آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

’کووِڈ 19‘ ایک معمولی وائرس کے سامنے پوری دنیا بے بس

’’نووِل کوروناوائرس، ووہان وائرس، کووِڈ19 ‘‘ گزشتہ دو، تین ماہ سے پوری دنیا ان ہی الفاظ کے گرد گھوم رہی ہے۔ چین کے شہر ووہان سے پھیلنے والی یہ وبا اب دنیا کے قریباً 185ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے چُکی ہے۔جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والے اس وائرس کے خاتمے کے لیے تاحال کوئی ویکسین تیار نہیں کی جا سکی ہے۔ کووِڈ 19کیا ہے، کیوں، کس طرح پھیلا ،وغیرہ وغیرہ پر تو بہت کچھ لکھا جا چُکاہے اور انٹرنیٹ پر مسلسل اَپ ڈیٹس بھی آ رہی ہیں۔ سو، ہم اس حوالے سے بات نہیں کریںگےکہ ہمارے ذہن میں تو کئی دوسری باتیں گردش کر رہی ہیں۔ جیسے جب وائرس پھیلاتو ’’انٹرنیٹ مفتیان‘‘، اسلام کے نام نہاد ’’عَلم برداروں‘‘ نے ’’گیان‘‘ بانٹنا شروع کردیا، ’’ حرام گوشت کھانے والوں پر اللہ کا عذاب ہے، چینی باشندوں کے ساتھ ٹھیک ہو رہا ہے، شُکر ہے ہم ایسا کچھ نہیں کھاتے ۔‘‘ وغیرہ وغیرہ جیسے لاتعداد جملے سُننے اور پڑھنے کو ملے۔ لیکن کیا ہمارے ذہنوں میںایک بار بھی یہ خیال آیاکہ جب حرام گوشت کھانے والوں کا اتنا بُرا حال ہو سکتا ہے، تو حرام مال کھانے والوں پر اس عذاب کی نوعیت کیا ہوگی؟؟ کئی لوگ تو وائرس کو ’’یہودی سازش‘‘ بھی کہتے نظر آئے اوراب دنیا بھر کی تمام تر نظریں انہی یہودیوں پرگڑی ہیں کہ وہ کب ویکسین تیار کرکے ہمیں اس مصیبت سے باہر نکالیں۔ ہم دوسروں پر الزام ، کفر کے فتوے لگانے میں توکسی سے پیچھے نہیں ، لیکن کبھی اپنے گریبان میں جھانکنے کی توفیق نہیں کرتے۔ مطاف میں داخلے پر پابندی، خانۂ کعبہ کا خالی منظر ہم سب کے دِلوں کو تو چیر رہا ہے، لیکن اپنے اعمال میں تبدیلی پھر بھی نہیں لارہے۔ 

بچپن سے یہی سکھایا گیا کہ حقوق العباد میں کوتاہی نہیں برتنی کہ اللہ پاک اپنے حقوق تو معاف کردے گا، لیکن بندوں کے نہیں، پر یہاں تو معاملہ ہی اُلٹ ہے ، جیسے ہی پاکستان میں کورونا وائرس کا پہلا کیس رپورٹ ہوا، حکومت کی جانب سے سیفٹی الرٹ اور گھر بیٹھنے کی ہدایات جاری کی گئیں،فوراً سے پیش تر 10، 20 روپے کے ماسکس 300سے لے کر ہزار روپے تک کے کر دئیے گئے، سینیٹائزرز نایاب ، ہینڈ واش مارکیٹ سے غائب ہوگئے، جو اب 900روپے تک میں فروخت ہورہے ہیں۔ ذخیرہ اندوزی کا یہ عالم کہ اسٹورز کے اسٹورز خالی ہوگئے، لوگوں نے اس قدر راشن بھر لیا ، گویا ’’ذخیرہ اندوزی‘‘ ہی کو وِڈ 19کی ویکسین ہو۔ یہاں سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ وہ موم بتّی مافیا ، لبرلز ااور مغربی ممالک ، جو پردے ، حجاب کو ’’قید‘‘ سمجھتے تھے، وہ بھی خود کو پوری طرح ڈھانپے گھوم رہے ہیں، فیشن شوز تک میں ماڈلز منہ ڈھانپے، شٹل کاک عبائے کی طرز کے ملبوسات میں نظر آرہی ہیں۔اب کوئی کہے ناں ’’میرا جسم، میری مرضی‘‘ کہ اُس ربّ ِ کائنات ، اُس پاک ذات نے پوری دنیا کو دکھا دیا کہ دنیا بھی اُس کی، مرضی بھی اُس کی۔

