ایک حالیہ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ صرف 24 منٹ کے لیے موسیقی سننا اضطرابی کیفیت و بے چینی کی علامات کو نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے۔
تحقیقی مقالہ جرنل پی ایل او ایس مینٹل ہیلتھ میں شائع ہونے والی تحقیق کے مطابق ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے سائنسدانوں نے 144 شرکاء پر تحقیق کی، جن میں درمیانی درجے کی بے چینی و اضطراب تھا۔
شرکاء کو چار گروپوں میں تقسیم کیا گیا، پہلے گروپ کو 24 منٹ کے لیے پنک نوائس (جسے کنٹرولڈ بارش یا سمندر کی آواز) سنائی گئی، دوسرے کو 12 منٹ کے لیے آڈیٹری بیٹ اسٹیمولیشن (اے بی ایس) موسیقی، تیسرے کو 24 منٹ کے لیے اور چوتھے کو 36 منٹ کے لیے اے بی ایس موسیقی سنائی گئی۔
نتائج سے پتہ چلا کہ پنک نوائس کے مقابلے میں اے بی ایس کے ساتھ موسیقی نے اضطراب (انزائٹی) کے اثرات سے متاثرہ دماغی اور جسمانی علامات دونوں میں بہتری دکھائی۔ 24 منٹ کا سیشن سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوا، اس نے 36 منٹ کے سیشن سے بہتر کام کیا اور 12 منٹ کے سیشن سے نمایاں بہتری دکھائی۔
تحقیق کے شریک مصنف اور ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے نفسیات کے پروفیسر فرینک روسو نے کہا کہ ہم ایک ڈوز ریسپانس پیٹرن دیکھ رہے ہیں، جہاں تقریباً 24 منٹ کی موسیقی کے ساتھ ABS سب سے موزوں وقت معلوم ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ اتنا طویل ہے کہ بے چینی کی سطح میں واضح فرق آ سکے، لیکن اتنا بھی طویل نہیں کہ سامعین کو زیادہ وقت مختص کرنا پڑے۔
تحقیق کے مطابق بے چینی و اضطراب سے دنیا بھر میں لاکھوں افراد متاثر ہیں اور اس کا علاج دوا اور تھراپی سے ممکن ہے، تاہم یہ طریقے وقت طلب، مہنگے یا ضمنی اثرات کے حامل ہو سکتے ہیں۔