریعے دریائے سندھ میں طغیانی کا جائزہ لیتے ہیں۔ اس ٹرین کے ذریعے یہ دیکھنے میں آسانی ہوتی ہے کہ پانی کس قدر تیزی سے بیراج کی سمت بڑھ رہا ہے جبکہ پانی کے بہائو کا بھی جائزہ لیا جاتا ہے ۔ 

اس کے بعد آب پاشی ماہرین کی ٹیم سیلابی پانی کو سکھر بیراج سے گزارنے کیلئے انتظامات کرتی ہے۔ انسپکشن ٹرین میں صرف ملک کی اہم شخصیات ، اعلیٰ حکومتی عہدیداریا بیراج کے حکام ہی سفر نہیں کرتے بلکہ سندھ سمیت ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات بھی سکھربیراج کےدورے کے موقع پر اس ٹرین کی سیر کرتے ہیں۔طلبہ و طالبات کے دورے کے موقع پر ان کی خواہش یہی ہوتی ہے کہ بیراج کے دورے کے موقع پر معلومات کے ساتھ ساتھ بیراج کے اوپر قائم کی گئی اس خصوصی ٹرین میں بھی سفر کیا جائے ۔

ٹرین میں اگر انسپکشن ٹیمیں بیراج اور دریائی معائنے کو مد نظر رکھ کر سفر کرتی ہیں تو ٹرین کو مختلف جگہوں پر روکا بھی جاتا ہے اور اگر صرف سیر کرنامقصود ہو تو ٹرین کا یہ سفر جو کہ سکھر بیراج کے دائیں طرف سے شروع ہوتا ہے اور ڈیڑھ کلو میٹر پر محیط ہے ، 10سے 15منٹ میں طے کیا جاتا ہے۔ انسپکشن ٹرین کے سفر کے لئے باقاعدہ طور پر ایگزیکٹیو انجینئر سکھر بیراج کو درخواست دی جاتی ہے، ان کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ہی ٹرین کا سفر کیا جاسکتا ہے۔ 

انسپکشن ٹرین اور ٹریک کی دیکھ بھال کرنے کے لئے باقاعدہ عملہ تعینات ہے اور ملازمین یومیہ بنیادوں پر چیکنگ کرتے ہیں۔ اگر کہیں کچھ خرابی دکھائی دیتی ہے تو اسے دور کرتے ہیں۔ سکھر بیراج جیسی انسپکشن ٹرین کا یہ نظام پورے پاکستان میں کہیں بھی نہیں ہے۔ جشن آزادی 14اگست یا دیگر قومی تہواروں پر انسپکشن ٹرین کو سبز ہلالی پرچم اور برقی قمقموں سے سجایا جاتا ہے اور چراغاں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ 

یہ ٹرین سکھر بیراج کے دائیں ہاتھ سے اپنا سفر شروع کرتی ہے، اور سکھر یا لائیڈ بیراج میویم کے قریب جاکر رک جاتی ہے، جہاں پر ٹرین میں سفر کرنے والے افراد اتر کرمیوزیم میں جاتے ہیں۔ان کی واپسی کے بعدیہ ٹرین واپس ریورس میں اپنے اسٹیشن پر پہنچتی ہے۔ انسپکشن ٹرین کا یہ سفر خوش گوار اور محفوظ ترین تصور کیا جاتا ہے۔

وادی مہران سے مزید