پاکستان میں کورونا وائرس متاثرین کی تعدادتادَم ِ تحریر 500 تک پہنچ چُکی ہے، جب کہ اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ لمحۂ فکریہ یہ ہے کہ اب جن افراد میں اس بیماری کی تشخیص ہو رہی ہے، ان کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں۔ یہی وجہ ہے، لوگوں کو مسلسل گھروں میں رہنے کی تلقین کی جا رہی ہے، کئی ملٹی نیشل کمپنیز نے نفع ، نقصان کی پروا کیے بغیر اپنے ملازمین کو چُھٹی دے دی ہے کہ جان ہے، تو جہان ہے۔ کورونا کے حوالے سے عوام کے ذہنوں میں کئی سوالات،کئی باتیں گردش کر رہی ہیں۔آئیے، ذیل میں درج نکات کے ذریعےدنیا بھر کے طبّی ماہرین کی آراء، ہدایات، احتیاطی تدابیر وغیرہ سے آگاہی کی کوشش کرتے ہیں۔

کورونا وائرس: اہم علامات اور پھیلاؤ

کو وِڈ 19یا کورونا وائرس بظاہر بخار سے شروع ہوتا ہے، جس کےبعد خشک کھانسی، گلے، جسم میں شدید درد اورایک ہفتے بعد سانس لینے میں دشواری جیسی علامات ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔بعض متاثرہ افرادکی حالت اتنی خراب ہوجاتی ہے کہ انہیں فوری طور پراسپتال لے جانا پڑتا ہے۔ واضح رہے کہ عمومی نزلہ، زکام کے برعکس اس انفیکشن میں ناک بہنے اور چھینکنے کی علامات انتہائی کم سامنے آئی ہیں۔ووہان یونی وَرسٹی کے زہونگنان اسپتال میں کی گئی ایک تحقیق میں 140 مریضوں کا جائزہ لیا گیا ، جس سے پتا چلا کہ وائرس کی بنیادی علامت بخار ہے ، جو تحقیق میں شامل 99فی صدمریضوں میں دیکھنے میں آئی۔50فی صد سے زائد مریضوں میں تھکاوٹ اور خشک کھانسی دیکھی گئی ،ایک تہائی نے جوڑوں میں درد اور سانس لینے میںشدید تکلیف کی شکایت کی۔ واضح رہے کہ ابتدائی علامات سامنے آنے کے قریباً پانچ دن بعد کورونا میں مبتلا مریض کو سانس لینے میں دشواری شروع ہوجاتی ہے، جب کہ دیگر علامات میں عام نزلہ زکام، سردرد یا گلے میں تکلیف شامل ہیں۔ محقّقین کا کہنا ہے کہ 14 مریضوں نے بخار یا سانس لینے میں مشکلات سے ایک ، دودن قبل دست اور متلی کی بھی شکایت کی، جن میں سے 15 فی صد میں نمونیے کی بھی تشخیص ہوئی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ ہاضمے کی خرابی کی علامات والے ایک مریض کو سرجیکل ڈیپارٹمنٹ بھیجا گیا ، کیوں کہ عموماً ان علامات کو روایتی کورونا وائرسز کے ساتھ نہیں جوڑا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ اس ایک مریض نے اسپتال میں موجود کم از کم 4مریضوں کو متاثر کیا اور ان سب میں ہاضمے کی خرابی کی علامات ظاہر ہوئیں۔

تاہم ، اس تحقیق کو حتمی نہیں کہا جا سکتا اور اب بھی اس حوالے سے مزید تحقیقات کی ضرورت ہے۔ فی الحال ، سائنس دانوں کا خیال ہے کہ کورونا وائرس ممکنہ طور پر کھانسی یا چھینک سے خارج ہونے والے ذرّات یا تھوک کے ذریعے ایک سے دوسرے فرد میں منتقل ہوتا ہے۔محقّقین نے یہ بھی انکشاف کیا کہ آئی سی یو میں داخل مریضوں کو پیٹ درد اور کھانے کی خواہش کم ہونے کی شکایات کا سامنا ،ایسے مریضوں کی نسبت زیادہ ہوا، جو عموماً صحت مند رہتے تھے۔یاد رہے، تحقیق میں شامل 140 مریضوں میں سے قریباً 30 فی صد طبّی عملے کے افراد تھے۔

