آپ آف لائن ہیں
منگل 15؍ذیقعد 1441ھ 7؍جولائی 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

بینا صدیقی

تحفے دینا کسی زمانے میں تعلقات کو استوار رکھنے کا ایک اہم ذریعہ تھا۔ لیکن اب یہ پریشانی کا موجب بن گیا ہے، کیونکہ لین دین کے معاملے میں یا تو کنجوسی نے بہت جگہ گھیر رکھی ہے یا پھر خود غرضی نے ۔ لینے والے سمجھتے ہیں انہوں نے اتنا کم دیا تو ہم کیوں زیادہ دیں؟دلچسپ بات یہ ہے کہ اپنا دیا ہمیشہ زیادہ اور دوسرے کا دیا کم لگتا ہے دوسرے کے تحفوں کو سمجھتے ہیں کہ اسے مفت ملا ہوگا، کسی سستے بازار سے خریدا ہوگا، اس کا تحفہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔

بات دراصل یہ ہے کہ دوسرے کی لائی چیز میں اس کی قیمت سے زیادہ لانے والے کے جذبے اور خلوص کو دیکھنا چاہیے۔شادی بیاہ کے موقع پر بھی خواتین سلامی یا منہ دکھائی میں دی جانے والی رقم کا حساب کتاب رکھتی ہیں، رات کو شادی کی تقریب میں شریک ہونے سے پہلے خاتون خانہ کی دوپہریں وہ ڈائری ڈھونڈنے اور کھنگالنے میں گزرتی ہیں، جس میں گھر کی کسی پچیس سال پرانی شادی میں دی گئی سلامی کا کھاتہ درج ہوتا ہے، پھر اس کے مطابق سلامی واپس کردی جاتی ہے۔

مثلاً فلاں نے ہوا میں اڑتے جھمکے دئیے تھے، ہم بھی سوئی جیسے گولڈ کے ٹاپس دے دیتے ہیں۔ گولڈ کے بدلے گولڈ بھی ہوجائے گا۔ بھابھی بیگم کا لین دین نامہ اور بھی بھیانک تھا۔ انہوں نے بندر کی کھال سے بنا بیگ اور چکنی مچھلی جیسا سلک کا موٹا تازہ ایک سوٹ دیا تھا۔ ان کی بیٹی کو پیش کرنے کے لیے ہم بھی بلی کی کھال کا بیگ تلاش کرتے ہیں اور مکھن لگا کوئی سوٹ بھی۔

دلہن کی دوست فضہ نے بری طرح چبھنے والا ڈیکوریشن پیس دیا تھا، جس سے دلہن کے ہاتھ خونم خون ہوگئے تھے۔ اب بازار نکلتے ہیں اور فضہ کی شادی کے لیے ہتھیلی میں سوراخ کرنے والا کوئی ڈیکوریشن پیس ڈھونڈتے ہیں۔

دراصل دوسروں کو دیتے ہوئے ہم انتہائی کنجوس ہوجاتے ہیں، حساب کتاب کے ماہر بن جاتے ہیں، لیکن جب ہمارے لینے کا کوئی موقع آتا ہے تو ہم اخلاق و مروت کی توقع کرتے ہیں۔

ہم چاہتے ہیں کہ جب ہم دے رہے ہوں تو حساب کا پیریڈ چلے اور دوسرا دے تو اخلاقیات کا پیریڈ چل رہا ہو، مگر ایسا ہوتا نہیں ہے۔

سالگرہ کی تقریبات میں اس سے بھی برا حال ہوتا ہے۔ گھر کے بچوں کے ناپسندیدہ کھلونے، بڑے بچوں کے چھوٹے اور چھوٹے کے بڑے ہوجانے والے کپڑے، استعمال شدہ بے بی لوشن اور بے بی پائوڈر کا سیٹ، ایکسپائر ہوجانے والی چاکلیٹس ہمارا انتخاب بنتی ہیں۔ کیش دینے کا فیصلہ ہو تو ملکی کرنسی کا سب سے چھوٹا نوٹ دینا پسند کرتے ہیں۔ یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ کیک اور کھانے کا انتظار کرتے ہیں اور کھانے کے معیار کو مدنظر رکھتے ہوئے لفافے میں سے ایک نوٹ کم کرتے ہوئے چلتے وقت کہتے ہیں۔ ’’معاف کیجیے گا ، آتے وقت دینا بھول گئے تھے۔‘‘

