آپ آف لائن ہیں
جمعہ13؍شوال المکرم 1441ھ 5؍جون 2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

سندھ کے دیگر شہروں کی طرح ضلع شکارپور میں بھی خودساختہ پیدا کیے گئے گندم اور آٹے کے بحران کا بھانڈا پھوٹنے لگا۔شکارپور سمیت دیگر اضلاع میں گندم کے بحران کے بعد ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائیاں تیز کی گئیں تو کہیں سےکروڑوں روپے مالیت کی ہزاروں گندم سے بھری بوریاں برآمد ہوئیں تو کہیں ہزاروں گندم کی بوریاں غائب پائی گئیں۔چھاپوں کے دوران لاکھوں کی تعداد میں بوریوں کے اندر بھوسا،مٹی اور کنکربھرے پائے گئے۔گندم کی ہزاروں بوریاں سرکاری گوداموں کے اندر پڑے پڑے سڑ رہی ہیں جن میں گھن لگ رہا ہے۔اس سلسلے میں حاصل کردہ معلومات کے مطابق جب دس ماہ قبل قومی احتساب بیورو کی جانب سے مختلف اضلاع میں گندم کے گوداموں میں کاروائیاں کی گئیں تو محکمہ خوراک کےافسران کی ملی بھگت سے 120 کروڑ روپے سے زائد کی کرپشن سامنے آنے کے بعد کھلبلی مچ گئی۔اس کے بعد یہ بھی انکشاف ہوا کہ شکارپور میں بھی محکمہ خوراک کےگوداموں کے اندر گزشتہ چار برسوں سے رکھی ہوئی ہزاروں من گندم گھن لگنے کے باعث ناقابلِ استعمال ہوچکی ہے۔

گھن لگی ہوئی گندم کی بوریاں جن میں سے گندم نکال کران میں آدھے سے زیادہ مٹی اور کنکر ملاکر وزن پورا کرکے رکھا گیا تھا۔ جس کے بعدانتہائی تشویشناک بات یہ بھی سامنے آئی تھی کہ محکمہ خوراک کےسرکاری گودام سے کروڑوں روپے مالیت کی گندم غائب کردی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق پچھلے برس مئی کے مہینے میں جب محکمہ خوراک سندھ کےگندم کی نئی خریداری نہ کرنے کے اعلان کے بعد بھی شکارپور کے سرکاری گودام میں گندم کی غیرقانونی نقل وحرکت دیکھی گئی تھی۔

جس پر ڈی ایف سی شکارپور محمد اشرف کیریو نےاُس وقت تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی دوسرے ضلع سے گندم کی آمد کے کوئی احکامات نہیں ہیں۔ کچھ عرصہ خاموشی سے گزرنے کے بعد ہدف پورا ہونے کی خبروں کے باوجود سندھ میں اچانک آٹے کا بحران پیدا ہونے کے باعث چالیس روپے کلو فروخت ہونے والا آٹا ساٹھ اور ستر روپے کلوکے حساب سے فروخت ہونے لگا۔ اسی خودساختہ پیدا شدہ بحران کی وجہ سے حکومت سندھ کی عدم توجہی کے باعث جہاں عوام الناس کو شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا وہیں معاشی پریشانیاں بھی سامنے آئیں۔

رواں برس کے پہلے ہی ماہ میں ڈی ایف سی شکارپورکی جانب سے اہم بیان سامنے آیا جس میں انہوں نے کہاتھا کہ سرکاری گودام سے گندم سے بھری 70ہزار بوریاں غائب ہیں،جن کی مالیت کروڑوں روپوں بنتی ہے۔جس کی اطلاع انہوں نے حکامِ بالا کو کردی ہے جس کی محکمانہ تحقیقات کی جارہی ہے۔اس کے بعد ڈی ایف سی شکارپور محمد اشرف کیریو نے اپنی سربراہی میں انسپکٹرپیر عابد سرہندی،انسپکٹرمحمد مٹھل مگسی،انسپکٹرعلی اکبر گھمرو سمیت چار رکنی ٹیم تشکیل دے کرفلور ملوں اور آٹا چکیوں کو گندم دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔اس کے ساتھ ہی ڈی ایف سی شکارپور نے گودام انچارج رفیق احمد کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں ہزاروں من گندم کی خوردبرد کرکے محکمہ خوراک کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانےکا مقدمہ درج کرادیا۔