پہلے سے بیمار افراد کیسے بچیں…؟؟

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ نووِل کورونا وائرس کسی کو بھی ہوسکتاہے، لیکن ضعیف العُمر، بچّوں اورایسے افراد کو زیادہ خطرہ ہے جو پہلے ہی سے کسی بیماری میں مبتلا ہیں ۔اسی لیےہلاک ہونے والوں میں زیاہ تعداد معمّر افراد کی ہے،ان میں بھی وہ افراد زیادہ شامل ہیں، جو پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا تھے۔ا گر آپ پہلے ہی سے بیمار ہیں، تو اس کا ہر گز مطلب یہ نہیں کہ آپ ہر صُورت کووِڈ 19 کا شکار ہوجائیں گے۔ البتہ، آپ کو خطرہ زیادہ ہے، تو زیادہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ دَر حقیقت، بڑی عُمر کے افراد اور پہلے سے صحت کے مسائل میں مبتلا افرادکی(جیسے ذیابطیس، دَمے یا دل کی بیماری کے شکار افراد) قوّتِ مدافعت کم زورہوتی ہے، اسی لیے وائرس ان پر جلدی حملہ آور ہوسکتا ہے۔

دَمےکے مرض کے لیے کام کرنے والے ایک برطانوی ادارےکا کہنا ہے کہ’’دَمے کے مریض اپنے (بھورے رنگ کے) انہیلر کا استعمال جاری رکھیں، اس سے آپ کو کورونا وائرس سے دَمے کے اٹیک کا خدشہ کم ہوجائے گا۔ علاوہ ازیں، اپنانیلے رنگ کا انہیلر بھی ہر وقت ساتھ رکھیں تاکہ ضرورت پڑنے پر استعمال کر سکیں، جب کہ برطانوی ڈاکٹر ،ڈین ہاورڈ کا کہنا ہے کہ’’ جن لوگوں کو ذیابطیس ہے، انہیں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ لاحق ہے۔‘‘یعنی اگر آپ ذیابطیس کا شکار ہیں اور آپ کو کھانسی، تیز بخار یا سانس لینے میں دشواری ہورہی ہے، تووقت ضایع کیے بنا طبّی معائنہ کروائیں کہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ حاملہ خواتین کو اس صُورتِ حال میں اپنا بے حد خیال رکھنا چاہیے، گوکہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی واضح ہدایات تو جاری نہیں کی گئیں لیکن بنیادی احتیاطی تدابیر لازماً اختیار کریں۔ پبلک ہیلتھ چیریٹی کی سربراہ، ڈیبرا آرنٹ کا کہنا ہے کہ ’’تمباکو نوشی کرنے والے افراد کو کوشش کرنی چاہیے کہ اس عادت کو کم از کم کچھ دنوں کے لیے ترک کردیں ۔سگریٹ پینے والوں کو پھیپھڑوں کے انفیکشن اور نمونیے کا خطرہ عام لوگوں کے مقابلے میں دو گنا زیادہ ہوتاہے۔‘‘نیز، برطانوی ادارے ،چلڈرنز کینسر اینڈ لیوکیمیا گروپ (سی سی ایل جی) نے کینسر کے مرض میں مبتلا بچّوں کے والدین سے کہا ہے کہ ’’وہ اپنے اپنے ڈاکٹرز سے رابطہ کریں تاکہ وہ انہیں ان کے بچّوں کے لیے احتیاطی تدابیر بتا سکیں۔‘‘یاد رکھیں کہ یہ وائرس متاثرہ شخص کی کھانسی، چھینک، تھوک سے پھیلتا ہے،تو پبلک ٹرانسپورٹ، دفاتر اور عوامی مقامات میں ہینڈ ریلنگز یا دروازے وغیرہ کوہاتھ لگانے سے پرہیز کریں کہ ممکن ہے کسی مریض کا وہاں سے گزر ہوا ہو۔ یاد رہے یہ وائرس خشک سطحوں (میٹل، شیشے، پلاسٹک)پر 8 سے 9دنوں تک فعال رہ سکتا ہے،اور کم درجہ حرارت میں مزید کئی دنوں تک۔ جب کہ انسانی جسم میں 37 ڈگری سینٹی گریڈ کے درجۂ حرارت پر زندہ رہتا ہے۔کھانسنے کے بعد ہوا میں تین گھنٹے تک رہ سکتا ہے، جب کہ ایک کھانسی سے 3000 تک قطرے خارج ہوتے ہیں۔ لہٰذا بار بار ہاتھ دھونے یا سینیٹائز کرنے کی عادت اپنائیں۔