کسی کے نئے گھر کی تقریب ہو تو صرف اس کے نئے گھر تک جانے کے لیے پیٹرول کا خرچ کیا جاتا ہے وہ بھی مجبوراً کہ نیا گھر چل کے ان کے پاس نہیں آسکتا۔ نئے گھر کے تحفے کے لیے گھر کی پرانی چیزیں کھنگالی جاتی ہیں ،مثلاًناکارہ وال کلاک، داغ لگا قالین کا ٹکڑا ، دھبے دار پینٹنگ یا استعمال شدہ برتن نئے گفٹ پیپر میں پیک کرلیے جاتے ہیں۔

دراصل ہم دوسروں کو تحفے دیتے وقت ان کی حیثیت کو بہت کم تر سمجھتے ہیں اور وصول کرنے کے لیےاپنےآپ کو خود بہت اونچی چیز سمجھ بیٹھتے ہیں،جس کا نتیجہ تعلقات کا توازن بگڑنے کی صورت میں سامنے آتا ہے اور ہم کہتےہیں۔ اب لوگوں میں اخلاق مروت بالکل ختم ہو گیا ہے، مگر جان لیں یہ سب سے پہلے ہم میں ختم ہوا پھر دوسرے نے ختم کیا۔

تحفہ ہمیشہ اپنی حیثیت کے مطابق مگر دوسرے کی پسند کے مطابق دینا چاہیے۔اگر کسی کو کپڑے بنانے کا شوق ہے تو اسے کتابیں دینا اس پہ ظلم ہے، خواہ کتنی ہی مہنگی کتاب کیوںنہ دے دی جائے؟اور جو کتابوں کا رسیا اسے موٹے سلک کا موٹی موٹی کڑھائی والا جوڑادینا حماقت ہے، اب یہ دونوں ہی کے لیے بیکار ٹھہرے۔لیکن اس کے پیچھے حقیقت یہی ہے کہ کسی کو تحفہ دیتےہوئے بازار کی بجائے الماریوں کا رخ کیا جاتا ہے۔

سارے زمانے کی فضول خرچیوں کے بعد جب کسی کے گھر سے کوئی بلاوا آتا ہے، جہاں تحفہ لے جانا رسم دینا میں شامل ہو تو ہم ایلین (Alien) بننا پسند کرتے ہیں۔ یعنی کچھ خواتین مریخی مخلوق بنتے ہوئے کہتی ہیں: ارے ہمیں پتا ہی نہیں تھا کہ لین دین کا بھی سلسلہ ہوگا....ورنہ....ورنہ کے آگے عموماً دھمکی ہوتی ہے۔ یہاں ورنہ کے آگے وہ خواہش جو محض زبانی کلامی ہے اور جس کا حقیقت میں ڈھلنے ڈھلانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ورنہ، تقریب کے بعد کوئی اپنا نیا گھر یاجس بچے کی سالگرہ ہے ،اُس کو اٹھا کے دوسرے سیارے پہ تو نہ جا بیٹھےگا۔ آپ اسے اگلی ملاقات میں بھی تحفہ دے سکتی ہیں، مگر دینا ہو تب ناں!

