• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی جنگی بحری جہاز پر ہر 21 دن بعد ایک ہی مینیو کیوں دہرایا جاتا ہے؟

— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا
— تصویر بشکریہ غیر ملکی میڈیا

امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن پر روزانہ تقریباً 5 ہزار 100 ملاحوں اور فضائی عملے کے لیے 17 ہزار 300 سے زائد کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ خوراک کی منصوبہ بندی ایک انتہائی منظم اور سائنسی عمل بن جاتی ہے۔

یہ طاقتور جنگی جہاز 21 روزہ شیڈول پر عمل کرتا ہے، جس میں ہر 3 ہفتوں بعد وہی مینیو دوبارہ دہرایا جاتا ہے۔

اس حکمتِ عملی کی بنیادی وجہ سمندر میں محدود وسائل، ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور باقاعدہ رسد (ری سپلائی) کے نظام سے جڑی ہوئی ہے۔

امریکی بحریہ کے زیرِ استعمال ایسے جہازوں کو باقاعدگی سے رسد فراہم کی جاتی ہے، ہر 7 سے 10 دن کے دوران معاون جہاز یا طیارے بڑی مقدار میں خوراک فراہم کرتے ہیں۔

چونکہ مینیو پہلے سے طے شدہ ہوتا ہے، اس لیے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کس چیز کی کتنی مقدار درکار ہو گی۔

21 دن کا یہ چکر ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور رسد کے نظام کے ساتھ بہتر طور پر ہم آہنگ ہے، خراب ہونے والی اور منجمد اشیاء کو احتیاط سے گردش میں رکھا جاتا ہے تاکہ ضیاع نہ ہو۔

یہ کھانے بے ترتیب نہیں ہوتے بلکہ ماہرینِ غذائیت کی نگرانی میں تیار کیے جاتے ہیں تاکہ طویل سمندری مشنز کے دوران ملاحوں کی صحت برقرار رہے، مردوں کے لیے یومیہ تقریباً 2,850 اور خواتین کے لیے 2,100 کیلوریز پر مشتمل خوراک ترتیب دی جاتی ہے، جبکہ چکنائی، نمک اور دیگر غذائی اجزاء کی بھی باقاعدہ نگرانی کی جاتی ہے۔

ماضی میں بحریہ تقریباً 1,200 مختلف اجزاء استعمال کرتی تھی، تاہم اب اسے کم کر کے تقریباً 500 بنیادی اشیاء تک محدود کر دیا گیا ہے۔

پہلے 35 دن کا مینیو سائیکل رائج تھا، جسے کم کر کے 21 دن کر دیا گیا ہے تاکہ کارکردگی میں بہتری لائی جا سکے۔

جہاز کے کچن 24 گھنٹے فعال رہتے ہیں کیونکہ عملہ مختلف شفٹس میں کام کرتا ہے، معمول کے کھانوں کے علاوہ مڈریٹس (آدھی رات کا کھانا) بھی فراہم کیا جاتا ہے، جو رات کی ڈیوٹی پر موجود عملے کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔

حال ہی میں کچھ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آبنائے ہرمز کے قریب تعینات 2 امریکی بحری جہازوں یو ایس ایس ابراہم لنکن اور یو ایس ایس تریپولی خوراک کی کمی کا شکار ہیں، تاہم امریکی بحریہ نے ان دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہازوں پر خوراک کی کوئی کمی نہیں اور تمام اہلکاروں کو مناسب مقدار میں کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔

خاص رپورٹ سے مزید