آپ آف لائن ہیں
جمعرات12؍شوال المکرم 1441ھ4؍جون2020ء
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Jang Group

HECنے کنسلٹنٹ کی بھرتی کیلئےقابلیت گھٹاکربی اے/بی ایس سی کردی

کراچی (سید محمد عسکری ) وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن نے پالیسی سازی کے امور میں کنسلٹنٹ کی بھرتی کے لیے قابلیت گھٹا کر بی اے/بی ایس سی کردی ہے ،ہائر ایجوکیشن کمیشن کے حالیہ اشتہار کنسلٹنٹ برائے انسٹی ٹیوشنل ریفارمز میں 10 سالہ تجربے کےساتھ تعلیمی قابلیت محض گریجویشن مانگی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جس نے کبھی یونیورسٹی میں پڑھا نہ ہواور صرف کالج ایجوکیشن حاصل کی ہویا پرائیویٹ امیدوار کے طور پر پڑھا ہو وہ انسٹی ٹیوشنل ریفارمز کے کنسلٹنٹ کے لیے اہل ہوجائے گا۔ کنسلٹنٹ برائے انسٹی ٹیوشنل ریفارمزکی خدمات ایک سال کے لیے لی جائیں گی اور اسے بازار کے مطابق معاوضہ دیا جائے گا ۔یاد رہے کہ گزشتہ سال اسٹرٹیجک پلاننگ، ہیومن ریسورس، سی پیک اکیڈمک اینڈ ریسرچ ڈیولپمنٹ یونٹ اور انفارمیش ٹیکنالوجی کے شعبہ جات میں بھی کنسلٹنٹ مقرر کیے گئے تھے جب کہ ایچ ای سی کی انتظامیہ نے کلینیکل سائیکولوجی کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے سابق وائس چانسلر پشاور یونیورسٹی ڈاکٹر ذوالفقار گیلانی کو بغیر کسی اشتہار کے کنسلٹنٹ کوالٹی ایشورنس ایجنسی مقرر کر دیا تھا ۔ واضح رہے کہ ماضی میں بھی ایچ ای سی میں من پسند افراد کو کنسلٹنٹ کے طور پر بھرتی کیا گیا اور انہیں برسوں بھاری معاوضے ادا کئے گئے۔ ماہرین کے مطاق اہم پالیسی کے امور کی انجام دہی ایچ ای سی کے 18 رکنی کمیشن کے ممبران نے سرانجام دینی ہوتی ہے اس کے علاوہ ایڈوائزرز، ڈی جییز اور ڈائریکٹرز کی پوری فوج کمیشن میں پہلے ہی موجود ہے جبکہ بھاری معاوضوں کے عوض اہم شعبہ جات میں نئے کنسلٹنٹ کی بھرتی موجودہ ایچ ای سی کے تجربہ اور مہارتوں پر عدم اعتماد کا اظہار ہے۔ جب کہ گزشتہ 18 ماہ سے ایچ ای سی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کی اہم ترین اسامی خالی ہے۔ ایچ ای سی کی ترجمان عائشہ اکرم کے مطابق ایچ ای سی میں تمام تقرریاں میرٹ پر کی جاتی ہیں اور متعلقہ قابلیت اور تجربہ رکھنے والے افراد کو اعلان کردہ اسامی کے معیار کے مطابق رکھا جاتا ہے۔ ایچ ای سی نے مہارت پر مبنی خدمات حاصل کرنے کے نظام کو وضع کر رکھا ہے جس کے مطابق امیدواروں کو یہ ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ کسی خاص ملازمت کے لئے درکار قابلیت رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ڈگری کی ضرورت صرف اسی صورت میں ہوتی ہے جب یہ کسی خاص قابلیت کے متعلق ہو۔
اہم خبریں سے مزید