آپ آف لائن ہیں
جمعہ12؍ربیع الاوّل 1442ھ 30؍اکتوبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

میری نیت صاف ہے، پاکستان ٹیم کو بلندیوں پر لے جانے کیلئے پرعزم ہوں، مصباح الحق

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اپنے کام کے لیے ان کی نیتیں صاف ہیں، ٹیم کو بلندیوں پر لے جانے کے لیے پرعزم ہوں۔ 

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر دور کی طرح اس دور میں بھی سازشی مفروضوں پر باتیں ہوتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر فواد عالم کی ٹیم کو ضرور ہوئی تو اسے ضرور کھلایا جائے گا۔ کپتان گیارہ رکنی ٹیم میں شامل ہوتا ہے کپتان کی موجودگی میں ہر چیز کی ذمے داری قبول کرتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ کوچ اور چیف سلیکٹر کی حیثیت سے میں نے اپنے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر نہیں کی ہوئی لیکن میرے لیے پاکستان ٹیم کے ساتھ ہر دن اہم ہے۔

مصباح کا کہنا تھا کہ میں یہ نہیں سوچ رہا کہ بورڈ ایک سال بعد میرے لیے کیا فیصلہ کرے گا کیونکہ ہر کسی کی کارکردگی بورڈ کے پاس ہے۔ 

ہیڈ کوچ و چیف سلیکٹر کا کہنا تھا کہ میری نیت صاف ہے اور کوشش کر رہا ہوں کہ پاکستان ٹیم کو بلندیوں کی جانب لے کر جاؤں۔

ان کا کہنا تھا کہ نہ مجھے حارث سہیل کی میچ فیس ملے گی اور نہ میرے حصے میں فواد عالم کے ریکارڈ آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ جو کھلاڑی پاکستان ٹیم کی ضرورت ہیں اسے ضرور موقع دیا جائے گا۔

مصباح الحق نے کہا کہ محمد حفیظ کو شرجیل خان کے بارے میں میڈیا میں بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے تھا، کیونکہ جب آپ کسی کھلاڑی کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کر رہے ہوں تو اُس سے متعلق ایسی باتیں نہیں کرنا چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ محمد حفیظ کی تجویز پر سوچ و بچار کی ضرورت ہے، ہمارے ملک میں تعلیم کی کمی ہے اسی لیے بہت سارے کھلاڑی پیشکش کو رپورٹ نہ کرنے پر پھنس جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا پر حساس معاملات کو ڈسکس کرنے سے گریز کرنا چاہیے، وسیم خان اور حفیظ کی بات چیت میں غلط فہمیاں دور ہوگئی ہوں گی۔

مصباح الحق نے واضح کیا کہ محمد حفیظ کے بارے میں وسیم خان کے ردِعمل سے یہ تاثر لینے کی ضرورت نہیں ہے کہ وہ مستقبل میں پاکستان ٹیم میں شامل نہیں ہوں گے۔

ہیڈ کوچ نے کہا کہ ستمبر میں جب میں نے چارج لیا تھا تو ہمیں کچھ چیلنجز کا سامنا تھا، سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ ٹیسٹ کرکٹ میں کس طرح واپس آنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے لیے مثبت پہلو نوجوان شاہین شاہ اور نسیم شاہ کی کارکردگی تھی، ٹی ٹوئنٹی میں بھی نوجوانوں کی کارکردگی اچھی رہی جبکہ بابر اعظم کی کپتانی بہتری کی جانب جارہی ہے۔

کھیلوں کی خبریں سے مزید