ایک صاحبہ نے اپنے بچے کے عقیقے کے بعد تحائف کے پیکٹ کھولنے شروع کئے تو بدبو سے دماغ پھٹنے لگا۔ کسی معصوم کی الٹی کی تیز مہک سے بھرپور چھ عدد بب اور تولیہ سیٹ پیکٹ سے برآمد ہوئے۔ تولیہ سیٹ ہلکے ہلکے رنگوں کے تھے جن کی وجہ سے ان کے کناروں پہ لگا میل کافی کھل رہا تھا۔ پتا چلا کہ کوئی خاتون اپنے بچوں کا استعمال شدہ سامان، تحفے کے نام پہ ان کو تھما گئیں۔ اس پورے پیکٹ میں صرف گفٹ پیپر نیا تھا۔محلے داریوں میں ایک دوسرے کے گھر کوئی اچھی چیز پکا کے بھیجنا بھی اچھے گھرانوں کے رسم و رواج اور لین دین کا اہم حصہ تھا، مگر اب اس میں بھی بد اخلاقی اور کنجوسی نے گھن لگانا شروع کردیا ہے۔ پہلے گھر میں کوئی بھی اچھی چیز پکے، پڑوس میں ضرور بھیجی جاتی تھی،اب گھر میں کوئی چیز بری پکتی ہے تو نیا بگھار لگا کے پڑوس میں بھیج دی جاتی ہے۔کبھی کبھی تو محلے میں ایک گھر سے آنے والا حلیم یا بریانی دو تین گھروں کا سفر کرتی واپس وہیں پہنچ جاتی ہے، جہاں سے چلی تھی۔صابرہ کے گھر سے بریانی آئی تو سلمی کو بھیج دو، اس نے ایک دفعہ مرچوں بھرا قورمہ بھیجا تھا۔سلمی نے عالیہ کو بریانی بھیجی کہ اس کے حلوے کا بوجھ اتار پھینکنا چاہتی تھی۔ عالیہ نے جوں کی توں پلیٹ اٹھا کے صابرہ کو بھیج دی کہ اس کے بھیجے افطار کا احسان اترے یوں بریانی وہیں جا پہنچی جہاں سے چلی تھی۔

لین دین کا ایک اہم حصہ عیدی بھی ہے،جو انتہائی خوشگوار اور بڑوں، بچوں کے بیچ رشتہ مضبوط کرنے والی رسم تھی۔پرانے زمانے میں بڑے بچوں کو عیدی دیا کرتے تھے ، مگر افسوس ! اب بڑے رہے نہیں، نہ عمر میں نہ عمل میں۔بڑے کہتے ہیں: لو بھئی ہم کہاں سے عیدی دینے والوں میں شامل ہوگئےَ ہم تو ابھی تک لینے والوں کی عمر میں ہی ٹہل رہے ہیں یا جو بہت بڑے ہوگئے ہیں وہ کہتے ہیں۔ آج کل کے بچوں کے پاس تیس تیس ہزار کے موبائل اور بیس بیس لاکھ کی گاڑیاں ہیں،بھلا ہمارے سو پچاس کی عیدی ان کے کس کام کی؟حالانکہ بات عیدی کی رقم کی نہیں، جذبے کی ہوتی ہے۔ کوئی کسی کو تحفہ دیتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ اس کے پاس کسی چیز کی کمی ہے۔ 

کسی نے کسی کو کپڑوں کا ایک جوڑا دے دیا تو اسے عمر بھر کے لیے کپڑوں کی فکر سے نجات مل گئی یا مٹھائی کا ڈبہ دے دیا تو اس کی برسوں کی ترس ختم ہوگئی۔ ایسا نہ تو ہے نہ ہی ایسا سوچنا چاہیے،بلکہ اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ ہمارے دئیے ہوئے تحفے سے کسی کی خوداری کو ٹھیس نہ پہنچے، کیونکہ تحفے تحائف محبت بڑھانے کے لیے دئیے جاتے ہیں۔خواہ رشتے داروں کے بیچ ہوں یا محلے داروں اور دوستوں کے درمیان، استعمال شدہ، خراب، بے کار اور تکلیف دہ تحفے دے کے ہم کسی پہ احسان کا نہیں اپنے اوپر بوجھ لادلیتے ہیں۔ دوسرا ہمیں کنجوس، بد اخلاق اور بے مروت کا جو خطاب دیتا ہے، ان خطابات کا بوجھ۔ اسی طرح دوسرے کے لیے مٹھائی، سلامی، عیدی وغیرہ بچا کے ہم جو چالاکی دکھاتے ہیں، وہ چالاکی نہیں ہمارے دل کی تنگی ہوتی ہے، جو ہم دوسروں کو دکھاتےہیں۔