مقدمہ درج ہونے کے بعد اعلیٰ حکام کے احکامات پرسرکل افسراینٹی کرپشن شکارپورسعید احمد بھیو نے کنزیومر کورٹ کے جج سجاد نعیم گدی کے ہمراہ اپنی ٹیم کے ساتھ مل کر ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر کے دفتر وگودام پر چھاپہ مارا ۔سرکل افسر نے مجسٹریٹ کی موجودگی میں گندم کی خرید وفروخت کا گزشتہ تین سالہ ریکارڈ اپنی تحویل میں لیتے ہوئے گندم کی نقل وحرکت سمیت دیگر متعلقہ معاملات کی تفصیلات بھی اپنے قبضے میں لے لیں۔ حاصل کردہ ریکارڈمیں بتایا گیا ہے کہ گوداموں میںکروڑوں روپے کی کرپشن ہوئی ہے۔اینٹی کرپشن کے سرکل افسر کے مطابق اس معاملے میں ملوث افراد کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔ اگر وہ اپنی صفائی دینے کے لئے حاضر نہ ہوئے تو ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرکے مزید تفتیش کی جائے گی۔

اس سلسلے میں ڈی ایف سی شکارپور محمد اشرف کیریو نے بتایا کہ گودام انچار ج کی بدعنوانیوں کے باعث پانچ ماہ قبل فزیکل چیکنگ کے دوران سو کلوگرام والی گندم کی 70ہزار بوریاں غائب تھیں،جن کی تعداد اب بڑھ کر اسی ہزار ہوگئی ہے، جس کی مالیت تقریباً تیس کروڑ روپے بنتی ہے۔ تحقیقات جاری ہیں، جلد ہی تمام حقائق سامنے آجائیں گے۔ کیس میں ملوث گودام انچارج رفیق احمد نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے بتایا کہ میرے اوپر کروڑوں روپے کی گندم خوردبرد کرنے کا جو الزام لگایا گیا ہے وہ سراسر بےبنیاد ہے۔ضلعی افسر کی اجازت کے بغیر اسی ہزار بوریاں گودام سے اٹھانے والی بات بھی من گھڑت ہے۔افسران نےاپنی کرپشن کو چھپانے کے لئے مجھ پر جھوٹے الزامات لگاکر مجھے پھنسانے کی سازش کی ہے۔

اسی دوران گندم سے بھرے دو ٹرکوں کے جیکب آباد کے راستے کوئٹہ منتقلی کی اطلاعات پراسسٹنٹ کمشنر جواد لاڑک کی جانب سےچھاپہ مارکر ڈرائیوروں سمیت ٹرکوں کو تھانہ اسٹورٹ گنج کی پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ دوسری جانب محکمہ خوراک میں ہونے والے کروڑوں روپے کے گھپلے کی تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے مجسٹریٹ کی جانب سے موجودہ ڈی ایف سی محمد اشرف کیریو سمیت سابقہ پانچ ڈی ایف سیز اور گودام انچاج رفیق احمد مفتی کو اپنی صفائی پیش کرنے کے لئے طلب کیا گیا ۔جن میں سے موجودہ ڈی ایف سی اور سابقہ دو ڈی ایف سیز وشوداس اور منور علی میرانی نے اپنے بیانات قلمبند کرائےجبکہ دیگر غیر حاضر رہے۔ملک میں آٹے کا مصنوعی بحوان پیدا کرنے والوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے ، اب دیکھنا یہ ہے کہ اس سارے قضیے کا انجام کیا ہوتا ہے۔

جرم و سزا سے مزید
جرم و سزا سے مزید