• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ اور معاشی بحران کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں عید کی خوشیاں ماند پڑ گئیں

فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا
فوٹو بشکریہ بین الاقوامی میڈیا 

مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک میں جاری جنگوں، نقل مکانی اور شدید معاشی بحران نے عیدالفطر کی روایتی خوشیوں کو متاثر کر دیا ہے، لبنان، غزہ اور ایران میں لاکھوں افراد اس سال عید سادگی، خوف اور غیر یقینی کی صورتحال میں منا رہے ہیں۔

عرب میڈیا ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق لبنان کے دارالحکومت بیروت میں شامی مہاجر بے گھر ہو چکے ہیں اور ساحلی علاقے میں کھلے آسمان تلے رات گزارنے پر مجبور ہیں, وہ پہلے جنوبی بیروت کے علاقے ضاحیہ میں رہتے تھے جو اسرائیلی حملوں میں شدید متاثر ہوا۔ 

لبنان میں جاری حملوں کے باعث ایک ہزار سے زائد افراد شہید جبکہ دس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ عید منانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اِن کی پہلی ترجیح صرف محفوظ پناہ گاہ تلاش کرنا ہے، شہر کے مہنگے ساحلی علاقے اب بے گھر افراد کے خیموں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔

ادھر ایران میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں اور پہلے سے جاری معاشی بحران نے عوام کی قوتِ خرید تقریباً ختم کر دی ہے، تہران کے تاریخی بازار کو نقصان پہنچنے کے باعث خریداری خطرناک بن گئی ہے، بعض ایرانی شہری مذہبی تقریبات سے بھی دور رہ رہے ہیں جبکہ فارسی نیا سال نوروز پر زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔

اسی طرح جنگ زدہ غزہ میں بھی صورتحال مزید سنگین ہے، اسرائیلی پابندیوں اور جنگ کے باعث خوراک اور روزمرہ کی اشیاء کی قیمتیں انتہائی بڑھ چکی ہیں۔

غزہ سٹی کے رہائشی خالد دیب جو پہلے سپر مارکیٹ کے مالک تھے، اب پھل اور سبزیاں خریدنے کی استطاعت بھی نہیں رکھتے۔

’الجزیرہ‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پہلے عید پر خاندان کو تحائف دیتے تھے مگر اب بنیادی ضروریات بھی پوری کرنا مشکل ہو گیا ہے، موجودہ حالات میں عید صرف امیروں کے لیے رہ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق تین بچوں کی ماں شیرین شریم نے ’الجزیرہ‘ کو بتایا کہ دو سالہ جنگ کے بعد لوگ تباہ شدہ گھروں اور خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جس کی وجہ سے عید کی خوشی ادھوری محسوس ہوتی ہے۔

دوسری جانب بیروت کے سیاسی محقق کریم صفی الدین کا کہنا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود خاندان اور سماجی یکجہتی ہی لوگوں کو امید دیتی ہے، اجتماعی تعاون کے بغیر جنگ زدہ معاشرے دوبارہ تعمیر نہیں ہو سکتے۔

خاص رپورٹ سے مزید