آپ آف لائن ہیں
منگل 10؍ شوال المکرم 1441ھ 2؍ جون 2020ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

مجھے ایک طالبعلم نے اپنی آن لائن کلاس کی ایک وڈیو بھیجی ہے۔ ٹیچر ڈگری لیول کا میتھس پڑھا رہے تھے لیکن اسکرین پر کچھ نہیں تھا، کوئی نوٹس نہیں تھے، بس ایک گروپ کال میں سارے طلبہ موجود تھے اور ٹیچر لکھے، دکھائے بغیر صرف بولتے جا رہے تھے۔ میں نے بھی یونیورسٹی میں میتھس پڑھا ہے اور جو ٹاپک ٹیچر پڑھا رہے تھے وہ میں نے بھی پڑھ رکھا ہے، لیکن دنیا کا کوئی تیس مار خان ہی کیوں نہ ہو، یہ تصور ہی ممکن نہیں کہ کچھ لکھا ہوئے دیکھے بغیر صرف آڈیو کے ذریعے ہی لیکچر سمجھ آ جائے۔ جب اسی وڈیو میں ایک بچے نے کوئی سوال کیا تو اُس کو چُپ کرا دیا گیا۔میں نے پورے لیکچر کی وڈیو دیکھی ہے اور یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر کوئی میتھس کا پروفیسر بھی ہو تو وہ بھی اس لیکچر سے کچھ نہیں سمجھ پائے گا۔ شاید زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ پاکستان کی ایک نامور یونیورسٹی کا منظر تھا۔

آن لائن لرننگ کا تصور نیا نہیں ہے، جب سے انٹرنیٹ آیا ہے، یہی سوچا گیا ہے کہ ایک دن ایسا آئے گا جب لوگ گھر بیٹھ کر تعلیم حاصل کر لیں گے، امتحان دے لیں گے اور یونیورسٹی سے ڈگری لے لیں گے۔ اسی طرح کہا گیا کہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے بعد کلاس روم ڈیجیٹل ہو جائے گا اور پُرانے کلاس روم کی ضرورت نہیں رہے گی لیکن جیسے دیگر بہت سے خیالات کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا سکا، اسی طرح آن لائن کلاس روم اور آن لائن لرننگ بھی ایک حد تک محدودہی رہی اور اُس سے آگے نہیں چل سکی لیکن اب جب سے کورونا کی وبا پھیلی ہے، تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسز کا انتظام کر لیا ہے تاکہ وقت بھی ضائع نہ ہو اور اِس مشکل وقت میں ان کے تعلیمی سفر میں خلل بھی نہ آئے۔ اب چار و ناچار پاکستان سمیت دنیا بھر میں آن لائن لرننگ کا بھرپور تجربہ کیا جا رہا ہے لیکن اتنے کم ٹائم میں یہ امید رکھنا کہ ایک اچھا آن لائن کورس بن جائے گا، حماقت کے سوا کچھ نہیں۔ جو ادارے معیاری آن لائن تعلیم دیتے ہیں، ان کو کورس بنانے سے اُس کی ڈیلیوری تک کا سافٹ ویئر بنانے کیلئے کئی کئی سال درکار ہوتے ہیں۔ پِھر اُس کے امتحانات کے طریقہ کار اور دیگر پہلوئوں کو اچھی طرح ڈیلیور کرنے میں مزید وقت اور محنت درکار ہوتی ہے۔ اس سب کے بعد بھی یہ ایک حد تک ہی مقبول ہو پائے ہیں تاہم اِس میں ہمارے سسٹم کی محدودیت کا عنصر بھی نمایاں ہے۔ اب پاکستان میں ہمارے تعلیمی اداروں کو کسی نہ کسی طرح آن لائن کلاسز شروع کرنا پڑ رہی ہیں کیونکہ تعلیمی ادارے کورونا وائرس کے باعث لمبے عرصے کے لیے بند ہیں۔ ویسے سننے میں تو یہ ایک بہت اچھا قدم ہے جس کی وجہ سے طلبہ کا وقت ضائع نہیں ہوگا لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔

بہت سارے طلبہ نے مجھے میسجز بھیجے اور ای میلز کی ہیں کہ ان کی آن لائن کلاسز ان کے لیے بالکل بھی فائدہ مند نہیں ہیں بلکہ وقت بچانے کے بجائے یہ ان کے وقت کا ضیاع ہے اور انہیں اِس بات کا خدشہ ہے کہ انہیں کہا جائے گا کہ یہ کورس تو آپ کو آن لائن پڑھا دیا گیا تھا، حالانکہ ان کو اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوا۔ طلبہ کا کہنا ہے کہ بعض اساتذہ آن لائن لیکچرز میں نوٹس شیئر کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں اسائنمینٹس کر لو۔ اِس سے ان کے بہت سارے سوالات رہ جاتے ہیں۔ کچھ اساتذہ صرف کلاس کی سلائیڈز بچوں کو دے دیتے ہیں جس سے کوئی خاص فائدہ نہیں پہنچتا۔ پِھر کہیں آن لائن کلاسز کا وہ حال ہے جس کا میں نے کالم کے شروع میں تذکرہ کیا۔ پھر مِس مینجمنٹ بھی ہے، کچھ طلبہ نے کہا کہ آن لائن کلاسز کئی دنوں سے چل رہی ہیں لیکن ہمیں اُس کی ایکسیس (رسائی) ہی نہیں دی گئی۔ پھر کچھ طلبہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے گھر کے انٹرنیٹ کی اسپیڈ ہی اتنی سست ہے کہ وہ کلاسز کا درست طریقے سے حصہ نہیں بن پا رہے اور کچھ بیچارے طلبہ ایسے غریب گھرانوں سے ہیں جہاں ایک یا دو کمروں میں پُورا خاندان رہتا ہے اور ان کے گھر میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں پر وہ آن لائن کلاسز لے سکیں۔

اِس میں صرف تعلیمی اداروں کا مسئلہ نہیں ہے، طلبہ یہ بھی مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ بہت سے طلبہ غیر سنجیدہ بھی ہیں، کہیں کلاس روم گروپ چیٹ میں گالم گلوچ اور مذاق چل رہا ہوتا ہے اور کہیں کلاس کو اتنا ڈسٹرب کیا جاتا ہے کہ کلاس ہی نہیں ہو پاتی۔ یقیناً تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے لیکن اِس سب کا نتیجہ یہ ہے کہ موجودہ آن لائن کلاسز ہمارے بچوں کے لیے بالکل فائدہ مند ثابت نہیں ہو رہیں۔ جہاں بہت سارے بچے اپنے سمسٹر یا اسکولوں کی فیسیں بھی ادا کر رہے ہیں، یہ ان کے ساتھ اور ان کے والدین اور کچھ حد تک اساتذہ کے ساتھ بھی زیادتی ہے۔ اتنے کم ٹائم میں معیاری آن لائن کلاسز ترقی یافتہ ممالک کیلئے بھی آسان نہیں، پاکستان تو دور کی بات ہے۔ یقیناً کچھ ادارے یا اساتذہ اچھی طرح آن لائن کلاسز بھی کرا رہے ہوں گے لیکن وہ اقلیت میں ہیں۔ طلبہ کا اِس طرح ٹائم ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ حالات بہتر ہونے تک یہ کلاسز ملتوی کر دی جائیں، کیونکہ وقت بچانے کے نام پر محض خانہ پُری کے لیے آن لائن کلاسز میں وقت اور معیار دونوں ضائع کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔(کالم نگار کے نام کیساتھ ایس ایم ایس اور واٹس ایپ رائے دیں00923004647998)

تازہ ترین