آپ آف لائن ہیں
جمعہ18؍ربیع الثانی 1442ھ 4؍دسمبر2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

جب سے اللہ ربّ العزت نے یہ دنیا قائم کی ہے اُسی وقت سے انسان ہمیشہ آزمائش کا شکار رہا ہے اور اس کو ارضی و سماوی آفات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ارضی آفات میں ہم سیلاب، زلزلہ وغیرہ شمار کرسکتے ہیں لیکن سماوی آفات میں وہ آفات شامل ہیں جو اللہ ربّ العزت ہمیں آزمانے اور اپنی قوت کے اظہار کے طور پر ظاہر کرتا ہے۔ دونوں سے بچنے کیلئے ایک ہی دُعا ہے یعنی:

نصر مّن اللہ و فتحٌ قریب۔ وبشّرالمومنین فاللہ خیرٌ حافظا، وھو الرّحمن الرحیم۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ آفات خواہ ارضی ہوں یا سماوی‘ انسان بہت سخت امتحان کا شکار ہو جاتا ہے۔ کلامِ مجید میں اللہ تعالیٰ نے لاتعداد ایسی آفات کا ذکر کیا ہے جو اس نے گنہگاروں پر نازل کیں اور ان کو نیست و نابود کردیا۔ اس وقت سب سے بڑی آفت کورونا وائرس ہے صبح سے شام تک ہم تبصرے، اعداد وشمار اور اس وائرس کی رنگین تصاویر دیکھتے ہیں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ بے ضرر نظر آنے والے گول گول کھلونے بچوں کو خوش کرنے کیلئے بنائے گئے ہیں۔ آپ دیکھ رہے ہیں وہ ممالک جو اپنے آپ کو سائنس اور ٹیکنالوجی کے چوہدری سمجھتے ہیں وہی سب سے زیادہ اس وقت عتابِ الٰہی کا شکار ہیں۔اس وبا کا ایک اچھا اثر یہ ہوا کہ غیر مسلم بھی اللہ کی جانب رجوع کرنے لگے۔ ہم نے دیکھا کہ چینی صدر ایک مسجد میں تشریف لے گئے اور وہاں امام اور نمازیوں سے درخواست کی کہ وہ اللہ سے دعا مانگیں کہ یہ وَبا ختم وبرباد ہوجائے۔ اسپین میں جہاں یورپ بلکہ مغربی دنیا میں سب سے زیادہ اموات ہوئیں اور جہاں 500 سال سے اذان دینے پر پابندی تھی، یہ پابندی اُٹھا لی گئی اور اب پورے ملک میں جہاں جہاں پرانی مساجد ہیں وہاں سے مسحورکن اذانوں کی آوازیں گونجنےلگیں۔ پھر ہم نے دیکھا کہ صدر ٹرمپ مسلمانوں سے اپنے اوپر دم کرا رہے ہیں۔ اللہ کا نظام دیکھئے جب انسان ہر طرف سے ناکام اورنامراد ہوتا ہے تو خودبخود اس کو اللہ تعالیٰ یاد آنے لگتا ہے۔ہمارے اہلِ ایمان بھی فلاحی کاموں میں مصروف ہیں۔ ذرائع ابلاغ کے ذریعے اس وبا سے نمٹنے کے لاتعداد نسخے ہمارے پاس پہنچے ہیں ان میں دیسی نسخوں کے کرشموں کی بھرمار ہے ممکن ہے کہ لوگوں کو اس سے فائدہ بھی پہنچ رہا ہو۔ دیسی نسخوں کے علاوہ ہومیوپیتھی دوائیں بھی مفید ہیں۔ میرے ایک عزیز دوست اور ماہر ہومیوپیتھی علاج ڈاکٹر فرید احمد نے اس بارے میں مجھے کچھ باتیں بتائی تھیں جوپیش کررہا ہوں۔ ان کی باتوں کا لب لباب یہ ہے کہ انسان کو چاہئے کہ اپنا مدافعتی نظام بڑھائے یہ سبز سبزیاں اور پھل کھانے سے بڑھتی ہے۔انہوں نےاہم مشورہ دیاہے کہ انسان کو قدرت کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو کر سکون قلب و دماغ حاصل کرنا چاہئے یہ بیماریوں کے خلاف دفاع کا بہترین علاج ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ پاک کی ذات سے نااُمید نہ ہوں کیونکہ اللہ کی ذات سے صرف کافر ہی نااُمید ہوتے ہیں۔

