• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

رمضان المبارک میں اصلاح حال، احتساب ذات

صدائے تکبیر … پروفیسر مسعود اختر ہزاروی
شعبان المعظم 1441 ؁ اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہر سال اس ماہ مبارک میں مساجد کی رونقیں بڑھ جا یاکرتی ہیں اس سال کورونا وائرس کی وجہ سے شاید معاملات مختلف ہوں لیکن پھر بھی ہم ہر گھر کو جائے نماز بنا کر اس ماہ مبارک کی رحمتوں سے بھرپور فیض حاصل کرسکتے ہیں۔ خیر و برکت، روحانی تربیت، اور احتسابِ ذات کا یہ با برکت مہینہ ’’رمضان المبارک‘‘ عنقریب جلوہ گر ہونے والا ہے۔ قدرتی طور پراس موسم میں مسلمانوں کے مذہبی جذبات میں تازگی آتی ہے اور عبادات کی طرف وفورِ شوق بیدار ہو جا تا ہے۔ رمضان المبارک قدرت باری تعالیٰ کا ایک انوکھا نرالا فیضان ہے جس میں علم و عرفاں، خود آشنائی اور خدا شناسائی کی موسلادھار بارش ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مسلمانوں کو دین سے وابستہ رکھنے کیلئے رمضان کے موسم بہار کا شاندار ماضی ہےاور بہار کے یہ لیل و نہار سلامت رہے تو انشا ء اللہ مستقبل بھی درخشاں ہے۔ یہ اسلامی سال کا نواں مہینہ ہے اس کے روزوں کی فر ضیت کا حکم شعبان المعظم 2ہجری میں آیا۔ اس طرح نبی کریمﷺ نے روزوں کی فرضیت کے بعد اپنی مبارک زندگی میں اللہ تعالیٰ کی تجلی ذات کے مظہر اتم ’’رمضان المبارک‘‘ کے نو سال گزارے۔ اسلامی کیلنڈر کے بارہ مہینوں میں سے صرف ایک رمضان المبارک کا ہی مہینہ ہے جس کا ذکر صراحت کے ساتھ قرآن پاک میں موجود ہے۔یقینا قرآن پاک کی رو سے روزہ کی مقصدیت حصولِ تقویٰ ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک شخص صبح صادق سے غروب آفتاب تک کھانے، پینے اور مباشرت وغیرہ سے اجتناب کرتا ہے تو اس سے متقی، پرہیزگار اور خشیت و للہیت کا حامل کیسے بن جائے گا؟ صورت حال یوں ہے کہ حالتِ روزہ میں کئی مواقع ایسے میسر آتے ہیں کہ ایک طرف بھوک اور پیاس کی شدت ہے تو دوسری طرف لذیذ اورخوش ذائقہ کھانے اور ٹھنڈے مشروبات بھی موجود ہیں۔ حالتِ خلوت ہے اور بظاہر دیکھنے والا بھی کوئی نہیں۔ دل میں کھانے کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور ہاتھ کھانے اور پینے کی طرف بڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن عین اسی وقت روز ہ دار کا ذاتِ باری تعالی پر غیر متزلزل ایمان اور یقین آڑے آجاتا ہے۔ اس کا ضمیر بیدار ہو جا تا ہے اور اسے جھنجھوڑ کر بتاتا ہے کہ تجھے وہ ذات دیکھ رہی ہے جو تیری شاہ رگ سے بھی قریب تر ہے۔ دل کی دھڑکنوں سے ایک آواز آتی ہے اور نادیدہ سی قوت اسے کھانے پینے سے روک دیتی ہے کہ تو حالت روزہ میں ہے لہٰذا اِس وقت یہ عمل تیرے لیے حرام ہے۔ کیونکہ تیرے مالک حقیقی نے اس سے اجتناب کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ اسی طرح یہ سلسلہ ہر روز حالت روزہ میں ایک طویل دورانیہ میں جاری رہتا ہے۔ پھر ایک مہینہ تک اس کی مشق ہوتی ہے جب یہ ماہ مبارک اپنے اختتام کو پہنچ جائے تو نفس امارہ اور شیطانی وساوس جب کسی حرام کی طرف رغبت دلائیں گے تو وہاں یہی مشق کام آئے گی۔ اُس کے دل سے آواز اٹھے گی کہ ’’تیرے رب ذوالجلال نے اسے تیرے لیے حرام کیا ہے لہٰذااس سے باز آجا‘‘ اور وہ اس سے رک جاتا ہے۔ یہی کیفیت قلبی جو دل میں نیکی کی الفت ومحبت اور گناہ کی نفرت کا جذبہ اور تڑپ پیدا کر دے ’’تقوی‘‘سے تعبیر کی جاتی ہے۔یہی روزہ کا مقصود اصلی ہے۔