• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن کی پٹیشن دائر

میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف اپوزیشن کی پٹیشن دائر


اپوزیشن جماعتوں نے جنگ اور جیو نیوز کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کے خلاف پٹیشن دائر کردی، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام (ف) اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے مشترکہ طور پر اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی گئی ہے۔

اپوزیشن کی تینوں بڑی جماعتوں کے رہنماؤں شاہد خان عباسی، احسن اقبال، شاہدہ اختر، عبدالاکبر چترالی کا نام پٹیشنز میں شامل ہے، جبکہ پٹیشن میں وفاق پاکستان، چیئرمین پیمرا اور چیئر مین نیب کو فریق بنایا گیا ہے، اپوزیشن نے پٹیشن آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت دائر کی ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ آزادی اظہارِ رائے، اطلاعات تک رسائی آئین کے آرٹیکل17 کا لازمی حصہ ہے اور آزاد عوام کی حکومت کی بنیاد اظہارِ رائے کی آزادی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: تصدیق کےابتدائی مرحلےمیں گرفتاری کا کیا جواز تھا؟ عدالت

مختلف سیاسی جماعتوں کے ارکان نے مفاد عامہ میں پٹیشن دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ میڈیا ریاست کا چوتھا ستون ہے اور آرٹیکل 4، 9، 10 اے، 14 ، 15، 16، 17، 18، 19 اور 19 اے اظہارِ رائے کے ضامن ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ اظہار رائے، میڈیا کی آزادی جمہوریت کا لازمی تقاضا اور جزو ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ نیب نے آئین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے سربراہ کو گرفتار کیا۔

درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ نیب نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کر کے میرشکیل الرحمٰن کو گرفتار کیا جبکہ میر شکیل الرحمٰن پر دباؤ تھا کہ نیب پر تنقید نہ کریں۔

یہ بھی پڑھیے: میر شکیل الرحمٰن سے اہل خانہ کو ملاقات کی اجازت

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی گئی درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ شاہزیب خانزادہ کے پروگرام پر خاص طور پر نیب کو اعتراض تھا۔

درخواست گزاروں نے موقف اپنایا کہ میرشکیل الرحمٰن نے غیر قانونی حکم نہ مانا اور نیب، پیمرا کے دباؤ کے باعث جنگ، جیو نے لاہور ہائیکورٹ میں پٹیشن دائر کی تھی۔

درخواست گزاروں نے کہا کہ وفاق، خیبرپختونخوا اور پنجاب حکومت نے جنگ، جیو، ڈان گروپ کے اشتہارات پر پابندی لگادی، جبکہ 34 سال پرانے پلاٹ خریدنے کے  معاملے پر نیب نے میرشکیل الرحمٰن کو نوٹسز بھی جاری کیے، تاہم میر شکیل الرحمٰن نے تمام دستاویزات نیب کو دیں لیکن انہیں گرفتار کرلیا گیا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ کیبل آپریٹرز نے وفاقی حکومت اور پیمرا کے حکم پر جیو کی نشریات دکھانا بند کردیں اور جیوکی نشریات معاون خصوصی اطلاعات کی پریس کانفرنس کے بعد بند کی گئیں جبکہ جیو پہلے جس نمبر پر نشر ہورہا تھا، اسے بھی تبدیل کردیا گیا۔

درخواست گزاروں نے موقف اپناتے ہوئے عدالت سے استدعا کی ہے کہ موجودہ حالات میں سوائے عدالت کے داد رسی کے اور کوئی ذریعہ دستیاب نہیں، جبکہ عدالت میر شکیل الرحمٰن کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دے۔

اپوزیشن کی طرف سے دائر کی گئی درخواست میں استدعا کی گئی کہ جیو چینل کی اپنے پرانے نمبرز پر نشریات فوری طور پر بحال کی جائیں جبکہ عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لیے نگران کمیٹی بنائی جائے، حکومت اور پیمرا کے اقدامات کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔

درخواست گزاروں نے استدعا کی ہے کہ عدالت یہ قرار دے کہ حکومت، پیمرا جیو چینل کی فعالیت یقینی بنانے کی ذمہ داری نہیں نبھاسکی، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ عدالت حکومت اور پیمرا کو جیو ٹی وی چینلز کی نشریات میں مداخلت سے بھی روکے۔

تازہ ترین