دیکھئے ان مشکل اوقات میں بھی ہمارے فلاحی ادارے پوری سرگرمی سے عوام کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔ نجی اسپتال اور کلینک اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر میرے پیارے عزیز دوست سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ محمد بشیر فاروقی عوام کی کھانوں، اناج، گوشت، دوائوں سے خدمت کررہے ہیں۔دیکھئے روشنیوں کے شہرکراچی کو یہ سعادت حاصل ہے کہ یہاں مختلف فرقوں کے لوگ رہتے ہیں اور ہر فرقہ اپنی برادری کی فلاح و بہبود کیلئے بے حد سرگرم رہتا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ استعداد رکھنے والے بفضلِ خدا میمن برادری ہے، اللہ تعالیٰ نے ان کو دین و دولت سے نوازا ہے اور ساتھ ہی فراخدلی سے بھی۔ میمن برادری والے سالانہ اربوں روپیہ فلاحی کاموں پر صرف کرتے ہیں۔ تعلیمی اور طبّی ادارے چلاتے ہیں اور غریبوں اور بیماروں کی دیکھ بھال میں مثالی کام کرتے ہیں۔ ان تمام کاموں کے ساتھ دل میں خوف خدا رکھتے ہے، نمازی، روزہ دار ہیں اور وقت پر زکوٰۃ بھی دیتے ہیں۔ اللہ پاک ان پر مہربان اور اپنی رحمتوں سے انہیں نوازتا رہے۔

آپ کو تھیلیسمیا کے مریضوں کیلئے خون کی فراہمی کے انتظام کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ آجکل ان مریضوں کیلئے دیے جانے والے خون کے عطیات میں خطرناک حد تک کمی ہوئی ہے۔ یہ بیماری موروثی ہے جو نسل در نسل بچوں میں منتقل ہوجاتی ہے۔ پاکستان میں ایک کروڑ سے زیادہ مریض اس مرض کے شکار ہیں۔یہ بیماری بغیر ازدواجی تعلق کے دوسرے شخص کو نہیں لگتی۔ اس کی دو قسمیں ہیں کبیرہ اور صغیرہ، اگر ماں یا باپ کو صغیرہ ہو تو بچوں کو صرف صغیرہ منتقل ہوگی،دراصل نہایت خطرناک حالت اس وقت پیدا ہوتی ہے کہ دو صغیرہ والے شادی کرلیں کیونکہ اس طرح کبیرہ بیماری بچوں میں چلی جاتی ہے اور ان کی زندگی جہنم بن جاتی ہے۔ باقاعدگی سے خون کی تبدیلی یا صفائی لازمی عمل ہوتا ہے اور ایسے بچے زیادہ عمر تک نہیں جیتے۔ اس بیماری میں تلّی پر سوجن اور خون کے سرخ ذرّات کی شکل بگڑ جاتی ہے۔ دعوت اسلامی نے ماشاء اللہ یکم اپریل تک 80 شہروں میں خون کے عطیات جمع کئے، 35 سینٹرز قائم کئے، اور اس دوران 3201 بوتلیں اچھے خون کی جمع کی ہیں۔ چند دن پیشتر جناب مولانا الیاس قادری، جناب احتشام پرویز اور چند رفقا تشریف لائے تھے اور اس مستحسن اقدام سے آگاہ کیا۔ اللہ پاک جزائے خیر دے۔ تھیلیسیما سے متعلق نہایت اہم اورمفید کام، میرے عزیز دوست، اسکول کے ساتھی سینیٹر عبدالحسیب خان نے قانون پاس کرایا ہے کہ شادی سے پہلے لڑکے اور لڑکی کے خون کا ٹیسٹ کیاجائے اورنکاح کے وقت وہ پیش کیا جائے تاکہ بچوں کو اس بیماری سے بچایا جا سکے۔

تازہ ترین