اگرچہ دیگر عبادات کا مقصد بھی حصول تقویٰ ہے لیکن ایک ماہ کے طویل عرصے تک تر بیت کی ایک خاص مشق کی امتیازی اور انفرادی حیثیت اسلام کے نظام عبادات میں صرف روزہ کو حاصل ہے۔ حدیث قدسی ہے ’’کل عمل ابن آدم لہ الا الصیام فانہ لی و انا اجزی بہ (بخاری۔ مسلم۔ نسائی بحوالہ ریاض الصالحین عن ابی ہریرۃ) کہ ’’اولاد آدم کا ہر عمل اس کیلئے ہے سوائے روزہ کے۔ یہ فقط میری خوشنودی کیلئے ہوتا ہے اور اس کی جزا بھی میں خود ہی دوں گا‘‘ اسی طرح آپﷺ نے ارشاد فرمایا ’’من صام رمضان ایمانا و احتسابا غفر لہ ما تقدم من ذنبہ‘‘ (بخاری، مسلم، احمد بحوالہ ریاضالسالحین) یعنی جس نے اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہوئے اور اس کی رضا جوئی کیلئے رمضان المبارک کے روزے رکھے، اس کے سابقہ تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔ایک اور پہلو بھی قابل توجہ ہے کہ جوشخص مخصوص اوقات میں اللہ کی خوشنودی کیلئے اور حکم الٰہی کی تعمیل میں عارضی طور پر اپنی خون پسینے اور حق حلال کی کمائی کو کھانے پینے اور جائز عمل مباشرت تک سے رک جاتا اور ایک ماہ تک اس کی تربیت پاتا ہے۔ اگر روزہ کے مفہوم کو حقیقی معنوں میں سمجھ کر اس نے روزے رکھے تو بعد از رمضان کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کسی حرام خوری کی طرف راغب ہو یاحرام کاری کی طرف جائے۔ علاوہ ازیں حالت روزہ میں یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ عارضی طور پر حرام کی ہوئی چیزوں سے تو بچے اورجو ہمیشہ کیلئے حرام ہیں (مثلا غیبت، جھوٹ، چوری چکاری، رشوت خوری، بد نظری یا بد دیانتی وغیرہ) ان سے باز نہ آئے تو پھر بھی روزہ کا وجود تو رہتا ہے لیکن اس کی روح پرواز کر جاتی ہے۔روزے کی منجملہ حکمتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہےکہ کسی کی زندگی اس قدر پر آسائش ہو کہ اسے کبھی بھوک اور پیاس کی شدت کا احساس ہی نہ ہوا ہو۔ بھوک لگی تو طرح طرح کے کھانے موجود اور حالت پیاس میں مشروبات دستیاب۔چونکہ روزہ ہر امیر و غریب پر فرض ہے اس لئے پیاس اور بھوک کی شدت کا احساس پا کر یقینا بھوکوں اور پیاسوں کی تکلیفوں کا احساس اجاگر ہوتا ہے۔ اسی سے سماج میں بھوکوں، پیاسوں اور غمزدہ لوگوں کو دیکھ کر ان کیلئے ہمدردی اور غمگساری کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ اس طرح روزہ معاشرتی طور پر بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی میں توازن اور حقوق العباد کی ادا ئیگی میں معان ثابت ہوتا ہے۔ آج کل کورونا وائرس کی وجہ سے لاک ڈاؤن میں روزے کے اس پہلو کو اجاگر کر کے نادار لوگوں کی مدد کی اشد ضرورت ہے۔ہمارے کتنے ہی اعزہ واقارب اور دوست احباب ہوں گے جو گزشتہ سال ہمارے ساتھ موجود تھے لیکن آج منوں مٹی کے نیچے قبروں میں مدفون ہیں۔ کچھ وہ بھی ہیں جنہیں ہم نے پچھلے سال صحیح سلامت دیکھا تھا لیکن آج وہ بستر علالت پر ہیں اور کچھ وہ بھی جو موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ کیا معلوم کہ عنقریب آ نے والا رمضان شریف کا مہینہ ہم میں سے کس کس کی زندگی کا آخری رمضان ہو۔ اس لئے آؤ کہ ان لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے خیر و خوبی کے ساتھ رمضان المبارک کا استقبال کریں۔ نہ جانے زندگی میں پھر یہ پر کیف ساعتیں نصیب ہوں کہ نہ ہوں۔ دعا ہے کہ مسلم امہ کیلئے یہ ہلال ِرمضان خیرو عافیت کا پیام لائے۔ کورونا وائرس کی وبا سے نجات ملے،اسلام کی عظمت رفتہ بحال ہو اور ہماری زندگیوں میں ایک مرتبہ پھر صبح پرنور کا سویرا طلوع ہو۔ 
تازہ ترین