ہر چھینکنے، کھانسنے والے کو مشکوک نظروں سے نہ دیکھیں

سردیاں گزر گئیں ، موسمِ گرما کی آمد آمد ہے، راتیں ٹھنڈی، مگر دن گرم ہیں۔ موسم کی یہ تبدیلی ہر سال ہی نزلہ، زکام کی ’’سوغات‘‘ لے کر آتی ہے۔ جسے دیکھوچھینکتا ، کھانستا ، ناک پونچھتا دِکھائی دیتاہے، لیکن عمومی اور موجودہ حالات میں یہ فرق ہے کہ اب معمولی نزلہ، زکام میں مبتلا شخص کو بھی ’’مشکوک‘‘ نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے۔بس میں سوار ہوں، ایک دَم کسی کو چھینک آجائے ، تو پہلے تو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں، پھر خود ہی دوری اختیار کرلیتے ہیں۔یعنی معمولی نزلہ، زکام کو بھی کورونا وائرس سمجھا جانے لگا ہے، یہ صرف ہمارے مُلک میں نہیں، دنیا بھر میں ہورہا ہےاور یہ ڈر آہستہ آہستہ ہمارے دل و ماغ میں سرایت کرتا جا رہا ہے، حالاں کہ یہ موسم فلو کا ہے ،پھر بھی لوگ فلو کے متعلق نہیں ، کورونا وائرس کے متعلق ہی بات کر رہے ہیں۔عالمی ادارۂ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق انفلوینزا یا فلو کی وجہ سے ہر سال قریباً 30 سے 50 لاکھ افراد شدید بیمار ہوتے ہیں، جن میں سے دو لاکھ 90 ہزار سے لے کر چھے لاکھ 50 ہزار تک متعدد سانس کی بیماریوں میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو جاتے ہیں۔ لیکن کبھی کوئی نزلہ، زکام کی وجہ سے خوف کا شکار نہیں ہوا۔ غور کریں، تو پتا چلتا ہے کہ فلو ایک انتہائی جان لیوا بیماری ہے، لیکن ہم ہمیشہ اس کے متعلق یہی کہتے ہیں کہ آرام کریں، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔ پر چوں کہ اب ہم پر کورونا وائرس کا خوف طاری ہو چُکا ہے ، اس لیے معمولی زکام ، کھانسی یا بخار کو بھی کورونا ہی سمجھ رہےہیں۔ یا د رکھیں، کورونا وائرس کی تشخیص میں 1 سے 14 دن لگ سکتے ہیںاور مریض کے لیے یہ بہت تکلیف دہ وقت اور پریشان کُن مرحلہ ہوتا ہے، موسمی فلو میں مریض قریباً ایک ہفتے میں ٹھیک ہو جاتا ہے۔نیز، عام نزلے کی علامات میں ناک بہنا، چھینکیں آنااور گلے کی سوزش وغیرہ شامل ہیں۔

فیس ماسک کا استعمال ضروری نہیں؟

فیس ماسک اس وائرس کے خلاف کارآمد ہےیا نہیں، اس حوالے سے کوئی مستند شواہد موجود نہیں۔تاہم، انفیکشن سے بچاؤ میں ماسک کا استعمال دنیا کے بہت سے ممالک میں مقبول ہے۔ بالخصوص کورونا وائرس کی حالیہ لہر میں تو اس کا استعمال خاصا بڑھ گیا،جس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ ماسک وائرس کی ہاتھوں سے منہ تک منتقلی روکنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔ البتہ عام افراد کی نسبت متاثرہ فرد کے لیے اس کا استعمال لازم ہے۔