بقر عید کا گوشت تقسیم کرنے کی کتنی اچھی روایت ہے کہ گوشت کے تین حصے کئے جائیں۔ ایک غریبوں کا، ایک رشتے داروں اور محلے داروں کا، تیسرا خود رکھا جائے۔ یہاں اب گوشت کے حصے صرف ڈیپ فریزر کے مختلف حصوں میں رکھنے کے لیےکیے جاتے ہیں اور رشتے داروں محلے داروں کے حصہ میں کچھ آتا ہے تو صرف قربانی کے جانور کے لمبے چوڑے ہونے کے قصیدے۔ ہر جانور میں کچھ نہ کچھ ہڈیاں اور چربی تو ضرور ہوتی ہے، وہی گھر کی ماسی، جمعدار اور دھوبی کو بانٹ کر تسلی کی جاتی ہے کہ غریبوں کا حصہ بانٹ دیا گیا۔ 

خود ہمارے گھر کچھ ایسے بکروں کا گوشت آیا، جو شاید اپنی زندگی میں صرف پلاسٹک کھاتے ہوںگے، گائے بھی غالباً کاغذ کی۔ ایک نئی منطق یہ دیکھنے میں آئی کہ ہم کیوں بانٹیں؟ خاندان کے ہر گھر میں قربانی ہوئی ہے۔ اس خوشی میں رشتے داروں کا حصہ اپنے فریزر میں ٹھونس لیا، حالانکہ جانور میں رشتے داروں کا حصہ ہوتا ہے۔ بکرے گائے مہنگے اور تعلق سستے ہوئے جاتے ہیں۔ مزے کی بات یہ کہ اگلے چھ ماہ تک وہ گوشت کھانے کا منصوبہ باندھنے والی یہ بھی کہتی پائی جاتی ہیں کہ ہمارے گھر تو کوئی مٹن یا بیف کھاتا ہی نہیں ہے،پھر ڈیپ فریزر کے اندر جانے کون سے بھوت بیٹھے ہوتے ہیں، جو سب کا سب گوشت اندر ہی اندر کھا جاتے ہیں۔

خوشی کی بات ہے کہ برانڈڈ کپڑوں جوتوں کی شاپنگ مال میں لوگ بھرے پڑے ہیں۔ لیکن غم کی بات یہ ہے کہ یہی لوگ اپنے رشتے داروں، محلے داروں کو کوئی اچھی چیز دینے لینے کی روادار نہیں،پھر فضول خرچی ہمارے اپنے ہی لیے کیوں؟ کنجوسی ،کفایت شعاری اور بجٹ کے سارے سبق دوسروں سے لین دین کے وقت کیوں؟اور کسی کو ایک تحفہ، سلامی، خوشی پہ مٹھائی، بیماری پہ پھل، بقر عید پہ گوشت یا پڑوسی کو کچھ اچھا کھانا بھیجوادینا ایسی کوئی بڑی بات نہیں جس کے لیے لمبی چوڑی سوچ بچار کی جائے۔ 

حساب کتاب کے کھاتے کھولے جائیں، کیلنڈر پہ نشان لگائے جائیں، پرانی ڈائریاں کھنگالی جائیں اور انگلیوں پہ جوڑ توڑ کیا جائے۔اپنے لیے ہزاروں کےکپڑے جوتے خریدتے وقت تو لمحوں میں فیصلہ کرتے ہیں۔ کیا یہ فیصلہ اتنا ہی مشکل ہے؟پھر یہ شکوہ غلط اور بے بنیاد ہے کہ رشتے اور تعلق میں سرد مہری اور ملاقاتوں میں بے زاری آگئی ہے۔ یہ سرد مہری ہم نے خود خریدی ہے....اپنی کنجوسی کے عوض۔ یقین کریں کہ تھوڑی سی بچت کے عوض ہم نے بڑی مہنگی خریدی ہے۔

اور نتیجہ یہ ہوا کہ :

پیسے بچ گئے، تعلق نہ بچا!