آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

عالی ادارہ صحت کا کورونا سے مرنے والوں کی تدفین کے لیے ہدایت نامہ

عالی ادارہ صحت کا کورونا سے مرنے والوں کی تدفین کے لیے ہدایت نامہ


عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس کے باعث مرنے والوں کی تدفین کے لیے ہدایت نامہ جاری کردیا ہے۔

عالی ادارہ صحت کی جاری کی گئی ہدایات کے مطابق لواحقین اور دوست ایک میٹر کی دوری سے جنازے کو دیکھ سکتے ہیں لیکن لاش کو ہاتھ نہیں لگا سکتے نہ ہی چوم سکتے ہیں، جنازہ دیکھنے کے بعد بھی اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح صابن سے دھوئیں۔

اس بات کو یقینی بنائیں کہ خاندان کے افراد ہر ممکن حد تک میت سے دور رہیں، بچوں اور 60 برس کی عمر کے افراد کو تدفین میں شرکت نہیں کرنی چاہیے۔

ایسے افراد جن کو سانس، دل اور ذیابیطس کی بیماری ہے یا جن کا مدافعتی نظام کمزور ہے ان کو بھی کفن دفن میں شریک نہیں ہونا چاہیے، کم سے کم تعداد میں لوگوں کو تدفین میں شرکت کرنی چاہیے اور دور سے دیکھنے والوں کو بھی کم سے کم 1 میٹر کا فاصلہ رکھنا چاہیے۔

ہدایت نامے میں مزید کہا گیا ہے کہ تدفین بروقت مقامی طریقوں کے مطابق کی جانی چاہئے، تدفین کے بعد کی تقریبات، وبا کے خاتمے تک ملتوی کردی جائیں۔

مردہ کو غسل دینے والے شخص کو ہاتھوں میں دستانے پہننے چاہئیں، پانی کے چھینٹوں سے بچنے کے لیے طبی ماسک پہننا چاہیے اور آنکھیں بھی ڈھانپنی چاہئیں، مردہ کو غسل دینے کے بعد پہنے ہوئے کپڑے فوراً ہٹادیں اور اچھی طرح سے دھو لیں۔

اور اگر کسی اور شخص نے کفن دفن کے دوران مدد کی ہے تو دوسرے شخص کو بھی تدفین کے بعد اپنے ہاتھوں کو صابن اور پانی سے اچھی طرح دھونا چاہیے۔

طبی عملہ، مردہ خانہ کا عملہ اور تدفین کرنے والے گورکن احتیاطی تدابیر اپنائیں، مردے کو ہاتھ لگانے سے پہلے دستانے پہنیں، طبی ماسک کا استعمال کریں، مردہ کے جسم کی نقل و حرکت کم سے کم رکھیں، لاش کو کپڑوں میں لپیٹ کر اسے جلد سے جلد مردہ خانے میں منتقل کریں۔

پوسٹ مارٹم کرنے والوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے کہ کورونا وائرس سے مرنے والوں کے پھیپھڑوں اور دوسرے اعضا میں کورونا موجود ہوتا ہے، پوسٹ مارٹم کم سے کم افراد کو کرنا چاہیے، پوسٹ مارٹم کرنے والے افراد کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے، جس میں حفاطتی گاؤن، دستانے، چہرے کی حفاظتی ڈھال اور چشمہ شامل ہیں۔

خاص رپورٹ سے مزید