افواہوں پہ کان نہ دھریں

کورونا کے منظرِ عام پر آتے ہی افواہوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوگیا۔جیسے ’’لہسن کھانے سے کورونا ختم ہوتا ہے، گرمی یا زیادہ درجۂ حرارت میں کورونا ختم ہوجائے گا، یہ بیماری مچھروں سے بھی پھیل رہی ہے، ہیئر اور ہینڈ ڈرائیر کی مدد سے کورونا ختم ہو سکتا ہے، بار بار ناک میں پانی ڈالنے سے کورونا کے جراثیم نہیں لگتے،گرم پانی پینے سے وائرس مر جاتا ہے، نمونیا کی ویکسین سے کورونا وائرس بھی ختم ہوجاتا ہے، نہار منہ گہرے سانس لے کر کورونا کی تشخیص کی جا سکتی ہےوغیرہ وغیرہ ‘‘لیکن عالمی ادارۂ صحت نے ان تمام باتوں کو محض من گھڑت قرار دیا ہے کہ اگر ان میں صداقت ہوتی، تو آج دنیا کے ترقّی یافتہ ممالک اس وبا سے اس قدر نقصان نہ اُٹھا رہے ہوتے۔

خود ساختہ تنہائی یا سوشل ڈیسٹینسنگ

خود ساختہ تنہائی کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو دنیا سے الگ کر لیں۔ یہ اس صُورت ہوگا ، جب آپ کسی مُلک سے سفر کرکے آئے ہوں، آپ کے ساتھ کام کرنے والے کسی شخص یاخاندان کے کسی فرد میں اس وائرس کی تشخیص ہوئی ہو، یا آپ میں کووِڈ 19 کی علامات ظاہر ہونا شروع ہو گئی ہوں۔ جیسا کہ گزشتہ دنوں کینیڈا کے وزیرِ اعظم نےاہلیہ میں نووِل کورونا کی تشخیص کے بعد کچھ دنوں کے لیے خود ساختہ تنہائی اختیار کرلی تھی کہ کہیںان میں بھی وائرس داخل نہ ہوگیا ہو۔ پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے مطابق ،خود ساختہ تنہائی میں آپ کو گھر پر ایک کمرے میں رہنا ہو گا، دفتر، اسکول یا عوامی مقامات پر نہیں جا سکتے اور ٹیکسی یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر بھی نہیں کر سکتے۔نیز، گھر کے باقی لوگوں سے بھی دور رہنا ہو گااور آپ کو کھانا وغیرہ بھی دروازے پر رکھ کے دیا جائے گا لیکن واضح رہے کہ یہ تمام اقدامات یا خود ساختہ قرنطینہ صرف اُسی وقت اختیار کرنے کی ضرورت ہے، جب کسی شخص کی کوئی ٹریول ہسٹری ہو، کسی مریض سے رابطے کا امکان ہو یا کسی کو تیز بخار،فلویا خشک کھانسی کی شکایت ہو، تو کم از کم سات دن تک گھر پر رہنا چاہیے۔البتہ متاثرہ علاقے سے سفر کر کے آنے والے افراد کو 14 دن تک قرنطینہ میں رہنے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ دوسری جانب، ایسے افراد جو خود ساختہ تنہائی میں رہنے والوں کے ساتھ رہتے ہیں، انہیں چاہیے کہ اپنے ہاتھ صابن اور پانی سے باقاعدگی سے کم از کم 20سیکنڈ زتک دھوئیں۔ قرنطینہ میں رہنے والے افراد کی اشیائے ضروریہ استعمال کرنے سے گریز کریں۔ بیت الخلا تک الگ ہونا چاہیے۔ اور اُن کا کچرا وغیرہ تھیلوں میں ڈال کر الگ رکھ دینا چاہیے۔ خدانخواستہ اگر ان کا ٹیسٹ مثبت آجائے، تو طبّی عملہ بتائے گا کہ اس کچرے کا کیا کرنا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کی ہدایات

٭اپنے ہاتھ جراثیم کُش صابن یا ہینڈ واش سے کم از کم 20 سیکنڈز تک دھوئیں۔

٭کھانستے یا چھینکتے ہوئےمنہ کو ڈھانپ لیں اور اس کے فوری بعد ہاتھ دھوئیں۔

٭اپنی آنکھوں ، ناک اور منہ کو چھونے سے گریز کریں۔

٭ایسے لوگوں کے قریب مت جائیں ،جو کھانس رہے ہوں، چھینک رہے ہوں یا جنہیں بخار ہو۔ایسے افراد سے کم از کم ایک میٹر یعنی تین فیٹ کا فاصلہ رکھیں۔

٭اگر بخار کے ساتھ کھانسی یا سانس لینے میں دشواری محسوس ہوتو فوری طبّی امداد حاصل کریں۔